نجکاری کے خاتمے کیلئے کراچی میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا پُرامن دھرنا
کراچی: پبلک سروس انٹرنیشنل کی ملحقہ آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین نے آج کراچی میں تین تلوار پر پُرامن دھرنا دیا۔ یونین نے بلاول ہاؤس چورنگی پر دھرنے کا اعلان کیا تھا، پولیس نے400 لیڈی ہیلتھ ورکرز کو گرفتار کر کے تھانوں میں منتقل کیا۔ جس کی وجہ سے دھرنا تین تلوار شفٹ کر دیا گیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کو محکمہ صحت، حکومتِ سندھ کے ماتحت برقرار رکھا جائے اور ملازمین کے دیرینہ سروس اسٹرکچر، ترقیوں، پینشن اور ریٹائرمنٹ سے متعلق مسائل فوری حل کیے جائیں۔
دھرنے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز، لیڈی ہیلتھ سپروائزرز، ٹریڈ یونین نمائندگان، انسانی حقوق کے کارکنان، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین کی مرکزی صدر حلیمہ ذوالقرنین لغاری نے کہا کہ ہم لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کو پی پی ایچ آئی یا کسی بھی نجی ادارے کے حوالے کرنے کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "ہمارا بنیادی مطالبہ ہے کہ ہمیں محکمہ صحت کے ماتحت رکھا جائے اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کی پالیسی کے مطابق ہماری ملازمتیں جاری رہیں، ہم مناسب سروس اسٹرکچر، ٹائم اسکیل پروموشن، پینشن اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے گریجویٹی کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ 2012 میں ریگولر ہونے کے باوجود لیڈی ہیلتھ ورکرز 14 سال گزرنے کے بعد بھی نچلے گریڈز میں کام کر رہی ہیں۔ یونین نے لیڈی ہیلتھ ورکرز، ڈرائیورز اور سپروائزرز کے گریڈز پر فوری نظرثانی، مناسب سروس اسٹرکچر اور باقاعدہ ٹائم اسکیل پروموشن کا مطالبہ کیا۔
یونین کی جنرل سیکریٹری شمع گلانی نے کہا کہ نچلے درجے کے ملازمین کو بھی دیگر صوبائی سرکاری ملازمین کی طرح سروس اسٹرکچر کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا، جب اسی پروگرام میں افسران کو اپ گریڈ شدہ اسکیل دیے جاسکتے ہیں تو نچلے درجے کے کارکنان کو اس سے محروم کیوں رکھا جارہا ہے۔
مظاہرین نے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کو پی پی ایچ آئی میں آؤٹ سورس کو روکنے، ادویہ کا بجٹ واپس محکمہ صحت کے ذریعے فراہم کرنے اور سپروائزرز کی گاڑیوں کے لیے مرمت اور فیول الاؤنس کی سہولت بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ یونین عہدیداران نے کہا کہ کم از کم ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کے ذریعے مناسب فنڈز فراہم کیے جائیں، تاکہ ادویہ کی بلاتعطل فراہمی، گاڑیوں کی مرمت اور دیگر ضروری انتظامی و عملی وسائل کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
یونین کی سینئر نائب صدر ناصرہ پروین نے کہا کہ آج کا پُرامن دھرنا اس جاری جدوجہد کا حصہ ہے جس کا آغاز 3 جولائی کو حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاج سے ہوا تھا۔ اس کے بعد یونین کی جانب سے بنیادی مراکز صحت (BHUs)، دیہی صحت مراکز (RHCs) اور ضلعی ہیڈکوارٹرز پر بھی احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین کی قیادت نے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی میراث قرار دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر صحت سندھ سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کا تحفظ کریں۔
حلیمہ ذوالقرنین لغاری نے کہا، یہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا پروگرام اور ان کی میراث ہے۔ ہم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس میراث کا احترام کرتے ہوئے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ان کے جائز حقوق دلائیں۔
یونین قیادت نے حکومتِ سندھ سے فوری مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹریڈ یونینز، مزدور تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی عزت، روزگار کے تحفظ، منصفانہ ترقی، سروس اسٹرکچر اور انصاف کے لیے جاری پُرامن جدوجہد کا ساتھ دیں۔