خالی جیب کا امیر آدمی

بلال ظفر سولنگی

شہر کے ایک پرانے محلے میں فراز نام کا نوجوان رہتا تھا۔ اس کی جیب اکثر خالی رہتی، مگر دل میں بڑے خواب تھے۔ وہ دن رات محنت کرتا، کبھی دکان پر سامان اٹھاتا، کبھی موٹر سائیکل پر لوگوں کے پارسل پہنچاتا اور کبھی رات گئے تک ایک چھوٹی سی ورکشاپ میں کام کرتا۔ لوگ اسے دیکھ کر کہتے: ’’فراز! اتنی محنت کے باوجود تمہارے پاس ہے ہی کیا؟‘‘
فراز مسکرا کر جواب دیتا: ’’ابھی کچھ نہیں… لیکن ایک دن ضرور ہوگا۔‘‘
اسی محلے میں ایک بزرگ نذیر صاحب رہتے تھے۔ عجیب بات یہ تھی کہ وہ خود بہت سادہ زندگی گزارتے، مگر محلے میں جس کے گھر راشن نہ ہوتا، وہاں خاموشی سے تھیلا پہنچ جاتا۔ کسی بچے کی فیس نہ ہوتی تو فیس جمع ہوجاتی۔ کسی بیمار کے پاس دوا کے پیسے نہ ہوتے تو دوا آجاتی۔ لوگ حیران تھے کہ آخر نذیر صاحب اتنا سب کچھ کیسے کرتے ہیں۔
ایک دن فراز نے ہمت کرکے پوچھ لیا: ’’چچا! آپ خود اتنی سادہ زندگی گزارتے ہیں، پھر دوسروں پر اتنا خرچ کیوں کرتے ہیں؟‘‘ نذیر صاحب مسکرائے اور بولے: ’’بیٹا! دولت وہ نہیں جو الماری میں بند ہو، دولت وہ ہے جو کسی کے کام آجائے۔‘‘ فراز نے یہ بات تو سن لی، مگر پوری طرح سمجھ نہ سکا۔
کچھ عرصے بعد فراز کی زندگی میں ایک بڑا موقع آیا۔ اسے ایک کمپنی میں اچھی ملازمت کی پیشکش ہوئی۔ تنخواہ اس کی موجودہ آمدن سے کئی گنا زیادہ تھی۔ وہ خوشی سے گھر پہنچا۔ ماں نے دعا دی اور کہا: ’’بیٹا! اب شاید ہمارے دن بدل جائیں۔‘‘ مگر اسی رات ایک حادثہ ہوگیا۔ محلے کا ایک کم عمر لڑکا ایان سڑک عبور کرتے ہوئے زخمی ہوگیا۔ اس کے والد کئی ماہ سے بے روزگار تھے۔ اسپتال نے علاج کے لیے فوری رقم مانگی۔ محلے والے جمع ہوئے، مگر کسی کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔
فراز کی جیب میں وہ رقم موجود تھی جو اسے اپنی نئی ملازمت کے لیے شہر سے باہر جانے کے اخراجات کے طور پر ملی تھی۔ وہ رقم اس کے لیے بہت اہم تھی۔ یہ اس کے نئے مستقبل کی پہلی سیڑھی تھی۔ وہ کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔ ایک طرف اس کا خواب تھا… دوسری طرف ایک بچے کی زندگی۔ فراز نے جیب سے رقم نکالی اور اسپتال کے کاؤنٹر پر رکھ دی۔ ’’اس بچے کا علاج شروع کریں۔‘‘
رات کو وہ خالی جیب گھر واپس آیا۔ ماں نے پوچھا: ’’رقم کہاں گئی؟‘‘
فراز نے سارا واقعہ بتایا۔ ماں کچھ دیر خاموش رہی، پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی: ’’بیٹا! آج تمہاری جیب ضرور خالی ہوئی ہے، لیکن تمہارا دل بہت امیر ہوگیا ہے۔‘‘
اگلے دن فراز اپنی نئی ملازمت کے لیے روانہ ہوگیا۔ مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے اس ایک فیصلے نے اس کی زندگی کا راستہ بدل دیا ہے۔ چند ہفتے بعد کمپنی کے مالک نے اسے دفتر بلایا۔ سامنے بیٹھے شخص وہی نذیر صاحب تھے! فراز حیران رہ گیا۔ ’’آپ؟‘‘
نذیر صاحب مسکرائے۔ ’’ہاں بیٹا! یہ کمپنی میرے بیٹے کی ہے۔ میں کچھ عرصے سے دیکھ رہا تھا کہ ہمارے معاشرے میں ایسے نوجوان کہاں ہیں جو مشکل وقت میں صرف اپنے بارے میں نہیں سوچتے۔‘‘ فراز خاموش رہا۔
نذیر صاحب نے کہا: ’’مجھے تمہاری قابلیت سے زیادہ تمہارا کردار پسند آیا۔ قابلیت ہم سکھا سکتے ہیں، کردار نہیں خرید سکتے۔‘‘
پھر انہوں نے فراز کو صرف ملازمت نہیں دی بلکہ کمپنی کے ایک نئے منصوبے کی ذمے داری بھی سونپ دی، جس کے ذریعے غریب نوجوانوں کو ہنر سکھا کر روزگار فراہم کیا جانا تھا۔ فراز نے پوچھا: ’’لیکن آپ نے مجھ پر اتنا اعتماد کیوں کیا؟‘‘
نذیر صاحب نے جواب دیا: ’’کیونکہ میں نے تمہیں اس دن دیکھا تھا جب تمہارے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ تھا، پھر بھی تم نے کسی دوسرے کی زندگی بچانے کا فیصلہ کیا۔‘‘
کئی سال گزر گئے۔ فراز کامیاب ہوگیا۔ اس کا اپنا کاروبار تھا، گھر تھا، گاڑی تھی، عزت تھی اور بے شمار وسائل تھے۔ لیکن ہر سال وہ اسی محلے میں واپس آتا، جہاں کبھی اس کی جیب خالی ہوا کرتی تھی۔ وہ غریب بچوں کے لیے اسکالرشپ دیتا، نوجوانوں کو ہنر سکھاتا اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرتا۔ ایک دن ایک بچے نے اس سے پوچھا: ’’فراز صاحب! آپ اتنے کامیاب کیسے ہوئے؟‘‘
فراز نے مسکرا کر اپنی جیب سے ایک پرانا، مڑا تڑا کاغذ نکالا۔ اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا: ’’جب انسان کسی کے اندھیرے میں چراغ بن جاتا ہے، اللہ اس کے راستے روشن کر دیتا ہے۔‘‘
فراز نے کہا: ’’میں نے زندگی میں بہت سے دروازے کھٹکھٹائے، لیکن سب سے بڑا دروازہ تب کھلا جب میں نے کسی اور کے لیے اپنا دروازہ کھولا۔‘‘
سبق: زندگی میں ہر انسان کسی نہ کسی کمی کے ساتھ سفر شروع کرتا ہے۔ کسی کے پاس پیسہ نہیں ہوتا، کسی کے پاس سفارش نہیں ہوتی، کسی کے پاس مواقع نہیں ہوتے۔ مگر ایک چیز ایسی ہے جو ہر انسان کے پاس ہوتی ہے: اس کا کردار اور دوسروں کے لیے کچھ کرنے کی صلاحیت۔
یاد رکھیں، کامیابی ہمیشہ اس دن شروع نہیں ہوتی جب ہماری جیب بھر جائے، بعض اوقات کامیابی اس دن شروع ہوتی ہے جب خالی جیب کے باوجود ہمارا دل کسی دوسرے کے لیے کچھ دینے پر آمادہ ہوجائے۔
اللہ کے ہاں شاید ہماری حیثیت اس سے نہیں بنتی کہ ہم نے کتنا جمع کیا، بلکہ اس سے بنتی ہے کہ ہم نے اپنے حصے کی روشنی کتنے اندھیروں تک پہنچائی۔
کبھی کسی کی مدد کرنے کے لیے امیر ہونے کا انتظار نہ کریں۔ ممکن ہے آپ کی معمولی سی نیکی کسی کی پوری زندگی بدل دے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔