علی گوہر لودھی کی سوانح عمری ’’گزارتا چلا گیا‘‘ کی تقریبِ رونمائی
کراچی: علی گوہر لودھی کی سوانح عمری ’’گزارتا چلا گیا‘‘ کی تقریبِ رونمائی فریئر ہال لائبریری، کراچی میں منعقد ہوئی، جس کی نظامت ان کی صاحبزادی معروف ٹی وی اینکر، اداکارہ اور ڈاکٹر شائستہ لودھی نے کی۔ تقریب میں معروف صحافی و مصنف مبشر میر، صحافی و فکشن نگار اقبال خورشید، صحافی مظہرعباس اور کتاب کے مصنف علی گوہر لودھی نے اظہارِ خیال کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شائستہ لودھی نے اپنے والد علی گوہر لودھی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات، مشاہدات، جدوجہد اور کامیابیوں کو کتاب کی صورت میں محفوظ کرکے آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اور خوبصورت تحفہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’گزارتا چلا گیا‘‘ محض ایک سوانح عمری نہیں بلکہ ایک ایسی زندگی کے تجربات اور یادوں کا مجموعہ ہے، جس سے نئی نسل بہت کچھ سیکھ سکتی ہے، اس لیے اس کتاب کو ہر شخص کو پڑھنا چاہیے۔

معروف صحافی و مصنف مبشر میر اور صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ اپنی سوانح عمری لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جن میں اپنے بارے میں سچ بیان کرنے کا حوصلہ اور ہمت ہو۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کے بارے میں سچ لکھنا نسبتاً آسان ہے، لیکن اپنی زندگی کے نشیب و فراز، کامیابیوں، مشکلات اور تجربات کو دیانت داری کے ساتھ قلم بند کرنا ایک بڑے حوصلے کا کام ہے۔ علی گوہر لودھی نے اپنی سوانح عمری تحریر کرکے ایک قابلِ قدر ادبی و تاریخی کام انجام دیا ہے۔
صحافی، فکشن نگار اقبال خورشید اور صحافی اور محقق محمد ظفران نے کتاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’گزارتا چلا گیا‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جسے ہماری آنے والی نسلوں کو لازمی پڑھنا چاہیے۔ اس کتاب میں زندگی کے مختلف تجربات، حالات اور جدوجہد کے ایسے پہلو موجود ہیں جو نوجوان نسل کے لیے رہنمائی اور سبق کا باعث بن سکتے ہیں۔

کتاب کے مصنف علی گوہر لودھی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنی زندگی کے مختلف مراحل، تجربات اور کتاب تحریر کرنے کے محرکات پر روشنی ڈالی اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی زندگی کے سفر کو کتابی شکل دینے کا مقصد اپنے تجربات اور یادوں کو محفوظ کرنا اور انہیں آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے۔
تقریب میں علی گوہر لودھی کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب، کراچی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ فریئر ہال لائبریری کے سربراہ رانا مظہر بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ شرکاء نے کتاب کی اشاعت کو ایک مثبت اور قابلِ تحسین کاوش قرار دیتے ہوئے علی گوہر لودھی کو مبارک باد پیش کی۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ’’گزارتا چلا گیا‘‘ کو زندگی کے تجربات، جدوجہد اور یادوں کو محفوظ کرنے والی ایک اہم کاوش قرار دیتے ہوئے اس کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔