چراغ جو بجھا نہیں

غلام مصطفیٰ

سمندر کے کنارے ایک پرانی لائٹ ہاؤس عمارت تھی۔ دن کے وقت وہ سفید پتھروں کا ایک خاموش مینار دکھائی دیتی، مگر رات ہوتے ہی اس کی چوٹی پر جلنے والا چراغ دُور سمندر میں سفر کرنے والے جہازوں کے لیے راستہ بن جاتا۔ اس لائٹ ہاؤس کا نگہبان سلیم تھا۔ اسے وہاں رہتے ہوئے بائیس برس گزر چکے تھے۔ اس کی ذمے داری صرف ایک تھی۔ رات کے مقررہ وقت چراغ روشن کرنا اور اس وقت تک اسے جلتا رکھنا جب تک آخری جہاز خطرناک چٹانوں سے گزر نہ جائے۔ لوگ اکثر اس کے کام کو معمولی سمجھتے۔ ایک دن شہر سے آئے ایک نوجوان نے پوچھا، "تم ساری عمر یہی چراغ جلاتے رہے ہو؟”
سلیم مسکرایا، "ہاں۔”
نوجوان ہنس کر بولا، "اتنے برسوں میں تم نے کیا حاصل کیا؟ نہ تمہیں کوئی بڑا عہدہ ملا، نہ شہرت، نہ دولت۔”
سلیم نے سمندر کی طرف دیکھا۔ "کبھی کبھی انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی چھوٹی سی نیکی کس کی پوری زندگی بچا رہی ہے۔”
نوجوان خاموش ہوگیا۔ چند ہفتے بعد سردیوں کی ایک انتہائی طوفانی رات آئی۔ آسمان پر بادل تھے، سمندر پہاڑوں کی طرح اٹھ رہا تھا اور ہوا لائٹ ہاؤس کی دیواروں سے ٹکرا کر خوف ناک آواز پیدا کررہی تھی۔ سلیم حسب معمول چراغ جلانے اوپر گیا۔ اچانک زوردار جھٹکا لگا۔ چراغ کی کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا اور تیز ہوا اندر داخل ہوئی۔ چراغ کی لو لرزنے لگی۔
سلیم نے دونوں ہاتھوں سے اسے ڈھانپ لیا۔ کپڑے ہوا میں پھڑپھڑا رہے تھے، ہاتھ زخمی ہوگئے، مگر اس نے چراغ کو بجھنے نہ دیا۔ کچھ دیر بعد اسے نیچے سے ایک آواز سنائی دی۔ "سلیم! نیچے آؤ، عمارت خطرے میں ہے!”
وہ جانتا تھا کہ طوفان شدید ہے۔ اگر وہ نیچے چلا جاتا تو چراغ بجھ سکتا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا: "یااللہ! میں اپنی طاقت کے مطابق اسے بچا رہا ہوں، باقی تیرے اختیار میں ہے۔” پھر وہ پوری رات چراغ کے سامنے بیٹھا رہا۔
صبح طوفان تھما۔ بندرگاہ پر کئی لوگ جمع تھے۔ ایک جہاز رات کے طوفان میں محفوظ طریقے سے بندرگاہ تک پہنچا تھا۔ اس جہاز کا کپتان سیدھا لائٹ ہاؤس آیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے سلیم کے ہاتھ پکڑ کر کہا، "رات ہمیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لہریں جہاز کو چٹانوں کی طرف دھکیل رہی تھیں۔ پھر دور یہ چراغ نظر آیا۔ ہم نے اسی روشنی کے سہارے رخ بدلا۔” وہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر بولا، "اگر یہ چراغ بجھ جاتا تو شاید آج ہمارا جہاز یہاں نہ ہوتا۔”
سلیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی وقت اسے برسوں پہلے پڑھی ہوئی قرآنِ کریم کی ایک آیت یاد آئی: "اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔”
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کے بائیس سال شاید خاموش ضرور تھے، مگر بے معنی نہیں تھے۔
اس شام شہر کا وہی نوجوان دوبارہ لائٹ ہاؤس آیا جس نے کبھی اس کے کام کا مذاق اڑایا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش کھڑا رہا، پھر بولا: "سلیم صاحب، میں آپ کے کام کو چھوٹا سمجھتا تھا۔”
سلیم مسکرایا۔ "کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، نیت اسے بڑا بناتی ہے۔”
نوجوان نے پوچھا، "اور اگر کسی کو اپنی محنت کا نتیجہ نظر نہ آئے؟” سلیم نے سمندر کی طرف اشارہ کیا۔ "سمندر میں چلنے والے ہر جہاز کو معلوم نہیں ہوتا کہ اسے راستہ کس نے دکھایا۔ مگر چراغ کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ اسے کون دیکھ رہا ہے۔ اسے صرف جلنا ہوتا ہے۔” نوجوان کی آنکھیں جھک گئیں۔
زندگی میں ہم بھی اکثر یہی غلطی کرتے ہیں۔ ہم نیکی کرتے ہیں اور فوراً نتیجہ چاہتے ہیں۔ محنت کرتے ہیں اور فوراً کامیابی چاہتے ہیں۔ کسی کی مدد کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں یاد رکھے۔ لیکن اللہ کے ہاں شاید اصل سوال یہ نہیں کہ تمہاری روشنی کتنے لوگوں نے دیکھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اندھیرے میں تم نے چراغ جلایا تھا یا نہیں۔ سلیم کو اپنی بائیس سالہ تنہائی کا صلہ کسی تمغے کی صورت میں نہیں ملا تھا۔ اسے کوئی بڑا منصب بھی نہیں ملا تھا۔ اسے صرف ایک یقین ملا تھا: اگر نیت اللہ کے لیے ہو تو خاموش عمل بھی کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ اور اس رات سمندر میں ایک چراغ صرف جہاز کو راستہ نہیں دکھا رہا تھا، وہ ایک انسان کو بھی یہ سمجھا رہا تھا کہ زندگی میں بعض اوقات ہمیں اپنے عمل کا انجام دیکھے بغیر بھی درست راستے پر قائم رہنا ہوتا ہے۔ کیونکہ چراغ کا کام روشنی دینا ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنا نہیں کہ روشنی کہاں تک پہنچی۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔