شہدأ کی توہین ناقابل برداشت، اہل خانہ سے معذرت کرتا ہوں، طاہر اشرفی
کراچی: قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ شہدأ کی توہین ناقابل برداشت ہے، فوجی جوانوں اور شہدا کے اہل خانہ سے معذرت کرتا ہوں۔
کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ساتھ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ دہشت گرد ملک کے امن کے دشمن ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے جوان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں، افواجِ پاکستان کے جوان چند ہزار روپے تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن کے دفاع اور شہادت کے جذبے کے ساتھ سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ شہدا کی قربانی کا کوئی مالی معاوضہ نہیں ہوسکتا، شہادت مومن کا اعلیٰ مقام اور باعثِ فخر اعزاز ہے، اسلامی ریاست کے محافظوں کی خدمات اور قربانیاں انتہائی قابلِ احترام ہیں، جو ہماری حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرے، اس کی توہین کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی کو اپنے شہدا کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ قومی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کا حوصلہ بلند کریں اور سیاسی اختلافات کو اداروں پر تنقید کا ذریعہ نہ بنائیں۔
حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان آج دنیا میں امن کے داعی کے طور پر ابھر رہا ہے، اس لیے قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے میدان میں سیاست ہونی چاہیے، اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہدا کے اہلِخانہ کے دکھ میں پوری قوم برابر کی شریک ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور قومی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہر پاکستانی کی ذمے داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنۂ الخوارج اور دیگر دشمن عناصر کو قوم اچھی طرح پہچان چکی ہے، اس لیے دانستہ یا نادانستہ کسی بھی دشمن یا دہشت گرد کا سہولت کار نہیں بننا چاہیے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد نے مولانا طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں ملاقات کی، ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ملاقات میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، صوبائی وزیر محنت سعید غنی، صوبائی وزیر مذہبی امور ریاض شاہ شیرازی، وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، آئی جی پولیس جاوید عالم اوڈھو، کمشنر کراچی حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، اور دیگرحکام شریک تھے۔
قومی پیغام امن کمیٹی کے وفد میں ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیم میجر جنرل (ر) ڈاکٹر غلام قمر، سیکریٹری قومی پیغامِ امن کمیٹی عاشق حسین شیخ، علامہ سید اطہر حسین مشہدی، مفتی محمد جان نعیمی، پنڈت مہاراج گوسوامی گیر، سردار رمیش سنگھ اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مولانا طاہر اشرفی کی قیادت میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد کا خیرمقدم کیا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ مُراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ امن، مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی خدمات قابلِ تحسین ہیں، سندھ صوفیائے کرام، محبت، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی سرزمین ہے، امن، برداشت، قانون کی بالادستی اور باہمی احترام ہی پائیدار ترقی اور قومی استحکام کی ضمانت ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں ہندو برادری، سکھ برادری ، عیسائی اور پارسی برادری اور دیگر اپنے تہوار آزادانہ اور اپنے عقائد سے مناتے ہیں، قومی پیغامِ امن کمیٹی اور صوبائی پیغامِ امن کمیٹی کا قیام قومی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے، سندھ حکومت قومی اور صوبائی پیغامِ امن کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی، آئینِ پاکستان کے مطابق تمام شہریوں کے جان، مال، عزت، مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کا تحفظ حکومت ذمے داری ہے۔