آزادی کا اصل مطلب

اسد احمد
14 اگست آنے میں صرف تین دن باقی تھے۔ پورا شہر سبز و سفید جھنڈیوں، قمقموں اور قومی پرچموں سے سج چکا تھا۔ بازاروں میں رش تھا، بچے ہاتھوں میں جھنڈیاں لیے گھوم رہے تھے، دکانوں سے ملی نغموں کی آوازیں آرہی تھیں اور ہر طرف جشنِ آزادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔
لیکن شہر کے ایک پرانے محلے کی تنگ سی گلی میں ایک چھوٹا سا مکان تھا، جہاں 65 سالہ حاجی عبدالرحمٰن خاموشی سے اپنے صحن میں بیٹھے آسمان کو دیکھ رہے تھے۔ ان کے سامنے ایک پرانا سا سبز ہلالی پرچم رکھا تھا۔ انہوں نے پرچم کو اٹھایا، اپنے ہاتھوں سے صاف کیا، پھر آنکھوں سے لگایا۔ اچانک ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اسی وقت ان کا بیٹا حمزہ گھر میں داخل ہوا۔ "ابا جان! آپ پھر رو رہے ہیں؟”
عبدالرحمٰن نے جلدی سے آنکھیں صاف کیں۔ "نہیں بیٹا… بس آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا۔” حمزہ مسکرایا۔ "ہر سال 14 اگست کے قریب آپ کی آنکھ میں یہی کچھ چلا جاتا ہے۔” عبدالرحمٰن خاموش ہوگئے۔
حمزہ نے پرچم کی طرف دیکھا۔ "ابا! یہ پرچم اتنا پرانا کیوں ہے؟ نیا لے آتا ہوں۔” بوڑھے باپ نے پرچم کو سینے سے لگالیا۔ "نہیں بیٹا… یہ پرچم نیا نہیں چاہیے۔” "کیوں؟” عبدالرحمٰن نے آہستہ سے کہا: "کیونکہ اس پر تیرے دادا کے خون کی خوشبو ہے۔” حمزہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ "کیا مطلب؟”
بوڑھا عبدالرحمٰن کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے کہنا شروع کیا: "آج سے بہت سال پہلے… جب پاکستان بنا تھا، میں صرف چند سال کا تھا۔ تیرے دادا میرے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک قافلے کے ساتھ پاکستان آرہے تھے۔”
"راستے میں حملہ ہوا۔ لوگ بھاگنے لگے۔ چیخیں بلند ہوئیں۔ عورتیں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے چھپ رہی تھیں۔” "تیرے دادا نے مجھے ایک درخت کے پیچھے چھپا دیا اور کہا…”
عبدالرحمٰن کی آواز بھرا گئی۔ "بیٹا! اگر میں واپس نہ آؤں تو ڈرنا نہیں… پاکستان پہنچ جانا۔” حمزہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
"پھر کیا ہوا ابا؟” عبدالرحمٰن نے سر جھکا لیا۔ "وہ واپس نہیں آئے۔” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
کچھ لمحوں بعد عبدالرحمٰن نے کہا: "میں کئی گھنٹے اس درخت کے پیچھے چھپا رہا۔ پھر ایک قافلہ آیا۔ ایک اجنبی آدمی نے مجھے اٹھایا اور کہا، بیٹا ڈرو نہیں… اب تم پاکستان جارہے ہو۔” "میں پاکستان پہنچ گیا… مگر تیرے دادا نہیں پہنچ سکے۔”
حمزہ نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ عبدالرحمٰن نے پرچم کو دیکھا۔ "بیٹا، ہم نے آزادی صرف تقریروں میں نہیں دیکھی تھی۔ ہم نے اسے لوگوں کو اپنا گھر، اپنی زمین، اپنے پیارے چھوڑتے دیکھا تھا۔”
"لوگوں نے اپنا سونا بیچا، گھر چھوڑے، رشتے دار چھوڑے، قبریں چھوڑیں… اور ایک امید لے کر پاکستان آئے۔” پھر وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
"مگر مجھے سب سے زیادہ دکھ کس بات کا ہے، پتا ہے؟” حمزہ نے سر اٹھایا۔ "کس بات کا؟” عبدالرحمٰن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
"یہ کہ ہم نے اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی بدولت آزادی تو لے لی… مگر ان کی قربانی کا مطلب بھول گئے۔” حمزہ خاموش تھا۔ عبدالرحمٰن نے کہا: "ہم 14 اگست کو پرچم خریدتے ہیں، گاڑیوں پر جھنڈے لگاتے ہیں، آتش بازی کرتے ہیں، ملی نغمے سنتے ہیں… لیکن کیا ہم کبھی اپنے دل سے پوچھتے ہیں کہ ہم پاکستان کے لیے کیا کر رہے ہیں؟”
"کیا ہم ایمان داری سے کام کرتے ہیں؟”، "کیا ہم کسی کا حق نہیں مارتے؟”، "کیا ہم رشوت نہیں لیتے؟”، "کیا ہم ملاوٹ نہیں کرتے؟”، "کیا ہم جھوٹ بول کر اپنے فائدے حاصل نہیں کرتے؟”، "کیا ہم اپنے والدین کو عزت دیتے ہیں؟”، "کیا ہم اپنے بچوں کو اچھا انسان بنارہے ہیں؟”، پھر اس نے قرآن مجید کی طرف دیکھا جو پاس ہی رحل پر رکھا تھا۔
"اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف نعمتیں نہیں دیں، ذمے داریاں بھی دی ہیں۔ قرآن ہمیں عدل، امانت اور نیکی کا حکم دیتا ہے۔” "بیٹا… وطن سے محبت صرف یہ نہیں کہ ہم کہیں ‘پاکستان زندہ باد’۔” "وطن سے محبت یہ بھی ہے کہ ہماری وجہ سے کسی غریب کی زندگی مشکل نہ ہو۔” "وطن سے محبت یہ ہے کہ ہم اپنی ڈیوٹی ایمان داری سے کریں۔” "وطن سے محبت یہ ہے کہ استاد تعلیم کو عبادت سمجھ کر دے، ڈاکٹر مریض کو انسان سمجھ کر دیکھے، تاجر دیانت داری سے کاروبار کرے، افسر رشوت کے بغیر کام کرے، مزدور حلال رزق کمائے اور حکمران عوام کو اللہ کی امانت سمجھیں۔” حمزہ کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔ اسی لمحے باہر سے بچوں کی آواز آئی: "پاکستان زندہ باد!”
عبدالرحمٰن نے مسکرا کر کہا: "دیکھا بیٹا… یہی بچے پاکستان کا مستقبل ہیں۔” پھر اس نے حمزہ کا ہاتھ پکڑا۔ "مجھ سے ایک وعدہ کرو۔”
"کیا؟”
"اس 14 اگست کو صرف جھنڈا نہیں لہرانا… اپنے اندر کا انسان بھی جگانا۔” حمزہ نے باپ کا ہاتھ چوم لیا۔ "وعدہ ہے ابا جان۔” عبدالرحمٰن نے آسمان کی طرف دیکھا۔ "یااللہ… جن لوگوں نے اس ملک کے لیے جانیں دیں، ان کی قربانی قبول فرما اور ہمیں ایسا پاکستان بنانے کی توفیق دے جس پر ہمارے شہداء کی روحیں بھی فخر کریں۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے سبز ہلالی پرچم اٹھایا اور اسے اپنے سینے سے لگالیا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ چہرے پر آنسو تھے… مگر لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ حمزہ نے حیرت سے پوچھا: "ابا! اب کیوں مسکرا رہے ہیں؟”
عبدالرحمٰن نے آہستہ سے جواب دیا: "کیونکہ آج پہلی بار مجھے لگ رہا ہے کہ شاید میں اپنے باپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کررہا ہوں۔”
"میں پاکستان میں زندہ ہوں… اور اب میری کوشش ہے کہ پاکستان بھی میرے کردار میں زندہ رہے۔” وہ رات گہری ہوتی گئی۔ گلی میں سبز جھنڈیاں ہوا میں لہراتی رہیں۔ اور اس چھوٹے سے گھر میں ایک بوڑھا باپ اپنے بیٹے کو آزادی کا اصل مطلب سمجھا کر سو گیا۔
اگلی صبح حمزہ نے بازار سے سب سے خوبصورت نیا پرچم خریدا۔ لیکن پرانا پرچم بھی ساتھ رکھا۔ کیونکہ اب اسے معلوم ہوچکا تھا کہ… پرچم کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہوتا۔کبھی اس میں کسی باپ کی جدائی ہوتی ہے، کسی ماں کے آنسو ہوتے ہیں، کسی بچے کا چھینا ہوا بچپن ہوتا ہے، کسی شہید کا خون ہوتا ہے اور کروڑوں لوگوں کی دعائیں ہوتی ہیں۔
ہم 14 اگست کو جشن ضرور منائیں… مگر ایک لمحے کے لیے خود سے یہ سوال بھی کریں: "اگر میرے وطن کو مجھ سے کچھ چاہیے ہو… تو کیا میں دینے کے لیے تیار ہوں؟” شاید ہماری آزادی کا سب سے خوبصورت جشن یہی ہوگا کہ ہم اپنے حصے کی بے ایمانی چھوڑ دیں، کسی کا حق واپس کردیں، والدین کے قدم چوم لیں، حلال رزق اختیار کریں، کسی غریب کا ہاتھ تھام لیں، اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کریں اور اپنے وطن کو صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے زندہ رکھیں۔ کیونکہ آزادی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں… آزادی اپنے ضمیر کو زندہ رکھنے کا نام بھی ہے۔ اور یاد رکھیے… جس قوم کے لوگ اپنے کردار کی حفاظت کرنا سیکھ جائیں، دنیا کی کوئی طاقت اس قوم کو غلام نہیں بناسکتی۔ پاکستان زندہ باد۔