پاکستان دشمنوں کیلئے پیغام

دانیال جیلانی
پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے، جہاں سلامتی کے چیلنجز وقت کے ساتھ صرف اپنی نوعیت ہی نہیں، بلکہ اپنی شدت بھی تبدیل کرتے رہے ہیں۔ روایتی جنگوں کا دور اب بڑی حد تک ہائبرڈ وار فیئر، اطلاعاتی محاذ، سائبر حملوں، دہشت گردی اور پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ایسے حالات میں قومی سلامتی کے اداروں کی ذمے داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے میں بھی انہی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونریز جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں جوانوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاور کیں جب کہ لاکھوں شہری دہشت گردی کے اثرات سے متاثر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی قومی سلامتی سے متعلق کسی خطرے کی نشان دہی ہوتی ہے تو اس کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ آج پاکستان میں امن و استحکام کے پیچھے ان عظیم قربانیوں کا بنیادی کردار ہے۔ یہ قربانیاں قوم کی مشترکہ میراث ہیں اور ان کی بدولت دہشت گردی کے متعدد بڑے نیٹ ورک کمزور ہوئے۔ تاہم دہشت گردی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، بلکہ اس کی شکل بدل چکی ہے۔
آج دنیا بھر میں ہائبرڈ وارفیئر ایک حقیقت بن چکی ہے۔ اس میں روایتی ہتھیاروں کے بجائے سوشل میڈیا، جھوٹی اطلاعات، نفسیاتی دباؤ، معاشی عدم استحکام، سائبر حملوں اور پراکسی عناصر کو استعمال کیا جاتا ہے۔ دشمن کی جانب سے ایسی جنگ کا مقصد عوام میں بے یقینی پیدا کرنا، قومی اداروں پر اعتماد کمزور کرنا اور داخلی انتشار کو ہوا دینا ہوتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے سلامتی کے اداروں کی جانب سے ایسے خطرات پر تشویش کا اظہار غیر معمولی نہیں بلکہ موجودہ عالمی رجحانات کے مطابق ہے۔ اعلامیے میں افغانستان سے ملحقہ علاقوں سے دہشت گردی کے خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ پاکستان کا مسلسل مؤقف رہا ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہی اصول بین الاقوامی قانون اور پڑوسی ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کی بنیاد بھی ہے۔ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہوگا، جب تمام فریق دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کریں اور اپنی سرزمین کو کسی بھی تخریبی سرگرمی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف فوجی کارروائیوں سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی متاثرہ علاقوں میں بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر سول انتظامیہ اور عوامی خدمت پر زور دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں ریاستی ادارے مضبوط ہوں، انصاف بروقت ملے، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع موجود ہوں، وہاں انتہاپسندی کے لیے جگہ کم رہ جاتی ہے۔ اسی لیے قومی سلامتی کا تصور صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ مضبوط معیشت، اچھی حکمرانی اور عوامی اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے ہر مشکل مرحلے پر قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ قدرتی آفات ہوں، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ہوں یا سرحدی دفاع، افواجِ پاکستان نے اپنی ذمے داریاں پوری کرنے کی کوشش کی ہے۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دفاعی صلاحیتوں میں بہتری، ٹیکنالوجی کا استعمال اور ملٹی ڈومین جنگی تیاری بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح سندھ طاس معاہدے اور آبی وسائل کا معاملہ بھی قومی مفاد سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ پانی پاکستان کی زراعت، معیشت اور غذائی تحفظ کی بنیاد ہے۔ اس لیے اس معاملے پر قومی مفاد کا تحفظ سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ بھی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہ میں ایک بنیادی تنازع ہے۔ پاکستان کا دیرینہ مؤقف ہے کہ اس مسئلے کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں دیرپا امن کا قیام مشکل رہے گا۔ تاہم قومی سلامتی صرف ریاستی اداروں کی ذمے داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ عوام، سیاسی قیادت، میڈیا، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کو ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد اور ذمے داری کے جذبے سے کام کرنا ہوگا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حُسن ہے، لیکن قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں ذمے دارانہ رویہ، حقائق پر مبنی گفتگو اور قومی مفاد کو مقدم رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آج پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا مقابلہ اتحاد، مضبوط حکمرانی، معاشی استحکام، مؤثر سفارت کاری اور پیشہ ورانہ دفاعی تیاری سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی، ہائبرڈ وارفیئر اور بیرونی دباؤ جیسے خطرات کا مؤثر جواب صرف اسی صورت ممکن ہے جب ریاست اپنی رٹ مضبوط کرے، قانون کی بالادستی یقینی بنائے اور عوام کو یہ اعتماد دے کہ ان کی جان، مال اور مستقبل کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ ایک مضبوط، مستحکم اور متحد پاکستان ہی خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔