امید کا چراغ

اسد احمد
شہر کے ایک پرانے محلے میں حامد نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ عمر تقریباً پچاس برس تھی، مگر حالات نے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ وہ سڑک کنارے ٹھیے پر موچی کا کام کرتا، لوگوں کے جوتے مرمت کرتا اور جو کچھ کماتا، اسی سے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ حامد کے دو بچے تھے۔ بیٹا علی بارہ سال کا اور بیٹی مریم دس سال کی۔ دونوں پڑھنے میں بہت اچھے تھے۔ حامد کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ اس کے بچے اس کی طرح ساری زندگی دوسروں کے محتاج نہ رہیں۔
ایک دن علی نے اسکول سے آکر کہا، ’’ابا، استاد صاحب نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے فیس جمع نہ ہوئی تو میرا نام کاٹ دیا جائے گا۔‘‘ حامد نے بیٹے کی طرف دیکھا اور مسکرانے کی کوشش کی۔ ’’فکر نہ کرو، بیٹا۔ فیس جمع ہو جائے گی۔‘‘ لیکن وہ جانتا تھا کہ گھر میں صرف اتنے پیسے تھے جن سے دو دن کا راشن آ سکتا تھا۔ اس رات حامد دیر تک جاگتا رہا۔ بیوی اور بچے سو چکے تھے۔ وہ چھت پر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ دل میں کئی سوال تھے۔
’’یااللہ! میں محنت تو بہت کرتا ہوں، پھر میری زندگی میں آسانی کیوں نہیں آتی؟‘‘ اچانک اسے اپنے والد کی بات یاد آئی۔ اس کے والد کہا کرتے تھے، ’’بیٹا، اندھیرا کتنا ہی گہرا ہو، ایک چھوٹا سا چراغ بھی راستہ دکھا دیتا ہے۔ بس چراغ بجھنے نہ دینا۔‘‘
حامد نے آنکھیں بند کیں اور آہستہ سے کہا، ’’میں اپنا چراغ نہیں بجھنے دوں گا۔‘‘ اگلے دن وہ معمول سے پہلے اپنے ٹھیے پر پہنچ گیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ آج وہ زیادہ کام کرے گا۔ صبح سے شام تک اس نے مسلسل جوتے مرمت کیے۔ تھکن سے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر وہ رکا نہیں۔ رات کو ٹھیا بند کرنے لگا تو ایک بوڑھا آدمی وہاں آیا۔ ’’بیٹا، میرے جوتے کا تلا نکل گیا ہے۔ کیا ابھی ٹھیک ہو سکتا ہے؟‘‘
حامد نے جوتا دیکھا۔ ’’بابا جی، بیٹھ جائیں۔ ابھی ٹھیک کردیتا ہوں۔‘‘ بوڑھا شخص بیٹھ گیا۔ حامد نے جوتا مرمت کیا اور واپس دیتے ہوئے کہا، ’’یہ لیجیے۔‘‘
بوڑھے نے پوچھا، ’’کتنے پیسے؟‘‘ حامد نے مسکرا کر کہا، ’’آپ سے کچھ نہیں لوں گا۔‘‘
بوڑھے نے حیرت سے پوچھا، ’’کیوں؟‘‘
حامد نے جواب دیا، ’’بس ایسے ہی۔ کبھی کبھی کسی کی مدد کرنے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے۔‘‘
بوڑھے نے اسے غور سے دیکھا اور دعا دی، ’’اللہ تمہارے گھر میں کبھی چراغ نہ بجھنے دے۔‘‘ حامد نے یہ الفاظ سنے تو اسے عجیب سا سکون محسوس ہوا۔
اگلے دن وہی بوڑھا شخص دوبارہ آیا۔ اس کے ساتھ ایک نوجوان بھی تھا۔ نوجوان نے حامد سے کہا، ’’یہ میرے والد ہیں۔ انہوں نے آپ کے بارے میں بتایا۔ میں شہر میں جوتوں کی ایک بڑی فیکٹری چلاتا ہوں۔ ہمیں ایک ایسے کاریگر کی ضرورت ہے جو ایمان داری سے کام کرے۔ کیا آپ ہمارے ساتھ کام کریں گے؟‘‘
حامد کچھ دیر خاموش رہا۔ ’’لیکن میں تو صرف چھوٹا سا ٹھیا چلاتا ہوں۔‘‘ نوجوان مسکرایا۔ ’’آپ صرف جوتے نہیں بناتے، آپ لوگوں کا اعتماد بھی جوڑتے ہیں۔ میرے والد نے آپ کی تعریف کی ہے۔‘‘ حامد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے فوراً اپنے والد کی بات یاد آئی۔ ’’ایک چھوٹا سا چراغ بھی راستہ دکھا دیتا ہے۔‘‘
اس نے فیکٹری میں کام شروع کردیا۔ ابتدا میں اسے مشکل پیش آئی، مگر وہ محنت سے پیچھے نہ ہٹا۔ چند ہی مہینوں میں اس کی کاریگری سب کو پسند آنے لگی۔ مالک نے اس کی تنخواہ بڑھادی اور اسے کاریگروں کا نگراں بنادیا۔ حامد نے سب سے پہلے علی اور مریم کی فیس جمع کی۔
جب علی نے اسکول کا کارڈ ہاتھ میں لیا تو خوشی سے بولا، ’’ابا! میرا نام نہیں کٹا۔‘‘ حامد نے بیٹے کو سینے سے لگالیا۔ ’’بیٹا، صرف نام نہیں بچا، تمہارا مستقبل بھی بچ گیا ہے۔‘‘
کئی سال گزر گئے۔ علی ڈاکٹر بن گیا اور مریم نے تعلیم مکمل کرکے ایک اسکول میں پڑھانا شروع کردیا۔ حامد اب کام سے قریباً فارغ ہوچکا تھا۔ اس کے بال سفید ہوگئے تھے، مگر چہرے پر عجیب اطمینان تھا۔ ایک شام علی اس کے پاس بیٹھا اور بولا، ’’ابا، آپ نے ہماری زندگی بدل دی۔‘‘
حامد نے مسکرا کر کہا، ’’نہیں بیٹا، میں نے صرف چراغ جلائے رکھا تھا۔ راستہ اللہ نے دکھایا۔‘‘ مریم نے پوچھا، ’’ابا، وہ چراغ کہاں ہے؟‘‘
حامد نے سامنے رکھا ہوا ایک پرانا لالٹین نما چراغ اٹھایا۔ ’’یہ چراغ؟‘‘ مریم ہنس پڑی۔
حامد نے سرہلایا۔ ’’نہیں، بیٹی۔ اصل چراغ یہ نہیں تھا۔ اصل چراغ امید تھی۔ جب انسان کے پاس کچھ نہیں بچتا، تب بھی اگر امید باقی ہو تو سب کچھ دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘‘ پھر اس نے بچوں سے کہا: ’’زندگی میں ایسے دن ضرور آئیں گے جب تمہیں لگے گا کہ راستے بند ہوگئے ہیں۔ لوگ تمہیں کہیں گے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ حالات تمہیں شکست دینے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اس وقت اپنے اندر کا چراغ مت بجھانا۔ محنت کرتے رہنا، نیکی کرتے رہنا، اللہ پر بھروسہ رکھنا۔ کیونکہ بعض اوقات انسان کی سب سے بڑی کامیابی، اس وقت سے صرف ایک قدم دور ہوتی ہے جب وہ ہار ماننے والا ہوتا ہے۔‘‘
علی نے اپنے والد کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’ابا، ہم بھی اپنا چراغ کبھی نہیں بجھنے دیں گے۔‘‘ حامد نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔
اس رات اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کی زندگی کی ساری مشکلات بے مقصد نہیں تھیں۔ وہ مشکلات ہی تھیں جنہوں نے اسے صبر سکھایا، محنت سکھائی، لوگوں کی قدر کرنا سکھایا اور سب سے بڑھ کر یہ سکھایا کہ اندھیرا کبھی مستقل نہیں ہوتا۔بس انسان کو آخری چراغ تک پہنچنے سے پہلے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔