قید سے تخلیق تک: جنوبی افریقا کی جیلیں آرٹ گیلریوں میں تبدیل

جوہانسبرگ: لیووکوپ کریکشنل فیسلٹی میں قائم آرٹ گیلری سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہی ہے، جہاں قیدیوں کے تیار کردہ فن پارے عوام کے لیے نمائش پر رکھے گئے ہیں۔
یہ اقدام محکمہ اصلاحِ خانہ کی بحالی پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد قیدیوں کو فنی مہارتیں سکھانا، روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور رہائی کے بعد بہتر زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے۔
2023 سے اب تک ملک بھر کی جیلوں میں نو آرٹس اینڈ کرافٹس گیلریاں قائم کی جاچکی ہیں۔
جوہانسبرگ کی لیووکوپ جیل میں 34 قیدیوں کے فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ثقافت، یادوں اور ذاتی تبدیلی کی عکاسی کی گئی ہے۔ قیدی ایک دوسرے کے فن پارے بھی دیکھ سکتے ہیں جس سے انہیں حوصلہ اور مثبت سوچ ملتی ہے۔
51 سالہ قیدی فریڈی مونگکوائی (جو قتل کے مقدمے میں 12 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں) کا کہنا تھا کہ آرٹ نے ان کی ذہنی کیفیت بدل دی ہے۔
ان کے مطابق مصوری اور مجسمہ سازی سے انہیں سکون، توجہ اور امید ملی ہے، جس سے وہ اپنی زندگی کو نئے انداز سے دیکھنے لگے ہیں۔
فریڈی کی تازہ ترین تخلیق فیفا ورلڈکپ ٹرافی کی ایک نقل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بار بار جرم کرنے والے افراد جیلوں میں گنجائش کی کمی (اوور کراؤڈنگ) کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔
جنوبی افریقا میں دوبارہ جرم کرنے کی شرح کے مختلف اندازے موجود ہیں، کیونکہ اس کی تعریف مختلف ادارے مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ تاہم، بعض اندازوں کے مطابق یہ شرح 95 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔