چراغ

وقاص بیگ

پاکستان کے ایک دور افتادہ گاؤں میں اٹھارہ سالہ سلیم رہتا تھا۔ اس کا باپ مٹی کے برتن بناتا تھا اور ماں لوگوں کے گھروں میں سلائی کا کام کرتی تھی۔ گھر میں غربت تھی، لیکن ایک چیز کی کبھی کمی نہیں تھی، وہ تھی امید۔ گاؤں میں اکثر بجلی چلی جاتی تھی۔ کئی کئی گھنٹے اندھیرا رہتا۔ بچے پڑھ نہیں سکتے تھے، دکانیں جلد بند ہو جاتی تھیں اور بیمار لوگ بھی پریشان رہتے تھے۔
ایک رات سلیم نے دیکھا کہ اس کی چھوٹی بہن موم بتی کی کمزور روشنی میں پڑھتے پڑھتے سوگئی۔ کتاب پر پگھلا ہوا موم جم چکا تھا۔ اس رات اس نے خود سے ایک وعدہ کیا۔ "اگر میرے بس میں ہوا تو میں اس گاؤں میں اندھیرا کم کر دوں گا۔”
یہ بات جس سے کہتا، وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑتا۔ "تمہارے پاس کھانے کے پیسے نہیں، روشنی کہاں سے لاؤ گے؟” لیکن سلیم نے کسی کو جواب نہ دیا۔
اس نے پرانے ٹین کے ڈبے، ٹوٹی ہوئی شیشیاں، تار کے ٹکڑے اور ناکارہ چیزیں جمع کرنا شروع کردیں۔ لوگ اسے کباڑی سمجھنے لگے۔ وہ دن میں اپنے والد کے ساتھ کام کرتا اور رات کو پرانی کتابیں اور ویڈیوز دیکھ کر سیکھتا کہ کم خرچ میں روشنی پیدا کرنے کے طریقے کیا ہیں۔
پہلی بار اس نے ایک چراغ بنایا۔ چراغ صرف پانچ منٹ چلا۔ وہ ناکام ہوگیا۔ اس نے دوسرا بنایا۔ وہ دھواں دینے لگا۔ تیسرا بنایا۔ وہ گر کر ٹوٹ گیا۔ گاؤں والوں نے کہنا شروع کردیا، "یہ لڑکا پاگل ہوگیا ہے۔”
مگر سلیم ہر ناکامی کے بعد اپنی ڈائری میں صرف ایک جملہ لکھتا: "یہ بھی ایک سبق تھا۔” مہینے گزرتے گئے۔ ایک دن بارش کے بعد گاؤں کا راستہ کیچڑ سے بھر گیا۔ ایک حاملہ خاتون کو رات کے وقت اسپتال لے جانا تھا، مگر اندھیرے کی وجہ سے لوگ راستہ نہیں دیکھ پا رہے تھے۔ سلیم بھاگتا ہوا آیا۔ اس نے اپنا نیا بنایا ہوا چراغ جلایا۔ اس چراغ کی روشنی پہلے سے کہیں زیادہ تھی۔ لوگوں نے اسی روشنی میں خاتون کو محفوظ طریقے سے مرکزی سڑک تک پہنچایا، جہاں سے ایمبولینس اسے اسپتال لے گئی۔
اگلے دن پورے گاؤں میں سلیم کے چراغ کی بات ہورہی تھی۔ اب لوگ اس پر ہنس نہیں رہے تھے۔ بلکہ اس سے پوچھ رہے تھے، "ہمارے لیے بھی ایک چراغ بنا دو۔”
سلیم نے قیمت بہت کم رکھی تاکہ ہر غریب آدمی خرید سکے۔ چند ہی مہینوں میں آس پاس کے کئی دیہات سے آرڈر آنے لگے۔ ایک سماجی تنظیم کی نظر بھی اس کے کام پر پڑی۔ انہوں نے اسے مالی مدد دی اور تربیت بھی۔
چند سال بعد سلیم نے ایک چھوٹی سی ورکشاپ قائم کرلی، جہاں گاؤں کے بے روزگار نوجوان کام کرنے لگے۔ ایک صحافی نے اس سے پوچھا، "تمہاری زندگی کا سب سے مشکل دن کون سا تھا؟” سلیم نے مسکرا کر جواب دیا، "وہ دن نہیں جب میرے چراغ ٹوٹ جاتے تھے… بلکہ وہ دن جب لوگ میری ہنسی اڑاتے تھے۔ اگر میں اس دن ہار مان لیتا تو آج یہ روشنی کبھی پیدا نہ ہوتی۔” پھر اس نے اپنی پرانی ڈائری نکالی۔ اس کے پہلے صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا: "اندھیرے کو کوسنے سے بہتر ہے ایک چراغ جلایا جائے۔”
وہ جملہ اب اس کی کمپنی کی دیوار پر بھی لکھا ہوا تھا۔ ہر نیا ملازم جب کام شروع کرتا تو سب سے پہلے وہی جملہ پڑھتا۔ سلیم اکثر نوجوانوں سے کہتا، "زندگی میں وسائل کم ہوں تو خواب چھوٹے مت کرو، راستے نئے تلاش کرو۔ دنیا ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو شکایت کرنے کے بجائے مسئلے کا حل بن جاتے ہیں۔”
اس کی بات سن کر کئی نوجوانوں نے اپنے اپنے گاؤں میں چھوٹے چھوٹے منصوبے شروع کیے۔ کسی نے پانی بچانے کا نظام بنایا، کسی نے کتابوں کی مفت لائبریری قائم کی اور کسی نے بچوں کو مفت پڑھانا شروع کیا۔
سلیم کو اس بات پر سب سے زیادہ خوشی ہوتی تھی کہ اس کے چراغ صرف گھروں کو نہیں، سوچوں کو بھی روشن کررہے تھے۔ اس نے ایک تقریب میں کہا: "اصل کامیابی وہ نہیں جو صرف آپ کی زندگی بدل دے، بلکہ وہ ہے جو دوسروں کی زندگی میں بھی روشنی لے آئے۔”
اس دن پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
سبق: زندگی میں بڑے وسائل سے زیادہ بڑی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ناکامیاں انسان کو روکنے نہیں، سکھانے آتی ہیں۔ اگر آپ دوسروں کی ہنسی سے بے نیاز ہوکر اپنے مقصد پر قائم رہیں تو ایک دن آپ کی محنت صرف آپ کی نہیں، بلکہ بہت سے لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ یاد رکھیں، روشنی ہمیشہ ایک چھوٹے سے چراغ سے شروع ہوتی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔