پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی بھی غیرقانونی قبضے یا تجاوز کو ہرگز قبول نہیں کرے گا، ڈار
اسلام آباد: نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ سرحد پار بہنے والے دریاؤں سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور کرنے یا سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہوسکتی ہے، کیونکہ بین الاقوامی قانون اور پابند معاہدوں کی خلاف ورزی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی نظام، ریاستوں کی ساکھ، باہمی اعتماد اور علاقائی امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی اہمیت، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون سے متعلق بین الاقوامی سیمینار میں وفاقی وزراء، سیاسی رہنما، ماہرین اور متعلقہ حکام شرکت کررہے ہیں۔
افتتاحی سیشن کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹینٹ جنرل (ر) عامر ریاض، انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم، سابق وفاقی وزیر قانون احمد بلال صوفی، انڈس واٹر ٹریٹی کمشنر سید مہر علی شاہ سمیت بین الاقوامی آبی ماہرین بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ محض قانونی یا نظریاتی معاملہ نہیں بلکہ 25 کروڑ سے زائد شہریوں کی زندگی، زراعت، غذائی تحفظ، توانائی اور معیشت کا بنیادی ستون ہے، اس لیے پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی بھی غیرقانونی قبضے یا تجاوز کو ہرگز قبول نہیں کرے گا اور بین الاقوامی قانون کے تحت تمام قانونی و سفارتی ذرائع سے اپنے حقوق کا تحفظ کرے گا۔
اسحاق ڈار نے بھارت پر زور دیا کہ وہ جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے اور تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات، سفارت کاری اور معاہدہ جاتی طریقۂ کار کے ذریعے حل کرے، جبکہ خبردار کیا کہ اگر پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑنے، فراہمی روکنے یا آبی حقوق میں کمی کی کوشش کی گئی تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات، بین الاقوامی قانون، معاہدوں پر عمل درآمد اور اچھے ہمسایہ تعلقات پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار بہنے والے دریاؤں سے متعلق کسی بین الاقوامی معاہدے کو کمزور کرنے یا اسے سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے، بین الاقوامی قانون و پابند معاہدوں کی خلاف ورزی کی جائے تو اس کے نتائج صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتے، اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی تعلقات میں ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔
ریاستوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کی بنیادوں کو متزلزل کر دیتے ہیں، اس کے نتیجے میں وہ عالمی نظام بھی کمزور ہوتا ہے جو قوانین کی بالادستی پر قائم ہے اور جس پر بین الاقوامی امن و سلامتی کا انحصار ہے، پاکستان کے لیے یہ کوئی نظریاتی یا محض قانونی بحث نہیں ہے۔
پانی پاکستان کے 25 کروڑ سے زائد شہریوں کی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، ہماری زراعت، غذائی تحفظ، توانائی کی پیداوار اور مجموعی معاشی ترقی کا انحصار ان تین مغربی دریاؤں کے مسلسل اور بلا تعطل بہاؤ پر ہے۔
اسی لیے ان دریاؤں اور ان کے پانی کا تحفظ پاکستان کے لیے ایک نہایت اہم قومی مفاد اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے، بھارت کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے اور جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو خطرے میں نہ ڈالے۔
اس خطے میں پائیدار امن کا راستہ طاقت یا دھمکی نہیں بلکہ تمام تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات، سفارت کاری اور ان معاہدہ جاتی طریقۂ کار کے ذریعے حل کرنا ہے، پاکستان ہمیشہ سے انہی اصولوں پر کاربند رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔
کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ دیرپا امن صرف باہمی احترام، ریاستی خودمختاری کی برابری اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر دیانت داری سے عمل درآمد کے ذریعے ہی قائم ہو سکتا ہے
اگر پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے تحت حاصل اس کے جائز اور قانونی آبی حقوق سے محروم کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
جنوبی ایشیا کو پہلے ہی بے شمار مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے، سندھ طاس معاہدہ کئی برسوں کے طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دستیاب آبی وسائل کا بہترین اور منصفانہ استعمال یقینی بنانا تھا، پاکستان امن، مذاکرات اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔
ہم نہ تصادم چاہتے ہیں اور نہ ہی جنگ چاہتے ہیں، ہم بین الاقوامی قانون کے احترام، معاہدوں پر دیانت داری سے عمل درآمد، ایک دوسرے کے آبی حقوق کے احترام پر یقین رکھتے ہیں۔
پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر کسی قسم کا غیرقانونی قبضہ یا تجاوز ہرگز قبول نہیں کرے گا، بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی اور سفارتی ذرائع سے اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گا۔
مئی 2025 کے بحران اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان میں قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں سول اور عسکری قیادت نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اگر پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑنے، اس کی فراہمی روکنے یا اس کے قانونی حقوق میں کسی بھی قسم کی کمی لانے کی کوشش کی گئی تو اسے جنگ کے مترادف اقدام تصور کیا جائے گا، یہ فیصلہ پوری قومی یکجہتی کے ساتھ کیا گیا تھا اور پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے، حالیہ بین الاقوامی تنازعات میں بھی پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔
ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام، برابری اور امن پر مبنی تعلقات استوار کرنا ہے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا بنیادی مقصد بین الاقوامی امن اور سلامتی کا تحفظ ہے،
پاکستان ایسے اقدامات کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے اور اپنے جائز، قانونی اور معاہداتی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرامن، قانونی اور سفارتی ذرائع اختیار کرتا رہے گا، پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔