موجودہ نظام ناکام، نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ہی مسائل کا حل ہیں، وزیر داخلہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، اب نئے انتظامی یونٹس یا صوبے ہی مسائل کے حل کا راستہ ہیں۔
فرسٹ پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں وہ collapse کرچکا ہے، چاہے ہم اسے مانیں یا نہ مانیں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ نظام برقرار رہا تو 10 سال بعد بھی ہم یہی مسائل بیان کررہے ہوں گے، ملک کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں جمہوری نظام موجود ہے، لیکن وہاں مختلف انتظامی ماڈلز اپنائے گئے ہیں جب کہ پاکستان میں ایک ہی نظام کو جاری رکھنے پر اصرار کیا جارہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ بڑے انتظامی ڈھانچے عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے حکومتی سہولتیں عوام تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچ سکتی ہیں اور مسائل کے حل کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔
محسن نقوی نے خطاب کے دوران کہا کہ میں عام طور پر سیاسی گفتگو نہیں کرتا، لیکن آج سیاسی بات کرنا پڑرہی ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کے مستقبل کے لیے مشکل فیصلوں اور نئے طریقہ کار پر غور کرنا ہوگا، کیونکہ صرف پرانے نظام کو جاری رکھنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
محسن نقوی نے فرسٹ پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب میں انتظامی اصلاحات کو معاشی ترقی سے بھی جوڑا اور کہا کہ مؤثر نظام کے بغیر ترقی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہے۔
وزیر داخلہ نے زور دیا کہ ملک کو ایسے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو عوامی مسائل کو تیزی سے حل کر سکے اور ترقی کے عمل کو بہتر انداز میں آگے بڑھا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں وہ تباہ ہوچکا ہے، چاہے ہم اسے تسلیم کریں یا نہ کریں۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں ہر چیز خراب نہیں، تاہم بہتری کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں بھی مختلف ممالک نے مختلف انتظامی ماڈلز اپنائے ہوئے ہیں، لیکن پاکستان میں ایک ہی نظام کو جاری رکھنے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی عام آدمی کو انصاف کے حصول کے لیے میلوں دور جانا پڑتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے صرف باتیں کافی نہیں بلکہ عملی اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ عام شہری کو سہولت مل سکے۔
وزیر داخلہ نے اس سے قبل بھی نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کو مسائل کے حل کا ایک ممکنہ راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے انتظامی ڈھانچے میں عوامی مسائل کے حل میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں انہوں نے کہا کہ اگر نظام کو مؤثر نہ بنایا گیا تو آنے والے برسوں میں بھی ملک انہی مسائل پر گفتگو کرتا رہے گا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب نظام میں موجود خامیوں کو درست کرنے کی کوشش کی جائے گی تو مزاحمت بھی سامنے آئے گی، ان کا کہنا تھا کہ “کاکروچ نکلیں گے تو سب کچھ الٹ دیں گے”، تاہم ملک کی بہتری کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھنا ہوگا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔