کامیابی کا راز

غلام مصطفیٰ
بارش ابھی تھمی ہی تھی۔ گاؤں کے کچے راستوں پر مٹی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ گاؤں کے کنارے ایک پرانا سا کھیت تھا، جہاں ساٹھ سالہ کسان یوسف ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے پہنچ جاتا۔ اس کے چہرے پر جھریاں ضرور تھیں، مگر آنکھوں میں عجیب سا سکون تھا۔ اسی گاؤں میں پچیس سالہ علی بھی رہتا تھا۔ وہ تعلیم یافتہ تھا، مگر مسلسل ناکامیوں نے اس کا حوصلہ توڑ دیا تھا۔ کبھی نوکری کے لیے درخواست دیتا، کبھی چھوٹا کاروبار شروع کرتا، مگر ہر بار قسمت اس کا ساتھ چھوڑ دیتی۔ آہستہ آہستہ اس نے کوشش کرنا بھی کم کردیا۔ اب وہ دن کا زیادہ وقت چائے کی دکان پر بیٹھ کر دوسروں کی کامیابیاں سنتا اور اپنی قسمت کو کوستا رہتا۔
ایک صبح علی نے دیکھا کہ یوسف کسان بارش کے فوراً بعد اپنے کھیت میں بیج بو رہا ہے۔ علی حیران ہوا۔ "بابا! ابھی تو زمین کیچڑ سے بھری ہوئی ہے، کیا بیج ضائع نہیں ہوں گے؟”
یوسف نے مسکرا کر کہا۔ "بیٹا، جو کسان کیچڑ سے ڈر جائے، وہ فصل کبھی نہیں کاٹ سکتا۔” یہ جملہ علی کے دل میں اتر گیا، مگر وہ خاموش رہا۔
چند دن بعد علی پھر وہاں سے گزرا۔ اس نے دیکھا کہ زمین پر ابھی تک کچھ نظر نہیں آرہا۔ وہ بولا، "بابا! اتنے دن ہوگئے، کوئی پودا تو نکلا ہی نہیں۔”
یوسف نے مٹی پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، "بیج زمین کے اندر اپنا کام کررہا ہے۔ ہر محنت فوراً نظر نہیں آتی۔” یہ سن کر علی سوچ میں پڑ گیا۔ اسی رات اس نے اپنی پرانی فائلیں نکالیں۔ ان میں اس کے کئی منصوبے، نوکریوں کی درخواستیں اور کاروباری نوٹس رکھے تھے۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ ہر ناکامی کے بعد راستہ بدل دیتا تھا، لیکن کبھی کسی ایک کام پر مستقل نہیں رہا۔
اگلی صبح اس نے فیصلہ کیا کہ اس بار صرف ایک ہدف پر کام کرے گا۔ علی کو کمپیوٹر کا اچھا علم تھا۔ اس نے گاؤں کے بچوں کو کمپیوٹر سکھانے کے لیے اپنے گھر کے ایک کمرے میں چھوٹی سی کلاس شروع کردی۔ شروع میں صرف دو بچے آئے۔ لوگ ہنسنے لگے۔ "دو بچوں سے بھی کوئی اکیڈمی بنتی ہے؟”
علی خاموش رہا۔ اسے یوسف کی بات یاد تھی۔ "بیج زمین کے اندر اپنا کام کررہا ہے۔” ایک مہینہ گزرا۔
دو بچے چار ہوگئے۔ پھر آٹھ۔ پھر پندرہ۔ تین ماہ بعد گاؤں کے اردگرد کے دیہات سے بھی بچے آنے لگے۔ ایک دن ضلع کے ایک تعلیمی افسر نے اس کی کلاس دیکھی۔ انہیں علی کا جذبہ پسند آیا۔ انہوں نے سرکاری تربیتی پروگرام میں اسے انسٹرکٹر کے طور پر شامل ہونے کی پیشکش کردی۔ چند ہی مہینوں میں علی کی آمدن پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی۔
ایک شام وہ خوشی خوشی یوسف کے کھیت میں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ وہی زمین، جو چند ماہ پہلے خالی لگ رہی تھی، اب سنہری فصل سے بھری ہوئی تھی۔ علی نے کہا، "بابا، آپ ٹھیک کہتے تھے۔ بیج واقعی خاموشی سے اپنا کام کرتا ہے۔” یوسف مسکرایا۔ "صرف کھیت کے بیج نہیں، انسان کی محنت بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔” پھر اس نے ایک مٹھی گندم علی کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا، "دیکھو، اگر میں ہر دوسرے دن زمین کھود کر دیکھتا کہ بیج نکلا یا نہیں، تو یہ فصل کبھی نہ اگتی۔” علی نے حیرت سے پوچھا، "اس کا مطلب؟”
یوسف بولا، "آج کل لوگ محنت سے زیادہ نتیجے کی فکر کرتے ہیں۔ ہر روز خود سے پوچھتے ہیں، ‘ابھی تک کامیابی کیوں نہیں ملی؟’ اور پھر مایوس ہو کر کام چھوڑ دیتے ہیں۔” علی خاموشی سے سنتا رہا۔
چند ماہ بعد علی نے اپنی اکیڈمی کو رجسٹر کرالیا۔ اس نے غریب بچوں کے لیے مفت کلاسیں بھی شروع کردیں۔ اس کے کئی شاگرد مختلف اداروں میں ملازمتیں حاصل کرنے لگے۔ ایک دن ایک نوجوان اس کے پاس آیا۔ "سر، میں تین بار ناکام ہو چکا ہوں۔ اب ہمت ختم ہوگئی ہے۔”
علی اسے سیدھا یوسف کے کھیت میں لے گیا۔ اس وقت کھیت کی کٹائی ہو رہی تھی۔ علی نے کہا، "کیا تم جانتے ہو، یہ فصل ایک دن میں نہیں اگتی؟” نوجوان نے نفی میں سر ہلایا۔ علی نے پوری کہانی سنائی۔ آخر میں بولا، "کامیابی شور مچا کر نہیں آتی، وہ خاموشی سے بڑھتی ہے۔ جیسے بیج زمین کے اندر بڑھتا ہے۔” نوجوان کی آنکھوں میں امید کی چمک واپس آگئی۔ کئی سال گزر گئے۔ یوسف اب بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ ایک دن وہ بیمار پڑگیا۔ علی اس کی عیادت کے لیے گیا۔ یوسف نے کمزور آواز میں پوچھا، "اکیڈمی کیسی چل رہی ہے؟”
علی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "بابا، اب تین شہروں میں ہماری شاخیں ہیں اور ہزاروں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔”
یوسف کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔ اس نے کہا، "میں نے تمہیں صرف کھیتی نہیں سکھائی تھی، میں نے تمہیں انتظار کرنا سکھایا تھا۔” چند دن بعد یوسف اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس کی وصیت کے مطابق اس کی قبر کے قریب ایک نیم کا پودا لگایا گیا۔ ہر سال علی اپنے نئے شاگردوں کو وہاں لے جاتا۔ وہ پودا اب ایک بڑا درخت بن چکا تھا۔ علی ہر نئے طالب علم سے صرف ایک جملہ کہتا: "اگر تمہیں لگتا ہے کہ تمہاری محنت کا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا، تو یاد رکھنا… شاید تمہارا بیج ابھی زمین کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔” پھر وہ اپنی منزل کی طرف پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ واپس لوٹتے۔
سبق: زندگی میں ہر محنت فوراً پھل نہیں دیتی۔ بعض کامیابیاں وقت، صبر اور مستقل مزاجی مانگتی ہیں۔ اگر آپ سچے دل سے صحیح سمت میں مسلسل کوشش کرتے رہیں تو نتائج ضرور سامنے آتے ہیں۔ بیج کی طرح اپنی محنت پر یقین رکھیں، کیونکہ جو لوگ جلدی ہار مان لیتے ہیں، وہ اکثر کامیابی کے دروازے تک پہنچ کر لوٹ جاتے ہیں۔ خاموش محنت، مضبوط صبر اور مستقل کوشش ہی وہ طاقت ہے جو عام انسان کو غیر معمولی کامیابی تک پہنچاتی ہے۔