غیر ملکی ڈراموں پر ٹیکس خاتمے کی تجویز، شوبز تنظیموں کا شدید تحفظات کا اظہار
کراچی: یونائیٹڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (UPA)، ایکٹ– دی ایکٹرز کلیکٹو پاکستان (ACT) اور ڈائریکٹرز گلڈ پاکستان (DGP) نے اپنے مشترکہ بیان میں فنانس بل 2026-27 کے تحت درآمد شدہ غیر ملکی ٹیلی ویژن ڈراموں اور اشتہارات پر عائد ایڈوانس ٹیکس کے مجوزہ خاتمے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ تنظیمیں ٹیکس اصلاحات کی حمایت کرتی ہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی تخلیقی معیشت (Creative Economy) کو متاثر کرنے والی کسی بھی پالیسی کے نفاذ سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی اور مؤثر مشاورت ناگزیر ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ درآمد شدہ غیر ملکی ٹیلی ویژن ڈراموں اور اشتہارات پر ایڈوانس ٹیکس کا نفاذ فنانس بل 2013-14 کے ذریعے کیا گیا تھا، جسے اُس وقت کے وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پیش کیا تھا۔ یہ اقدام مقامی میڈیا پروڈکشن کو مضبوط بنانے اور مقامی مواد (لوکل کانٹینٹ) کے فروغ کی پالیسی کا حصہ تھا۔ ایک ایسی پالیسی، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے نافذالعمل ہے، اس میں تبدیلی یا اس کے خاتمے کا فیصلہ صرف جامع معاشی جائزے اور وسیع مشاورت کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کی تخلیقی معیشت ٹیلی ویژن، فلم، ڈیجیٹل میڈیا، اشتہارات، موسیقی، اینیمیشن، پوسٹ پروڈکشن اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ ہزاروں پیشہ ور افراد اور ان کے خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ مقامی پروڈکشن کو فروغ دینے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بھی مختلف اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں پنجاب فلم سٹی منصوبہ بھی شامل ہے۔
پریس ریلیز میں مطالبات کیے گئے ہیں کہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل ہونے تک اس فیصلے کے نفاذ کو مؤخر کیا جائے۔ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا فوری اجلاس طلب کیا جائے۔ اس فیصلے کے معاشی اثرات سے متعلق رپورٹ (Economic Impact Assessment) جاری کی جائے۔ قومی تخلیقی معیشت پالیسی (National Creative Economy Policy) مرتب کی جائے۔ ہم وزیرِاعظم پاکستان، وزیرِ خزانہ، وزیرِ اطلاعات، چیئرمین ایف بی آر اور پارلیمنٹ کے تمام معزز اراکین سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل ان تحفظات اور خدشات کو سنجیدگی سے مدنظر رکھا جائے۔