دولت سے زیادہ قیمتی رشتے

اسد احمد
بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں اسپتال کی کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں۔ کمرہ نمبر 17 میں 60 سالہ رئیس علی خاموشی سے بستر پر لیٹا چھت کو دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر چند گھنٹے پہلے ہی بتاچکے تھے کہ اس کے پاس زندگی کے شاید چند دن ہی باقی ہیں۔ رئیس نے زندگی بھر بہت دولت کمائی تھی۔ شہر کے بڑے تاجروں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ اس کے پاس بنگلہ تھا، گاڑیاں تھیں، زمینیں تھیں اور بینک بیلنس بھی مگر اس لمحے جب موت اس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی، اسے اپنی دولت نہیں بلکہ کچھ اور یاد آرہا تھا۔
اسے اپنا بیٹا سعید یاد آرہا تھا۔ سعید، جو دس سال سے اس سے ناراض تھا۔ رئیس نے کانپتے ہاتھوں سے میز پر رکھا ایک کاغذ اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔ "میرے پیارے بیٹے سعید!
جب تم یہ خط پڑھو گے، شاید میں اس دنیا میں نہ رہوں۔ میں نہیں جانتا کہ تم مجھے معاف کرو گے یا نہیں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی جان لو۔”
رئیس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اسے وہ دن یاد آگیا جب سعید صرف بارہ سال کا تھا۔ اسکول میں سالانہ تقریب تھی۔ سعید نے کئی دن پہلے سے اپنے والد کو بار بار یاد دلایا تھا۔ "ابو، آپ ضرور آئیں گے نا؟”
رئیس نے ہر بار مسکرا کر کہا تھا، "ضرور بیٹا، میں سب سے آگے بیٹھا تمہیں دیکھوں گا۔”
مگر تقریب والے دن ایک بڑا کاروباری معاہدہ سامنے آگیا۔ رئیس نے سوچا، "ایک تقریب ہی تو ہے، پھر کبھی سہی۔”
اس روز سعید گھر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی ٹرافی تھی۔ اس نے پورے اسکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ وہ دروازے پر کافی دیر تک اپنے والد کا انتظار کرتا رہا تھا۔ مگر رئیس نہیں آیا تھا۔
یہ پہلی بار تھا۔ پھر دوسری بار بھی ایسا ہی ہوا۔ پھر تیسری بار بھی۔ وقت گزرتا گیا اور کاروبار رئیس کی زندگی بنتا گیا جب کہ سعید اس کی ترجیحات کی فہرست سے نیچے ہوتا گیا۔ ایک دن سعید نے خاموشی سے کہنا چھوڑ دیا کہ "ابو، میرے ساتھ چلیں۔” اور یہی وہ دن تھا جب باپ اور بیٹے کے درمیان فاصلہ پیدا ہونا شروع ہوگیا۔
سال گزر گئے۔ سعید جوان ہوگیا۔ ایک رات اس نے اپنے والد سے کہا، "ابو، مجھے آپ کی دولت نہیں چاہیے۔ مجھے صرف آپ کا وقت چاہیے تھا۔” مگر رئیس نے حسبِ عادت جواب دیا، "میں یہ سب تمہارے لیے ہی تو کررہا ہوں۔”
سعید تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولا، "ابو، بچپن میں مجھے آپ چاہیے تھے، آپ کے پیسے نہیں۔” یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
چند ماہ بعد وہ بیرونِ ملک چلا گیا۔ اور پھر دونوں کے درمیان خاموشی کی ایک لمبی دیوار کھڑی ہوگئی۔
رئیس نے خط پر لکھنا جاری رکھا۔ "بیٹے! لوگ سمجھتے ہیں کہ زندگی کی سب سے بڑی ناکامی غربت ہے۔ لیکن میں نے جان لیا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ انسان اپنے پیاروں کو کھو دے اور اسے اس کا احساس بہت دیر سے ہو۔” خط کے کاغذ پر آنسوؤں کے قطرے گرنے لگے۔
اسی دوران دروازہ کھلا۔ نرس اندر آئی اور آہستہ سے بولی، "رئیس صاحب، کوئی آپ سے ملنے آیا ہے۔” رئیس نے حیرت سے دروازے کی طرف دیکھا۔
وہ کوئی اور نہیں سعید تھا۔ بالوں میں سفیدی کی چند لکیریں اب اس کے چہرے پر نظر آنے لگی تھیں۔ دونوں چند لمحے ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔ پھر رئیس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"بیٹا…”
اس کی آواز بھرّا گئی۔ سعید آہستہ آہستہ چلتا ہوا بستر کے قریب آیا۔ رئیس نے کانپتے ہاتھوں سے خط اس کی طرف بڑھایا۔ "یہ تمہارے لیے لکھا ہے۔”
سعید نے خط لیا مگر کھولا نہیں۔ وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ کمرے میں چند لمحوں تک مکمل خاموشی رہی۔ پھر اچانک سعید نے اپنے والد کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہی ہاتھ جس نے کبھی اسے چلنا سکھایا تھا۔ وہی ہاتھ جو برسوں سے اس کے سر پر نہیں پھیرا گیا تھا۔
"ابو…” سعید کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے، "میں آپ سے ناراض ضرور تھا، نفرت کبھی نہیں کی۔”
رئیس پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ "مجھے معاف کردو بیٹا… میں زندگی کی دوڑ میں سب کچھ جیت گیا، لیکن تمہارا بچپن ہار گیا۔”
سعید نے سر جھکا لیا۔ "ابو، کچھ زخم کبھی نہیں بھرتے، لیکن کچھ رشتے کبھی ختم بھی نہیں ہوتے۔” اس رات دونوں دیر تک باتیں کرتے رہے۔ بچپن کی یادیں، ادھورے وعدے، گزرے ہوئے سال… اور پھر فجر سے کچھ پہلے رئیس خاموش ہوگیا۔ اس کے چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔ جیسے برسوں کا بوجھ اتر گیا ہو۔
جنازے کے بعد سعید گھر آیا۔ اپنے والد کے کمرے میں بیٹھ کر اس نے وہ خط کھولا۔
آخری سطر میں لکھا تھا: "بیٹے! اگر زندگی تمہیں کبھی دو چیزوں میں سے ایک چننے کا موقع دے، دولت یا اپنے پیاروں کا وقت… تو ہمیشہ اپنے پیاروں کو چننا۔ دولت واپس آسکتی ہے، گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔”
سعید دیر تک خط کو سینے سے لگائے روتا رہا۔ کھڑکی کے باہر بارش پھر شروع ہوگئی تھی۔ اور شاید آسمان بھی کسی باپ کی دیر سے سمجھی گئی محبت پر رو رہا تھا۔
اس کہانی کا اصل سبق یہ ہے کہ اولاد کو اکثر والدین کی دولت نہیں، ان کا وقت، توجہ اور محبت چاہیے ہوتی ہے۔ زندگی کی سب سے قیمتی کرنسی پیسہ نہیں، وقت ہے۔