یومِ استحصالِ کشمیر، انصاف کی پکار

احسن لاکھانی

جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بے پناہ انسانی وسائل، قدیم تہذیبیں، قدرتی وسائل اور معاشی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس خطے میں قریباً دو ارب افراد آباد ہیں، جن کی خوش حالی، امن اور ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ علاقائی تنازعات کو کس حد تک دانش مندی، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ سات دہائیوں سے مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ایسا بنیادی تنازع بنا ہوا ہے، جس نے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کیا، بلکہ پورے خطے کے امن، معاشی استحکام اور ترقی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ پاکستان کے نزدیک مسئلہ کشمیر محض سرحدوں کا تنازع نہیں بلکہ ایک ایسا بین الاقوامی معاملہ ہے جس کا تعلق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خطے کے پائیدار امن سے ہے۔ دوسری جانب بھارت اس مسئلے کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔ یہی بنیادی اختلاف گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔ ہر سال 5 اگست کو پاکستان میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا جاتا ہے، تاکہ عالمی برادری کی توجہ اس دیرینہ تنازع کی جانب مبذول کرائی جاسکے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت میں کی گئی تبدیلیوں نے خطے کی سیاسی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنادیا۔ پاکستان نے ان اقدامات کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور اس مسئلے کو مختلف بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ کسی بھی متنازع علاقے کی حیثیت میں یک طرفہ تبدیلی نہ صرف کشیدگی کو بڑھاتی ہے بلکہ اعتماد سازی کے عمل کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک ہیں۔ اس تناظر میں معمولی کشیدگی بھی وسیع تر علاقائی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری اکثر دونوں ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں اور اختلافات کو پُرامن ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان بھی مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ہیں جو دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی یکساں پاسداری ہی عالمی نظام کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔ اگر دنیا مختلف تنازعات میں بین الاقوامی اصولوں کی حمایت کرتی ہے تو کشمیر کے معاملے میں بھی انہی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کا مستقبل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ تعاون میں پوشیدہ ہے۔ اگر خطے کے ممالک تجارت، توانائی، تعلیم، سیاحت، ماحولیاتی تحفظ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مل کر کام کریں تو کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ دیرینہ تنازعات، بالخصوص مسئلہ کشمیر، کے منصفانہ حل کے بغیر اس تعاون کی حقیقی فضا قائم کرنا مشکل ہے۔
یومِ استحصالِ کشمیر اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور عوام کے بنیادی حقوق کے احترام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جب تک تنازعات کے بنیادی اسباب کو دور نہیں کیا جاتا، اس وقت تک پائیدار امن کا قیام ایک مشکل ہدف رہتا ہے۔ اسی لیے پاکستان مختلف عالمی فورمز پر اس مسئلے کے پرامن اور منصفانہ حل پر زور دیتا رہا ہے۔ پاکستان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ عالمی برادری کو جنوبی ایشیا میں اعتماد سازی کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ایسے اقدامات جن سے عوامی روابط میں اضافہ ہو، تجارتی سرگرمیاں فروغ پائیں، ثقافتی تبادلے ممکن ہوں اور سفارتی رابطے مضبوط ہوں، وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کرنے کے بجائے سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے اس کے حل کی راہ تلاش کی جائے۔
میڈیا، تعلیمی ادارے، دانشور اور سول سوسائٹی بھی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ذمہ دارانہ صحافت، تحقیق پر مبنی مکالمہ اور اختلافِ رائے کے باوجود باوقار اندازِ گفتگو وہ عوامل ہیں جو تنازعات کے ماحول میں بھی امید کی کرن پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ہونے والی مختلف تقریبات کا مقصد بھی عوام کو مسئلہ کشمیر کے تاریخی، قانونی اور سفارتی پہلوؤں سے آگاہ کرنا اور عالمی سطح پر اپنے مؤقف کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ نوجوان نسل پر بھی ایک بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں جذبات کے ساتھ ساتھ تحقیق، دلیل اور حقائق کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنی چاہیے۔ جدید دور میں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے معلومات تیزی سے دنیا بھر میں پھیلتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان ذمے داری، برداشت اور مہذب انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ علمی اور مثبت مکالمہ ہی کسی بھی قومی مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جنوبی ایشیا کو اس وقت غربت، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، صحت، تعلیم اور بے روزگاری جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر خطے میں مستقل امن قائم ہو اور باہمی تعاون کو فروغ ملے تو ان مسائل کے حل کے لیے وسائل اور توانائیاں زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان اسی تناظر میں امن، مذاکرات اور علاقائی استحکام کی بات کرتا ہے، لیکن بھارت روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتا چلا آیا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن اور مستقبل سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے۔ اس تنازع کا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے۔ یومِ استحصالِ کشمیر اسی عزم کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر اپنا مؤقف عالمی برادری کے سامنے پیش کرتا رہے گا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔