ایچ آئی وی کا بڑھتا خطرہ

محمد راحیل وارثی

سندھ میں گزشتہ قریباً ایک دہائی کے دوران ایچ آئی وی/ایڈز کے متعدد بڑے آؤٹ بریکس سامنے آنا اس حقیقت کی واضح نشان دہی ہے کہ پاکستان کا نظامِ صحت اب بھی متعدی بیماریوں کی روک تھام، انفیکشن کنٹرول اور طبی نگرانی کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا شکار ہے۔ 2016 میں لاڑکانہ کے ڈائیلیسس مریضوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی، اس کے بعد لاڑکانہ میں بچوں میں وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ، مختلف اضلاع سے مسلسل نئے کیسز کی رپورٹنگ اور حالیہ دنوں میں کراچی کے ایک اسپتال سے سامنے آنے والے متعدد مریض اس امر کا ثبوت ہیں کہ مسئلہ کسی ایک واقعے یا ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ یہ صحتِ عامہ کے نظام میں موجود گہری خامیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر بروقت، مؤثر اور مستقل اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ بحران مستقبل میں مزید سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔
افسوس کہ ہر بڑے واقعے کے بعد تحقیقات، انکوائری کمیٹیاں، ہنگامی اجلاس اور وقتی اقدامات ضرور کیے جاتے ہیں، مگر جیسے ہی میڈیا اور عوام کی توجہ کسی نئے مسئلے کی طرف منتقل ہوتی ہے، اصلاحات کا عمل بھی سست روی کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر محفوظ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات، خون کی غیر معیاری اسکریننگ، طبی فضلے کی غلط تلفی، غیر رجسٹرڈ لیبارٹریوں اور نجی کلینکس کی کمزور نگرانی اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کی سرگرمیاں بدستور جاری رہتی ہیں۔ ایسے عوامل نہ صرف ایچ آئی وی بلکہ ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر خطرناک متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا بھی سبب بنتے ہیں۔
پاکستان میں صحت کے شعبے کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ نجی طبی مراکز کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، مگر ان کی نگرانی اور معیار کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام موجود نہیں۔ بہت سے کلینکس اور چھوٹے اسپتال بنیادی حفاظتی اصولوں پر عمل کیے بغیر مریضوں کا علاج کررہے ہیں۔ کئی مقامات پر ایک ہی سرنج یا طبی آلات کو مناسب جراثیم کُش عمل کے بغیر دوبارہ استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ اسی طرح خون کی منتقلی کے مراکز میں اسکریننگ کے ناقص انتظامات بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایسے حالات میں مریض علاج کی غرض سے اسپتال کا رخ کرتا ہے، مگر بعض اوقات وہ کسی دوسری مہلک بیماری کا شکار ہو جاتا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے۔
یہ مسئلہ صرف سندھ یا کسی ایک شہر تک محدود نہیں۔ قومی سطح پر بھی ہر سال ایچ آئی وی کے نئے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ اگرچہ وائرس کے پھیلاؤ کی متعدد وجوہ ہیں، تاہم طبی شعبے میں حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی، غیر محفوظ طبی طریقۂ کار، غیر معیاری بلڈ بینک، غیر قانونی لیبارٹریاں اور نگرانی کے کمزور نظام اس خطرے میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو صرف ایک صوبے کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی صحتِ عامہ کے بحران کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر ایک جامع قومی حکمتِ عملی تشکیل دیں، جس میں انفیکشن کنٹرول کے یکساں معیارات، خون کی اسکریننگ کا جدید اور شفاف نظام، سرکاری و نجی اسپتالوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ، طبی فضلے کی محفوظ تلفی، سرنجوں کے محفوظ استعمال اور طبی عملے کی مسلسل تربیت کو اولین ترجیح دی جائے۔ ہر اسپتال، کلینک اور لیبارٹری کی باقاعدہ انسپکشن کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ صرف جرمانے کافی نہیں بلکہ ایسے مراکز کے لائسنس معطل یا منسوخ کرنے جیسے سخت اقدامات بھی ضروری ہیں، تاکہ صحت عامہ سے کھیلنے والوں کے لیے واضح پیغام جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی ناگزیر ہے۔ شہریوں کو یہ شعور دیا جانا چاہیے کہ وہ علاج کے دوران ہمیشہ نئی اور سیل بند سرنج کے استعمال پر اصرار کریں، خون صرف مستند اور رجسٹرڈ بلڈ بینکوں سے حاصل کریں، غیر رجسٹرڈ کلینکس سے علاج سے گریز کریں اور کسی بھی مشتبہ طبی سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ میڈیا، تعلیمی ادارے، مذہبی و سماجی تنظیمیں اور طبی ماہرین اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔ جب تک عوام خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کریں گے، صرف حکومتی اقدامات مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں گے۔
مزید برآں، پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کے ساتھ سماجی رویے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے لاعلمی اور غلط فہمیوں کے باعث ایسے مریض اکثر معاشرتی امتیاز، تنہائی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انہیں علاج، مشاورت اور سماجی تعاون کی فراہمی ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ بیماری سے لڑنے کے ساتھ ساتھ مریضوں کے وقار اور حقوق کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔
ایچ آئی وی ایک ایسا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے وقتی ردِعمل، نمائشی کارروائیاں یا چند روزہ مہمات کافی نہیں۔ اس کے لیے مضبوط نگرانی، مؤثر قانون سازی، جدید طبی معیارات، مستقل اصلاحات، شفاف احتساب اور عوامی شمولیت پر مبنی حکمتِ عملی درکار ہے۔ عوام کی صحت کا تحفظ ریاست کی بنیادی آئینی اور اخلاقی ذمے داری ہے۔ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو کل اس کی انسانی، سماجی اور معاشی قیمت کہیں زیادہ بھاری ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، طبی ادارے، سول سوسائٹی اور عوام مل کر اس خاموش مگر سنگین خطرے کا مقابلہ کریں، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور صحت مند پاکستان فراہم کیا جاسکے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔