خواب مرمت کرنے والا۔۔۔

اسد احمد
شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک چھوٹی سی سائیکل مرمت کی دکان تھی۔ دکان کا مالک حامد تھا۔ لوگ اسے ایک عام مکینک سمجھتے تھے، لیکن اس کے دل میں ایک غیر معمولی خواب تھا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا، "انسان کی اصل دولت اس کے ہاتھوں کی کمائی نہیں، بلکہ اس کے کردار کی خوشبو ہوتی ہے۔”
حامد کی زندگی آسان نہیں تھی۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے دکان کھولتا اور رات گئے تک پنکچر لگاتا، چین درست کرتا اور ٹوٹی ہوئی سائیکلوں کو نئی زندگی دیتا۔ دن بھر کی محنت کے بعد اتنی آمدن ہوتی کہ گھر کا خرچ بمشکل چلتا۔ پھر بھی اس کے چہرے پر کبھی مایوسی نظر نہیں آتی تھی۔ ایک دن ایک بارہ سالہ لڑکا دکان پر آیا۔ اس کی سائیکل کا پہیہ بری طرح خراب تھا۔ لڑکے نے جیب سے چند سکے نکالے اور دھیمی آواز میں کہا، "چچا، میرے پاس اتنے ہی پیسے ہیں۔ اگر ٹھیک نہ ہوسکی تو میں اسکول نہیں جاسکوں گا۔” حامد نے سکے دیکھے، مسکرایا اور بولا، "بیٹا، تم اپنی سائیکل شام کو لے جانا۔”
لڑکا خوشی خوشی چلا گیا۔ شام کو جب وہ واپس آیا تو سائیکل نئی جیسی تھی۔ اس نے حیران ہو کر پوچھا، "چچا، آپ نے تو سب کچھ بدل دیا۔ میرے پیسے تو بہت کم تھے۔” حامد نے اس کے ہاتھ پر سکے واپس رکھتے ہوئے کہا، "یہ پیسے اپنی کتابوں کے لیے رکھو۔ تعلیم کا سفر کبھی پیسوں کی کمی سے نہیں رکنا چاہیے۔” یہ منظر ایک دکان دار نے دیکھا، لیکن کسی نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دی۔
دن گزرتے گئے۔ حامد کا یہی معمول رہا۔ کبھی کسی غریب بچے سے مزدوری نہ لیتا، کبھی کسی بوڑھے کی سائیکل مفت میں ٹھیک کردیتا، کبھی کسی مزدور کی پنکچر شدہ سائیکل بغیر اجرت کے تیار کردیتا۔ لوگ اسے بے وقوف کہتے۔ ایک شخص نے طنز کرتے ہوئے کہا، "حامد، تم کاروبار کررہے ہو یا خیرات؟” حامد مسکرا کر بولا، "میں نقصان نہیں کررہا، میں انسانیت میں سرمایہ کاری کررہا ہوں۔” سب ہنس پڑے۔
کئی سال گزر گئے۔ عمر نے حامد کے بال سفید کردیے۔ ہاتھوں میں پہلے جیسی طاقت نہ رہی۔ ایک دن وہ شدید بیمار ہوگیا اور کئی دن دکان نہ کھول سکا۔ گھر میں راشن ختم ہونے لگا۔ اس نے سوچا، "شاید اب زندگی نے مجھے آزمانے کا وقت چن لیا ہے۔” اسی دوران ایک بڑی گاڑی اس کے گھر کے سامنے آ کر رکی۔ ایک خوش لباس نوجوان گاڑی سے اترا اور سیدھا حامد کے پاس آیا۔ اس نے جھک کر حامد کے ہاتھ چوم لیے۔ حامد حیران رہ گیا۔ نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے کہا، "چچا، آپ نے مجھے پہچانا؟”
حامد نے غور کیا مگر پہچان نہ سکا۔ نوجوان بولا، "میں وہی لڑکا ہوں جس کی سائیکل آپ نے برسوں پہلے مفت ٹھیک کی تھی اور میرے پیسے واپس کردیے تھے تاکہ میں کتابیں خرید سکوں۔” حامد خاموش ہوگیا۔
لڑکے نے کہا، "اگر اس دن آپ میری مدد نہ کرتے تو شاید میں تعلیم چھوڑ دیتا۔ آج میں ایک کامیاب انجینئر ہوں۔ میری کامیابی کی بنیاد آپ کا وہ چھوٹا سا احسان تھا۔” اس نے ایک لفافہ حامد کے سامنے رکھا۔
حامد نے کھولا تو اس میں اتنی رقم تھی کہ وہ اپنی دکان نئی بناسکتا تھا۔ اس نے فوراً لفافہ واپس کرتے ہوئے کہا، "بیٹا، میں نے یہ سب کسی بدلے کی امید میں نہیں کیا تھا۔”
نوجوان مسکرایا۔ "چچا، یہ بدلہ نہیں، یہ آپ کے بوئے ہوئے بیج کا پھل ہے۔ آپ نے ایک بچے کو سہارا دیا تھا، آج وہی بچہ آپ کے لیے سایہ بن کر آیا ہے۔” اس کے بعد نوجوان نے صرف پیسے ہی نہیں دیے بلکہ پوری دکان جدید مشینوں سے آراستہ کر دی۔ اس نے دکان کے باہر ایک بورڈ لگوایا جس پر لکھا تھا: "یہ وہ جگہ ہے جہاں صرف سائیکلیں نہیں، خواب بھی مرمت ہوتے ہیں۔”
لوگ دور دور سے صرف سائیکل بنوانے نہیں بلکہ حامد سے ملنے آنے لگے۔ نوجوان طلبہ اس سے زندگی کے سبق سیکھتے۔ والدین اپنے بچوں کو اس کی کہانی سناتے۔ جو لوگ کبھی اسے بے وقوف کہتے تھے، آج وہی اس کی عزت میں کھڑے ہوجاتے۔ ایک دن کسی نے پوچھا، "حامد چچا، آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟”
حامد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "دنیا ہمیشہ نفع نقصان کا حساب رکھتی ہے، لیکن اللہ صرف نیت اور کردار کا حساب دیکھتا ہے۔ جو انسان دوسروں کی زندگی آسان بناتا ہے، اللہ اس کی زندگی کے مشکل راستے خود آسان کردیتا ہے۔” یہ بات سن کر وہاں موجود ہر شخص خاموش ہوگیا۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ کامیابی صرف بڑی تنخواہ، بڑی گاڑی یا بڑے گھر کا نام ہے، لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے کسی کی امید زندہ رہے، کسی کا خواب نہ ٹوٹے اور کسی کی آنکھ میں مایوسی کے بجائے روشنی آجائے۔ زندگی میں ہر نیکی فوراً پھل نہیں دیتی۔ کچھ بیج برسوں بعد تناور درخت بنتے ہیں۔ جو شخص صبر، اخلاص اور اچھے کردار کے ساتھ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، وقت ایک دن اسی کے لیے آسانیاں پیدا کر دیتا ہے۔
سبق: کبھی کسی کی چھوٹی سی مدد کو معمولی نہ سمجھیں۔ ایک اچھا لفظ، ایک مخلص ہاتھ، یا ایک بے لوث تعاون کسی انسان کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ جو چراغ دوسروں کے راستے روشن کرتا ہے، اللہ اس کے اپنے راستوں کو کبھی اندھیرا نہیں ہونے دیتا۔