5 اگست کا ظالمانہ اقدام: نوجوان نسل کی نئی ذمے داریاں

بخت سید یوسف زئی
قوموں کی تاریخ میں بعض ایام محض تقویم کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ اجتماعی شعور، قومی عزم اور تاریخی یادداشت کی علامت بن جاتے ہیں۔ ہر سال 5 اگست کو منایا جانے والا یومِ استحصالِ کشمیر بھی انہی اہم قومی مواقع میں شامل ہے۔ اس دن کا مقصد پاکستان کے مؤقف کے مطابق دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور 5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کی جانب مبذول کرانا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
موجودہ دور کو اگر معلومات، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ابلاغ کا دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آج رائے عامہ صرف سفارتی اجلاسوں یا روایتی میڈیا کے ذریعے تشکیل نہیں پاتی، بلکہ ایک موبائل فون اور انٹرنیٹ سے منسلک نوجوان بھی عالمی مباحث کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یومِ استحصالِ کشمیر صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوانوں، جامعات، میڈیا، سول سوسائٹی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی و کشمیری برادری کے لیے بھی ایک اہم موقع بن چکا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور عالمی ذمے داری کا بھی معاملہ ہے۔ اسی لیے نوجوان نسل پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے کو جذبات کے ساتھ ساتھ تحقیق، دلیل اور تاریخی حقائق کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ کسی بھی قومی موقف کی مؤثر نمائندگی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کی بنیاد علم، تحقیق اور ذمے دارانہ اندازِ گفتگو پر ہو۔
آج کی نوجوان نسل پہلے کی نسبت کہیں زیادہ باخبر، تعلیم یافتہ اور جدید ذرائع ابلاغ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی نوجوان مستقبل کے سفارت کار، صحافی، وکلا، اساتذہ، محققین اور پالیسی ساز ہوں گے۔ اگر انہیں مسئلہ کشمیر کے تاریخی، قانونی اور سفارتی پہلوؤں سے درست طور پر آگاہ کیا جائے تو وہ دنیا کے مختلف فورمز پر پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا نے معلومات کی ترسیل کو بے حد آسان بنادیا ہے، لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اس لیے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ضروری ہے کہ نوجوان صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور غیر مصدقہ خبروں یا اشتعال انگیز مواد سے اجتناب کریں۔ دلیل، شائستگی اور تحقیق پر مبنی گفتگو نہ صرف قومی موقف کو مضبوط بناتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی زیادہ قابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان مختلف عالمی فورمز پر یہ مؤقف پیش کرتا رہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو پُرامن مذاکرات، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جانا چاہیے۔ اسی تناظر میں نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ عالمی اداروں، بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے اصولوں اور سفارتی روایات کا مطالعہ کریں تاکہ وہ اس مسئلے کو صرف جذباتی نہیں بلکہ علمی انداز میں بھی سمجھ سکیں۔
تعلیمی ادارے قومی شعور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جامعات اور کالجوں میں سیمینارز، مکالموں، تحقیقی مقالات اور مباحثوں کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف زاویوں سے مسئلہ کشمیر کا مطالعہ کرایا جاسکتا ہے۔ ایسی علمی سرگرمیاں نہ صرف طلبہ کی فکری صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں بلکہ انہیں قومی اور بین الاقوامی معاملات کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ پاکستانی میڈیا کی ذمے داری ہے کہ وہ حقائق پر مبنی، متوازن اور ذمے دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے عوام کو آگاہ رکھے، کیونکہ درست معلومات ہی مضبوط رائے عامہ کی بنیاد بنتی ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اور کشمیری برادری بھی اس دن مختلف ممالک میں سیمینارز، کانفرنسوں، واکس اور آگاہی پروگراموں کے ذریعے اپنے مؤقف کو اجاگر کرتی ہے۔ جدید سفارت کاری میں عوامی روابط (Public Diplomacy) کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور اوورسیز کمیونٹی اس میدان میں پاکستان کے لیے ایک مؤثر پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر پُرامن انداز میں اجاگر کیا جائے۔ مختلف حکومتوں نے اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اس مسئلے کو مسلسل اٹھایا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور ترقی اسی وقت ممکن ہوگی جب دیرینہ تنازعات کو انصاف، مذاکرات اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یومِ استحصالِ کشمیر نئی نسل کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قومی مسائل کے حل میں صرف حکومتیں ہی نہیں بلکہ باشعور شہری بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک ذمے دار نوجوان اپنی تحریر، تحقیق، علمی گفتگو، مثبت طرزِ عمل اور مؤثر ابلاغ کے ذریعے دنیا تک اپنا پیغام پہنچاسکتا ہے۔ یہی مثبت کردار مستقبل میں قومی مفادات کے تحفظ اور بہتر عالمی روابط کی بنیاد بن سکتا ہے۔ آج جب دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل سفارت کاری اور تیز رفتار ابلاغ کے دور میں داخل ہوچکی ہے تو پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ذرائع کو مثبت انداز میں استعمال کریں۔ سوشل میڈیا پر شائستہ، مدلل اور مستند معلومات پر مبنی گفتگو نہ صرف قومی مؤقف کو تقویت دیتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمے دار قوم کا تاثر پیش کرتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یومِ استحصالِ کشمیر صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ قومی شعور، اتحاد اور ذمے داری کے احساس کی تجدید کا موقع بھی ہے۔ پاکستان کے نزدیک مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ اس قومی مقصد کے لیے نوجوان نسل کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر نوجوان علم، تحقیق، مثبت ابلاغ اور ذمے دارانہ طرزِ فکر کو اپنا شعار بنائیں تو وہ نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچاسکتے ہیں بلکہ مستقبل میں امن، انصاف اور باہمی احترام پر مبنی عالمی ماحول کے قیام میں بھی اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔