مایوسی کے جنگل میں امید کا درخت

وقاص بیگ
شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک بوڑھا درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں اب پہلے جیسی گھنی نہیں رہی تھیں۔ کئی ٹہنیاں سوکھ چکی تھیں، تنے پر وقت کے نشان صاف دکھائی دیتے تھے، مگر اس درخت کے نیچے آج بھی لوگ کچھ دیر بیٹھتے، بچے کھیلتے اور مسافر دھوپ سے بچنے کے لیے سایہ تلاش کرتے تھے۔ اسی محلے میں حارث نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔
وہ ہمیشہ شکایت کرتا تھا۔ کبھی کہتا، "میرے پاس مواقع نہیں۔” کبھی کہتا، "میرے حالات دوسروں جیسے نہیں۔” کبھی اسے لگتا کہ اس کے نصیب میں کامیابی لکھی ہی نہیں گئی۔ ایک دن حارث اسی بوڑھے درخت کے نیچے بیٹھا اپنے دوست سے کہہ رہا تھا: "میری زندگی بھی اس درخت جیسی ہوگئی ہے۔ نہ کوئی شاخ نئی، نہ کوئی پھل، نہ کوئی فائدہ۔ بس پرانا وجود باقی ہے۔”
قریب ہی ایک بوڑھا مالی بیٹھا یہ بات سن رہا تھا۔ اس نے مسکرا کر کہا: "بیٹا، تمہیں اس درخت میں صرف سوکھی شاخیں نظر آرہی ہیں؟” حارث نے کہا: "اور کیا نظر آئے گا؟” مالی نے درخت کی طرف اشارہ کیا۔ "ذرا غور سے دیکھو۔”
حارث نے دیکھا۔ واقعی ایک شاخ پر ننھے ننھے سبز پتے نکل رہے تھے۔ وہ حیران ہوگیا۔ "یہ تو نئی کونپلیں ہیں!”
مالی مسکرایا: "ہاں۔” حارث نے کہا: "مگر درخت تو قریباً سوکھ چکا ہے۔”
بوڑھے نے جواب دیا: "قریباً سوکھ جانا اور مکمل سوکھ جانا ایک بات نہیں ہوتی۔” یہ جملہ حارث کے دل میں اتر گیا۔
اگلے دن وہ دوبارہ درخت کے پاس آیا۔ مالی وہاں موجود تھا۔ حارث نے پوچھا: "بابا، آپ روز اس درخت کی دیکھ بھال کیوں کرتے ہیں؟ یہ تو بہت پرانا ہے۔ اس کی جگہ نیا درخت لگادیں تو شاید زیادہ اچھا سایہ دے۔”
مالی نے مٹی کھودتے ہوئے کہا: "کیونکہ پرانے درخت کو صرف اس لیے نہیں کاٹ دینا چاہیے کہ وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ کبھی کبھی اس کی جڑیں ابھی بھی زندہ ہوتی ہیں۔” حارث خاموش ہوگیا۔
مالی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: "تم بھی تو یہی کررہے ہو۔”
"کیا؟”
"اپنی زندگی کو صرف اس لیے ناکام سمجھ رہے ہو کہ ابھی وہ ویسی نہیں بنی جیسی تم چاہتے تھے۔”
حارث نے نظریں جھکالیں۔ مالی نے کہا: "بیٹا، درخت کی اصل طاقت اس کے پتوں میں نہیں، جڑوں میں ہوتی ہے۔ پتے خزاں میں گرجاتے ہیں، شاخیں ٹوٹ جاتی ہیں، مگر اگر جڑیں زندہ ہوں تو بہار واپس آسکتی ہے۔”
حارث نے پہلی بار اپنی زندگی کو اس زاویے سے دیکھا۔ اس نے سوچا، "شاید میں بھی صرف اپنی ناکامیوں کو دیکھ رہا ہوں۔” اس دن سے اس نے ایک عجیب عادت اپنالی۔ ہر رات سونے سے پہلے وہ اپنی تین اچھی چیزیں لکھتا۔
پہلے دن اس نے لکھا: "میرے والدین زندہ ہیں۔” دوسرے دن: "میں صحت مند ہوں۔” تیسرے دن: "میرے پاس سیکھنے کی صلاحیت ہے۔” چوتھے دن اسے لکھنے کے لیے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ وہ کافی دیر خالی کاغذ کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے لکھا: "میں ابھی ہارا نہیں ہوں۔”
یہ جملہ اس کے لیے بہت بڑا تھا۔ کچھ دن بعد حارث نے اپنے ایک پرانے ہنر کو دوبارہ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ وہ لکڑی کا کام جانتا تھا، مگر برسوں سے اسے معمولی سمجھ کر چھوڑ چکا تھا۔ اس نے گھر میں پڑی پرانی لکڑی سے چھوٹی چھوٹی چیزیں بنانا شروع کیں۔ پہلی چیز کسی نے نہیں خریدی۔ دوسری بھی نہیں۔ تیسری بھی نہیں۔ وہ پھر مایوس ہونے لگا۔
اسی شام وہ بوڑھے درخت کے پاس گیا۔ مالی نے پوچھا: "آج پھر چہرہ کیوں لٹکا ہوا ہے؟” حارث نے کہا: "میری چیزیں کوئی نہیں خریدتا۔”
بوڑھا ہنسا: "تو تم نے درخت سے کیا سیکھا تھا؟”
حارث خاموش ہوگیا۔ مالی نے کہا: "کونپل کو درخت بننے میں وقت لگتا ہے۔ تم نے بیج ڈالا اور اگلے دن پھل مانگ لیا؟” حارث مسکرا دیا۔
اس نے دوبارہ کوشش شروع کردی۔ اس بار اس نے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کی تصاویر بنائیں، لوگوں کو دکھائیں، ان کے مشورے لیے اور اپنی غلطیاں درست کیں۔ چند ہفتوں بعد پہلی چیز فروخت ہوئی۔ رقم بہت زیادہ نہیں تھی۔ لیکن حارث نے وہ پیسے ہاتھ میں لے کر ایسے دیکھے جیسے اسے خزانہ مل گیا ہو۔
اس نے دو رکعت شکرانے کی نماز ادا کی۔ سجدے میں اس نے کہا: "یااللہ، میں سمجھتا تھا کہ تُو نے میرے لیے کچھ نہیں رکھا۔ شاید مسئلہ یہ تھا کہ میں نے خود کوشش کرنا چھوڑ دی تھی۔” مہینے گزرتے گئے۔ حارث کا کام آہستہ آہستہ بڑھنے لگا۔ ایک دن وہ اسی بوڑھے درخت کے نیچے بیٹھا تھا کہ اس نے دیکھا، درخت پر پہلے سے کہیں زیادہ سبز پتے تھے۔ اس نے مالی کو تلاش کیا، مگر وہ وہاں نہیں تھا۔ کچھ دن بعد خبر ملی کہ بوڑھا مالی انتقال کرگیا ہے۔
حارث بہت اداس ہوا۔ وہ درخت کے نیچے بیٹھا اور دیر تک خاموش رہا۔ پھر اسے مالی کی بات یاد آئی: "پرانے درخت کو صرف اس لیے نہیں کاٹ دینا چاہیے کہ وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔” حارث نے اسی دن فیصلہ کیا کہ وہ اس درخت کی دیکھ بھال جاری رکھے گا۔
سال گزرتے گئے۔ اب حارث خود کئی نوجوانوں کو لکڑی کا ہنر سکھاتا تھا۔ ایک دن ایک نوجوان اس کے پاس آیا اور بولا: "استاد، میرے حالات بہت خراب ہیں۔ میرے پاس کوئی موقع نہیں۔ مجھے لگتا ہے میری زندگی ختم ہوگئی ہے۔”
حارث نے اسے دیکھا۔ پھر اسے اپنے پرانے دن یاد آگئے۔ وہ نوجوان کو لے کر اسی بوڑھے درخت کے پاس گیا۔ درخت اب بھی کھڑا تھا۔ اس نے کہا: "اسے دیکھو۔”
نوجوان نے کہا: "یہ تو بہت پرانا درخت ہے۔” حارث مسکرایا: "مگر زندہ ہے۔” پھر اس نے کہا: "تمہاری زندگی میں بھی کچھ شاخیں سوکھ گئی ہوں گی۔ کچھ خواب مر گئے ہوں گے۔ کچھ لوگ چھوڑ گئے ہوں گے۔ کچھ مواقع ہاتھ سے نکل گئے ہوں گے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہاری جڑیں مر گئی ہیں۔”
نوجوان خاموشی سے درخت کو دیکھتا رہا۔ حارث نے کہا: "اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف نتیجہ دیکھنے کے لیے نہیں، کوشش کرنے کے لیے بھی پیدا کیا ہے۔ کبھی تمہاری محنت کا پھل فوراً نہیں آتا، کبھی تمہیں اپنی کوشش کا فائدہ برسوں بعد دکھائی دیتا ہے۔ مگر اللہ کے ہاں کوئی نیکی اور کوئی سچی کوشش ضائع نہیں ہوتی۔” پھر اس نے قرآن مجید کی ایک آیت کا مفہوم بیان کیا: "اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔” (النجم: 39)
نوجوان نے پوچھا: "لیکن اگر کوشش کے باوجود کامیابی نہ ملے تو؟” حارث نے جواب دیا: "پھر شاید اللہ تمہیں کامیابی سے پہلے مضبوط بنارہا ہو۔” وہ دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔
درخت کی ایک شاخ سے ایک پتا ٹوٹ کر زمین پر گرا۔ حارث نے اسے اٹھایا اور مسکرا کر کہا: "دیکھا؟ پتا گرگیا، درخت نہیں۔”
یہی زندگی کا راز ہے۔ کبھی ایک ناکامی کو اپنی پوری زندگی کا فیصلہ مت بننے دیں۔ایک رشتہ ٹوٹ جائے تو زندگی ختم نہیں ہوتی۔ ایک کاروبار ناکام ہوجائے تو صلاحیت ختم نہیں ہوتی۔ ایک موقع ہاتھ سے نکل جائے تو مستقبل ختم نہیں ہوجاتا۔ کبھی کبھی زندگی ہم سے کچھ چیزیں اس لیے لے لیتی ہے کہ ہمیں یہ دکھاسکے کہ ہمارے اندر ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، اپنے رب سے تعلق کو اپنی طاقت بنائیں۔ نماز میں بات کریں۔ دعا میں اپنا دل رکھ دیں۔ پھر اٹھیں، اپنے ہاتھ استعمال کریں، اپنی صلاحیت استعمال کریں، دوبارہ کوشش کریں۔
کیونکہ اللہ پر توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بیج زمین پر رکھ کر فصل کا انتظار کرتا رہے، توکل یہ ہے کہ بیج بھی بویا جائے، پانی بھی دیا جائے، محنت بھی کی جائے اور نتیجہ اللہ کے سپرد کردیا جائے۔
یاد رکھیں، اگر آج آپ کی زندگی میں خزاں ہے تو ضروری نہیں کہ بہار ختم ہوگئی ہو۔شاید آپ کے اندر ابھی ایک ایسی کونپل چھپی ہے جسے آپ نے دیکھا ہی نہیں۔ بس اپنی جڑوں کو زندہ رکھیں۔ ایمان کے ساتھ، صبر کے ساتھ، محنت کے ساتھ۔ کیونکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ انسان کو نئی زندگی دینے سے پہلے، اس کے اندر پرانی مایوسی کو ضرور ختم کرتا ہے۔