مفت کی دعوت

حسان احمد

گاؤں میں ایک شخصیت ایسی تھی جس کا اصل نام تو زبیر شہزاد تھا، لیکن پورا علاقہ اسے زبیر خالی جیب کے نام سے جانتا تھا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ غریب تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس کی جیب میں کبھی پیسے نہیں ہوتے تھے… مگر زبان ایسی کہ سننے والا سمجھے یہ دبئی کے شیخوں کا مالی مشیر ہے۔
وہ اکثر کہا کرتا تھا: "بھائی! پیسہ ہاتھ کا میل ہے… اصل چیز عزت ہے۔” لوگ ہنس کر جواب دیتے: "زبیر صاحب! پہلے ہاتھ میں میل تو آنے دیں!”
ایک دن زبیر گاؤں کے ہوٹل پر بیٹھا سب کو لمبی لمبی چھوڑ رہا تھا۔ "کل شہر گیا تھا… ایک ہوٹل والے نے کہا، زبیر صاحب! آپ کھانا کھا لیں، پیسے بعد میں دے دیجیے۔” قریب بیٹھا نائی بولا: "بعد میں دیے تھے؟” زبیر نے کھنکار کر کہا: "نہیں… پھر میں نے سوچا اس کی عادت خراب نہیں کرنی چاہیے، اس لیے کھانا ہی نہیں کھایا!” پورا ہوٹل قہقہوں سے گونج اٹھا۔
زبیر کی ایک اور عجیب عادت تھی۔ جہاں بھی مفت کھانے کی خبر ملتی، سب سے پہلے پہنچ جاتا۔ چاہے شادی ہو، منگنی، عقیقہ، ختم، میلاد یا سیاسی جلسہ… اسے بس یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بریانی کہاں مل رہی ہے۔ ایک دن خبر ملی کہ پڑوس کے گاؤں میں بہت بڑے زمیندار کی بیٹی کی شادی ہے۔ زبیر نے فوراً نئی پگڑی باندھی، پرانا کوٹ جھاڑا، جوتوں پر سرسوں کا تیل مَل کر چمکایا اور روانہ ہوگیا۔ راستے میں دوست نے پوچھا: "دعوت نامہ کہاں ہے؟” زبیر بولا: "دعوت نامہ کمزور لوگ ساتھ رکھتے ہیں… ہمیں تو لوگ چہرہ دیکھ کر اندر بلالیتے ہیں۔”
شادی ہال پہنچا تو دروازے پر دو نوجوان کھڑے تھے۔ انہوں نے پوچھا: "آپ کس طرف سے ہیں؟” زبیر فوراً بولا: "میں دلہن والوں کی طرف سے بھی ہوں… اور دلہے والوں کی طرف سے بھی!” نوجوان حیران۔ "وہ کیسے؟” "میں اتحاد پسند آدمی ہوں!” انہوں نے ہنس کر اندر جانے دیا۔
جب کھانا شروع ہوا تو زبیر نے پہلے پہلی پلیٹ ختم کی… پھر دوسری پلیٹ… اور تیسری پلیٹ… چوتھی پلیٹ نمٹادی۔ ساتھ بیٹھا آدمی بولا: "زبیر صاحب! لگتا ہے صبح سے کچھ نہیں کھایا؟”
زبیر نے جواب دیا: "کھایا تو تھا… لیکن مفت کھانے کی عزت رکھنا بھی ضروری ہے۔” کھانے کے بعد میٹھے کی باری آئی۔ اس نے جیب سے رومال نکالا اور چپکے سے اس میں چار گلاب جامن باندھنے لگا۔ ویٹر نے دیکھ لیا۔ "بابا جی! یہ کیا کررہے ہیں؟” زبیر نے پورے اعتماد سے کہا: "یہ میری شوگر کی دوا ہے۔” "گلاب جامن؟” "ہاں… شوگر اوپر جائے تو مزہ آتا ہے!”
اسی دوران زمیندار خود مہمانوں سے ملنے آیا۔ وہ ہر ایک سے پوچھ رہا تھا: "آپ کون ہیں؟” زبیر نے سوچا، اب تو راز کھل جائے گا۔ اس نے فوراً موبائل کان سے لگایا… حالانکہ موبائل بند تھا۔ اونچی آواز میں بولا: "جی وزیراعظم صاحب! ابھی مصروف ہوں… بعد میں بات کرتا ہوں!”
پورا ہال اس کی طرف دیکھنے لگا۔ زمیندار بھی رک گیا۔ زبیر نے فون بند کیا اور بڑے رعب سے کہا: "معاف کیجیے… ملکی معاملات تھے۔” زمیندار نے سر ہلایا اور آگے بڑھ گیا۔ زبیر نے سکون کا سانس لیا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ اچانک ایک بچہ بھاگتا ہوا آیا۔ "امّی! یہی وہ انکل ہیں جو پچھلے مہینے ہمارے محلے کی تین شادیوں میں بھی کھانا کھا گئے تھے!” پورا ہال خاموش…
پھر ایسا قہقہہ لگا کہ برتن تک بجنے لگے۔ زبیر کا رنگ لال ہوگیا۔ اس نے بچے کو گھور کر دیکھا۔ بچہ بولا: "انکل! آپ ہر جگہ کیوں آ جاتے ہیں؟”
زبیر نے آہستہ سے کہا: "بیٹا… میں عوامی شخصیت ہوں!”
اب زمیندار دوبارہ واپس آیا۔ اس نے مسکرا کر پوچھا: "محترم! سچ سچ بتائیں… آپ کو کس نے بلایا ہے؟” زبیر نے پہلی بار سر جھکا لیا۔ کہنے لگا: "کسی نے نہیں۔” "پھر کیوں آئے؟” "سوچا… مفت کا کھانا مل جائے گا۔”
ہال میں موجود سب لوگ خاموش ہوگئے۔ سب کو لگا اب زمیندار اسے ذلیل کرے گا۔لیکن زمیندار مسکرایا۔ اس نے زبیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: "بھائی! کھانا کھانا جرم نہیں… جھوٹ بولنا جرم ہے۔”
پھر اس نے اعلان کیا: "آج کے بعد اگر کبھی بھوک لگے تو میرے گھر آ جانا… مگر جھوٹ بول کر نہیں، سچ کہہ کر۔” زبیر کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ اس نے پہلی بار بغیر کسی بہانے کے کہا: "مجھ سے غلطی ہوئی۔” اس دن کے بعد گاؤں والوں نے واقعی تبدیلی دیکھی۔
زبیر اب بھی مزاح کرتا تھا، ہنساتا بھی تھا، لیکن جھوٹ بول کر اپنی جھوٹی شان نہیں بناتا تھا۔ ایک دن ہوٹل پر بیٹھا تھا۔ دوست نے پوچھا: "زبیر! آج کل شادیوں میں نہیں جاتے؟” وہ مسکرا کر بولا: "جاتا ہوں… اگر دعوت ہو تو۔”
"اور اگر نہ ہو؟”
"پھر گھر میں دال کھا لیتا ہوں… کم از کم عزت تو ساتھ رہتی ہے۔”
سب لوگ ہنس پڑے۔ نائی بولا: "واہ زبیر! آج پہلی بار تم واقعی امیر لگ رہے ہو۔”
زبیر نے حیرت سے پوچھا: "جیب تو آج بھی خالی ہے!” نائی نے جواب دیا: "جیب خالی ہو تو کوئی بات نہیں… کردار خالی نہیں ہونا چاہیے۔”
یہ سن کر پورا ہوٹل تالیاں بجانے لگا اور زبیر بھی برسوں بعد دل کھول کر ہنسا۔
سبق: انسان کی اصل دولت اس کی ایمان داری، خودداری اور سچائی ہے۔ وقتی فائدے کے لیے بولا گیا جھوٹ چند لمحوں کی خوشی تو دے سکتا ہے، لیکن عزت چھین لیتا ہے جب کہ سچ بولنے والا، چاہے اس کی جیب خالی ہو، لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ عزت پاتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔