کوئٹہ سے یورپ تک: امید اور آزمائش

تحریر: انجینئر بخت سید یوسف زئی
(engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
یورپ پہنچنے کی خواہش میں ہزاروں تارکین وطن ہر سال جنگ، غربت، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام اور بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ یہ سفر صرف ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا نام نہیں بلکہ خوف، بھوک، تھکن، بے یقینی صورت حال اور مسلسل خطرات سے بھرا ایک طویل امتحان بن جاتا ہے۔ کئی افراد اپنے گھروں، خاندانوں اور برسوں کی یادوں کو پیچھے چھوڑ کر ایسے راستوں پر نکل پڑتے ہیں، جہاں ہر لمحہ ایک نئی آزمائش سامنے آتی ہے۔
ایک راستہ افریقی ملک کیمرون سے شروع ہوتا ہے جب کہ دوسرا افغانستان کے دارالحکومت کابل سے نکلنے والے ان افراد کا ہے جو جنگ، غربت اور غیر محفوظ حالات سے فرار ہوکر یورپ میں نئی زندگی کی امید رکھتے ہیں۔ ان راستوں پر سفر کرنے والے افراد کی کہانیاں انسانی مشکلات اور امید کی ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہیں۔
ان کے علاوہ پاکستان سے بھی بہتر مستقبل کی تلاش میں خطرناک راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے لوگ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کو ایک اہم پڑاؤ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جہاں سے وہ ایران، ترکی اور دیگر ممالک کے راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سفر اکثر غیر قانونی راستوں، دشوار گزار علاقوں اور خطرناک حالات سے بھرپور ہوتا ہے۔
کوئٹہ سے آگے بڑھنے والے افراد کو پہاڑی علاقوں، طویل صحرائی راستوں اور سخت موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ لوگ انسانی اسمگلروں کے ذریعے سرحدیں عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں انہیں نہ صرف مالی نقصان بلکہ گرفتاری، دھوکے اور جسمانی خطرات کا بھی سامنا رہتا ہے۔ کئی خاندان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی صرف اس امید پر لگادیتے ہیں کہ شاید بیرون ملک پہنچ کر ان کی مشکلات کم ہوجائیں گی۔
کیمرون سے آنے والے تارکین وطن کے لیے بھی یہ سفر آسان نہیں ہوتا۔ وہ افریقہ کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے کئی دنوں اور ہفتوں تک سفر کرتے ہیں، جہاں انہیں بھوک، پیاس، بیماری، لوٹ مار اور راستے کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے لوگ اس سفر میں اپنی جسمانی اور ذہنی طاقت کا آخری امتحان دیتے ہیں۔
افغانستان سے نکلنے والے تارکین وطن ایک ایسے ملک سے سفر شروع کرتے ہیں جہاں طویل عرصے سے جنگ، سیاسی بحران اور معاشی مشکلات نے عام شہریوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ کابل سے نکلنے کے بعد انہیں کئی ممالک کی سرحدیں عبور کرنا پڑتی ہیں، جہاں ہر مرحلہ خطرات اور بے یقینی صورت حال سے بھرا ہوتا ہے۔
ان تارکین وطن کا سفر ہزاروں کلومیٹر پر محیط ہوتا ہے۔ کچھ لوگ پیدل پہاڑوں اور صحراؤں سے گزرتے ہیں، کچھ چھپ چھپ کر سرحدیں عبور کرتے ہیں اور کچھ بحیرۂ روم کے خطرناک سمندری راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان تمام راستوں میں ایک بات مشترک ہے کہ ہر قدم پر زندگی کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔
بحیرۂ روم کا سفر ان افراد کے لیے سب سے زیادہ خطرناک مراحل میں شمار کیا جاتا ہے۔ چھوٹی اور غیر محفوظ کشتیوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو سوار کردیا جاتا ہے، جہاں خراب موسم، اونچی لہریں اور کشتیوں کی خرابی کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ کئی افراد یورپ پہنچنے سے پہلے ہی اپنی جانیں کھو دیتے ہیں۔
پاکستان، افغانستان اور افریقا سے آنے والے بہت سے تارکین وطن اپنے سفر کے دوران اپنے خاندانوں سے دُور ہوجاتے ہیں۔ کچھ لوگ مہینوں تک اپنے عزیزوں سے رابطہ نہیں کرپاتے جب کہ کچھ خاندان برسوں تک اپنے پیاروں کی واپسی کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
ان راستوں پر سفر کرنے والے افراد مسلسل خوف کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ انہیں پولیس کارروائیوں، سرحدی نگرانی، گرفتاری، واپس بھیجے جانے اور راستے میں جرائم پیشہ گروہوں کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ انسانی اسمگلر بھی ان افراد کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بہت سے تارکین وطن بھاری رقم ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں محفوظ منزل تک پہنچنے کی کوئی ضمانت نہیں ملتی۔ کئی افراد راستے میں دھوکے، تشدد اور استحصال کا شکار ہوجاتے ہیں۔
فرانس یا دیگر یورپی ممالک پہنچنے کے بعد بھی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔ انہیں پناہ کی درخواست، قانونی کارروائی، زبان کے مسائل، رہائش کی کمی اور روزگار حاصل کرنے جیسے کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ تارکین وطن مہینوں یا برسوں تک عارضی رہائش گاہوں اور کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یورپ پہنچنا منزل نہیں بلکہ ایک نئی جدوجہد کا آغاز بن جاتا ہے، جہاں انہیں اپنی جگہ بنانے کے لیے مسلسل کوشش کرنا پڑتی ہے۔
اس کے باوجود یہ لوگ امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔ ان کا یقین ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی منزل تک پہنچ گئے تو شاید انہیں بہتر تعلیم، روزگار، تحفظ اور اپنے بچوں کے لیے ایک روشن مستقبل مل سکے گا۔
ان تارکین وطن کی کہانیاں صرف سرحدیں عبور کرنے کی کہانیاں نہیں بلکہ انسانی حالات کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ ہر شخص کے پیچھے ایک خاندان، ایک ماضی اور ایک ایسی وجہ ہوتی ہے جو اسے اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہجرت کے مسئلے کو صرف سرحدوں کی سختی سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ان بنیادی وجوہ کو سمجھنا ضروری ہے جن میں جنگ، غربت، روزگار کی کمی اور سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔
یورپی ممالک کے لیے بھی یہ مسئلہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہیں ایک طرف انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوتا ہے جب کہ دوسری جانب اپنے سرحدی نظام، قوانین اور معاشرتی مسائل کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔
پاکستان سے کوئٹہ کے راستے نکلنے والے افراد ہوں، کابل سے سفر شروع کرنے والے افغان شہری ہوں یا افریقا سے آنے والے لوگ، ان سب کی منزل مختلف ہوسکتی ہے، لیکن ان کے خواب ایک جیسے ہوتے ہیں۔ وہ ایک محفوظ اور بہتر زندگی کی تلاش میں یہ خطرناک راستے اختیار کرتے ہیں۔ یہ سفر دکھاتا ہے کہ انسان بہتر مستقبل کی امید میں کتنی مشکلات برداشت کرسکتا ہے۔ ہزاروں کلومیٹر کا یہ راستہ صرف جغرافیائی فاصلہ نہیں بلکہ قربانی، صبر اور جدوجہد کی ایک داستان ہے۔ ہجرت کا مسئلہ آنے والے برسوں میں بھی دنیا کے لیے ایک اہم موضوع رہے گا، کیونکہ جب تک لوگوں کو اپنے ملکوں میں امن، مواقع اور تحفظ نہیں ملے گا، بہت سے لوگ نئے راستوں کی تلاش جاری رکھیں گے۔
ان تارکین وطن کی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہر شخص جو سرحد پار کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ صرف ایک اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک انسان ہے، جس کے دل میں امید، آنکھوں میں خواب اور زندگی کو بہتر بنانے کی خواہش موجود ہوتی ہے۔