دعا کبھی ضائع نہیں ہوتی

بلال ظفر سولنگی

رات کے پچھلے پہر شہر کی سڑکیں خاموش تھیں۔ بارش مسلسل برس رہی تھی اور ایک پرانی ڈاک خانے کی عمارت کے باہر زنگ آلود صندوق پر پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ اسی عمارت کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بتی جل رہی تھی۔ وہاں ایک بوڑھا ڈاکیہ بیٹھا تھا، جس کا نام رئوفان تھا۔ رئوفان کو ریٹائر ہوئے سات سال گزر چکے تھے، مگر ہر جمعرات وہ پرانے ڈاک خانے میں آتا اور ان خطوط کو دیکھتا جو کبھی اپنے منزل تک نہ پہنچ سکے تھے۔
ایک رات اسے لکڑی کی الماری کے پیچھے ایک زرد لفافہ ملا۔ لفافے پر صرف اتنا لکھا تھا: “جس شخص کو اللہ یہ خط پہنچائے۔” رئوفان نے حیرت سے لفافہ کھولا۔ اندر ایک چھوٹا سا کاغذ تھا۔ “یااللہ! میرے پاس دینے کو کچھ نہیں۔ بس ایک دعا ہے۔ میرے ابو کی بینائی واپس کردے۔ اگر میری دعا قبول ہوجائے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں کسی ضرورت مند کو کبھی کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاؤں گا۔” نیچے ایک نام لکھا تھا: “زُہیر”
رئوفان دیر تک اس کاغذ کو دیکھتا رہا۔ سات سال سے یہ خط یہاں کیسے پڑا تھا؟ وہ اگلی صبح زُہیر کو تلاش کرنے نکل پڑا۔ محلے کے ایک بوڑھے دکان دار نے بتایا کہ زہیر کبھی یہاں رہتا تھا، مگر برسوں پہلے شہر چھوڑ گیا تھا۔ رئوفان نے تلاش جاری رکھی۔ کئی دن بعد اسے معلوم ہوا کہ زہیر اب شہر کے دوسرے کنارے پر ایک چھوٹی سی ورکشاپ چلاتا ہے۔ رئوفان وہاں پہنچا تو ایک نوجوان مزدور لکڑی کاٹ رہا تھا۔ “زہیر؟”
نوجوان نے چونک کر سر اٹھایا۔ “جی۔” رئوفان نے جیب سے وہ خط نکالا۔
زہیر نے خط دیکھا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ “یہ آپ کو کہاں ملا؟”
رئوفان نے بتایا۔ زہیر نے خط سینے سے لگالیا۔ کچھ دیر بعد بولا: “یہ میں نے سترہ سال کی عمر میں لکھا تھا۔ میرے ابو نابینا ہوگئے تھے۔ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ میں نے یہ خط اللہ کے نام لکھ کر مسجد کی دیوار کے پاس رکھ دیا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ اسے پڑھ لے گا۔”
رئوفان نے پوچھا: “پھر کیا ہوا؟”
زہیر مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں درد تھا۔ “میرے ابو کی بینائی واپس نہیں آئی۔ کچھ سال بعد وہ دنیا سے چلے گئے۔ میں نے سمجھا میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ میں اللہ سے ناراض ہوگیا۔”
رئوفان خاموش رہا۔ زہیر نے سر جھکالیا۔ “پھر ایک دن ابو کی پرانی جیب سے ایک کاغذ ملا۔ اس پر لکھا تھا: بیٹا! اگر میری آنکھیں واپس نہ آئیں تو اللہ سے ناراض مت ہونا۔ ممکن ہے اللہ نے میری آنکھوں کے بجائے تمہیں ایسا دل دینا ہو جو دوسروں کا درد دیکھ سکے۔”
زہیر کی آواز ٹوٹ گئی۔ “اس دن مجھے سمجھ آیا کہ میں نے دعا کا جواب اپنی مرضی کے مطابق مانگا تھا، اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں۔” رئوفان کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔
زہیر نے کہا: “میں نے ابو کی موت کے بعد ان کا وعدہ نبھانے کی کوشش شروع کردی۔ میری ورکشاپ چھوٹی ہے، مگر روزانہ کوئی نہ کوئی غریب آتا ہے تو میں اس کی مدد کرتا ہوں۔ کبھی کسی بچے کی فیس، کبھی کسی بیمار کے لیے دوا، کبھی کسی بیوہ کے گھر راشن۔” رئوفان نے حیرت سے پوچھا: “تم نے یہ سب اسی دعا کی وجہ سے کیا؟”
زہیر نے آہستہ سے جواب دیا: “جی۔ شاید میری دعا قبول ہوئی تھی، بس بہت دیر سے سمجھ آئی۔”
رئوفان نے خط واپس کرنے کی کوشش کی۔ زہیر نے سرہلادیا۔ “نہیں، یہ اب آپ رکھیں۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ یہ خط مجھے یاد دلاتا ہے کہ اللہ سے مانگی ہوئی کوئی دعا ضائع نہیں ہوتی۔”
چند ماہ گزر گئے۔ ایک دن رئوفان شدید بیمار ہوگیا۔ علاج کے لیے رقم درکار تھی، مگر اس کے پاس کچھ نہ تھا۔ وہ اسپتال کے بستر پر خاموش لیٹا چھت کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک دروازہ کھلا۔ زہیر اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا۔ “یہ کیا ہے؟”
زہیر نے لفافہ رئوفان کے ہاتھ میں رکھا۔ “آپ کے علاج کے پیسے۔”
رئوفان کی آنکھیں بھر آئیں۔ “لیکن تم نے اتنی بڑی رقم کہاں سے جمع کی؟”
زہیر مسکرایا۔ “جن لوگوں کے ہاتھ میں نے برسوں پہلے چھوٹی چھوٹی مدد رکھی تھی، آج انہی ہاتھوں نے میرے لیے یہ رقم جمع کی ہے۔”
رئوفان خاموش ہوگیا۔ زہیر نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔ “بابا رئوفان، آپ نے میرا سترہ سال پرانا خط مجھے واپس کیا تھا۔ آج میں اس خط کا جواب لے کر آیا ہوں۔”
رئوفان پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ کمرے میں دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ مگر یہ آنسو غم کے نہیں تھے۔ یہ اس یقین کے آنسو تھے کہ اللہ کبھی کسی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔ رئوفان نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: “یااللہ! ہمیں تیری حکمت دیر سے سمجھ آتی ہے، مگر تُو ہماری دعائیں کبھی دیر سے نہیں سنتا۔” زہیر نے آمین کہی۔ اور اس دن ایک پرانے خط نے دو انسانوں کو یہ سبق دے دیا کہ دعا کا جواب ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔
کبھی اللہ ہماری مانگی ہوئی چیز نہیں دیتا، کیونکہ وہ ہمیں اس سے کہیں بہتر راستے پر لے جانا چاہتا ہے۔ کبھی ایک بند دروازہ، کسی بڑی نعمت کی طرف کھلنے والا راستہ ہوتا ہے۔ اور کبھی ہماری ایک خاموش دعا، برسوں بعد کسی دوسرے انسان کی زندگی میں روشنی بن کر واپس آتی ہے۔ سبق یہی ہے: اللہ سے مانگتے رہو، نیکی کرتے رہو اور انتظار میں مایوس نہ ہو۔ کیونکہ آسمان تک پہنچنے والی دعا کبھی گم نہیں ہوتی۔ وہ یا تو نعمت بن کر واپس آتی ہے، یا راستہ بن جاتی ہے، یا پھر قیامت کے دن ہماری سب سے بڑی خوشی بن کر سامنے آتی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔