محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی

حسان احمد

شہر کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا محلہ تھا جہاں ٹوٹی پھوٹی گلیاں، بجلی کے لٹکتے تار اور وقت کی مار کھائے ہوئے گھر تھے۔ انہی میں ایک گھر ایسا بھی تھا جس کی دیواریں نمی سے کالی پڑچکی تھیں۔ اس گھر میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا نام عادل تھا۔
عادل کے والد ایک مزدور تھے جو روزانہ دیہاڑی پر جاتے مگر اکثر خالی ہاتھ لوٹتے۔ ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرکے کسی طرح چولھا جلاتی۔ گھر میں غربت تھی، مگر اس سے زیادہ ایک اور چیز تھی… مایوسی۔
عادل بچپن سے ہی ذہین تھا۔ اس کے خواب بڑے تھے مگر حالات چھوٹے۔ وہ اکثر رات کو چھت پر بیٹھ کر آسمان کو دیکھتا اور سوچتا، “کیا میری زندگی بھی کبھی بدل سکتی ہے؟” اس کے دوست اس کا مذاق اڑاتے۔ “عادل! تم بھی بڑے خواب دیکھتے ہو؟ تمہارے حالات تو تمہیں کہیں جانے ہی نہیں دیں گے۔”
یہ جملے اس کے دل میں تیر کی طرح لگتے، مگر وہ خاموش رہتا۔ ایک دن اسکول میں استاد نے سب سے پوچھا: “تم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو؟”
سب نے مختلف جواب دیے، کوئی ڈاکٹر، کوئی انجینئر۔ جب عادل کی باری آئی تو اس نے آہستہ سے کہا:
“میں اپنی زندگی بدلنا چاہتا ہوں… اور اپنے ماں باپ کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔” کلاس میں کچھ بچے ہنس پڑے۔ مگر استاد خاموش رہا اور صرف اتنا کہا: “اگر نیت سچی ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں۔” یہ بات عادل کے دل میں اتر گئی۔
وقت گزرتا گیا۔ گھر کے حالات مزید خراب ہوگئے۔ ایک دن اس کے والد شدید بیمار ہو گئے اور کام پر جانا چھوڑ دیا۔ اب گھر کا سارا بوجھ عادل پر آ گیا۔ وہ اسکول کے بعد چائے کے ہوٹل پر کام کرنے لگا۔
اس کی زندگی اب دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ دن میں محنت اور رات میں پڑھائی۔ کئی بار وہ تھکن سے کتاب کھولتے ہی سوجاتا۔ کئی بار بھوک اسے شکست دینے لگتی مگر وہ ہر بار خود سے کہتا: “اگر آج ہار گیا تو کل بھی یہی زندگی ہوگی۔”
ایک رات جب وہ بہت تھکا ہوا تھا، اس کی ماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا! اگر تم تھک گئے ہو تو چھوڑ دو…” عادل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر کہا: “امی، اگر میں نے چھوڑ دیا تو آپ کی آنکھوں کے خواب کون پورے کرے گا؟” یہ جملہ سن کر ماں خاموش ہو گئی۔
برسوں کی محنت کے بعد وہ دن آیا جب عادل نے میٹرک میں ضلع بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جب نتیجہ آیا تو وہ چپ چاپ اسکول کے باہر بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر یہ آنسو شکست کے نہیں تھے… یہ کامیابی کے تھے۔ اس کے استاد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: “میں نے کہا تھا نا، نیت سچی ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں۔” عادل نے پہلی بار دل سے مسکرا کر کہا: “سر، راستے نہیں بنتے… انسان خود راستہ بن جاتا ہے۔”
آگے چل کر عادل نے تعلیم حاصل کی، اسکالرشپ پر یونیورسٹی گیا اور پھر ایک بڑے ادارے میں کام شروع کیا۔ چند سال بعد وہی لڑکا جس کے پاس کتاب خریدنے کے پیسے نہیں تھے، اب اپنے والدین کے لیے اپنا گھر بنارہا تھا۔ مگر اس نے کبھی اپنی اصل زندگی نہیں بھولی۔ وہ اکثر غریب بچوں کے لیے فری کلاسز لیتا اور انہیں یہی کہتا: “حالات کبھی بھی آپ کا فیصلہ نہیں کرتے… فیصلہ آپ کا حوصلہ کرتا ہے۔”
ایک دن وہ اپنے پرانے محلے گیا۔ وہی ٹوٹی دیواریں، وہی گلیاں… مگر اب اس کی آنکھوں میں وہی جگہ ایک سبق تھی، شکست نہیں۔
وہ ایک دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ اسی آسمان کو، جسے وہ بچپن میں خوابوں سے بھرا دیکھتا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا: “میں نے تمہیں نہیں چھوڑا تھا… میں نے بس وقت کا انتظار کیا تھا۔” اور ہوا میں ایک خاموشی تھی، جیسے وقت بھی اس کی بات سن کر مسکرا دیا ہو۔
زندگی میں حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، اگر نیت سچی ہو، محنت مسلسل ہو، اور یقین مضبوط ہو تو انسان اپنی تقدیر خود لکھ سکتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔