کاروبار میں نقصان، میر رضا کروڑوں کا مقروض تھا، تفتیشی ذرائع
کراچی: شہر قائد کے علاقے پی ای سی ایچ سوسائٹی کے رہائشی نوجوان میر رضا علی کی گلستان جوہر سے لاش ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
تفتیشی حکام نے سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی ہیں جن میں 28 جولائی کی درمیانی شب میر رضا علی کو شب ساڑھے 3 بجے بہادرآباد چورنگی پر واقع اپنی شاپ سے سیکیورٹی گارڈ کا اسلحہ لے جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
میر رضا اپنے گھر پہنچا، جہاں اس نے اپنی گاڑی، اسمارٹ واچ ، گھرکی چابیاں اور 39 ہزار روپے گھر پر چھوڑے اور آن لائن ٹیکسی بک کرنے کے بعد 4 بج کر 8 منٹ پر گھر سے گلستان جوہر روانہ ہوا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق سیکیورٹی گارڈ کا پستول شاپ میں ایک دراز میں موجود تھا، جسے میر رضا نے نکالا اوراپنے ہمراہ لے گیا، میر رضا شاپ سے اپنی گاڑی میں گھر کی جانب روانہ ہوا، میررضا اکیلے گلستان جوہر پہنچا اور سی سی ٹی وی میں اسے گلستان جوہر میں اکیلے سڑک سے گزرتے بھی دیکھا گیا۔
میر رضا نے 4 بج کے 22 منٹ کے قریب جوہر موڑ ہل ٹاپ کے قریب اپنا موبائل فون بھی بند کرلیا اور 4 بج کر28 منٹ پر وہ گلستان جوہر بلاک 2 میں ڈراپ ہوا، میر رضا علی کو قتل کیا گیا یا اس نے خودکشی کی ہے اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا وافلکس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کرنسی کا بھی کاروبارکررہا تھا، اس نے ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار میں کئی لوگوں کی انویسمنٹ بھی کرا رکھی تھی، میر رضا انویسٹرز کو وقتا فوقتاً منافع بھی ادا کرتا تھا، ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبارمیں دسمبر 2025 میں اسے نقصان ہونا شروع ہوا، اپریل میں اسے کاروبار میں بڑا نقصان ہوا، کاروبار میں نقصان پورا کرنے کے لیے میر رضا نے لوگوں سے قرض مانگنا شروع کیا، میر رضا مبینہ طور پر قریباً 5 سے 8 کروڑ روپے کا مقروض ہوگیا، اس نے بیرون ملک مقیم اپنے ایک دوست سے 75 لاکھ روپے انویسٹمنٹ بھی کرائی لیکن اسے منافع ادا نہیں کیا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس نے میررضا کی منگیترکا بیان بھی قلمبند کرلیا ہے، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہےکہ 28 جولائی کی رات ساڑھے 11 بجے تک میر رضا کی منگیتراس سے رابطے تھی، رات 3 بجے کے قریب میر رضا کی منگیتر نے دوبارہ رابطہ کیا اور 20 منٹ میں 40 سے زائد میسیجز اور کالز کیں، منگیتر کی کالز اور میسیجز پر میر رضا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ختم کردیے تھے اور گھر سے نکلنے سے قبل والد کے اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے بھی منتقل کیے، میر رضا گھر سے نکلتے ہوئے اپنی شاپ کے سیکیورٹی گارڈ کا 30 بور پستول بھی ساتھ لے کر نکلا تھا، پستول کا پاؤچ پولیس کو جائے وقوعہ سے مل گیا لیکن پستول تاحال نہیں مل سکا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق جس مقام سے میر رضا علی کی لاش ملی تھی وہاں نصب سی سی ٹی وی کی اہم فوٹیج سامنے آگئی ہے، فوٹیج میں دیکھا گیا کہ 29 جولائی کو رات 3 بج کر 36 منٹ پر ایک موٹر سائیکل لاش ملنے والے ویران مقام پر آکر رکی اور قریباً 22 سیکنڈ تک وہاں موجود رہی جس کے بعد روانہ ہوگئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کی علی الصبح اسی مقام پر پھینکی گئی۔
تفتیشی حکام کا مزید کہنا ہے کہ ملزمان نے ممکنہ طور پر لاش کے ساتھ پستول کا ہولسٹر بھی موقع پر پھینکا جو کیس کی تفتیش میں اہم ثبوت ثابت ہوسکتا ہے۔
پولیس نے سی سی ٹی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا ہے جب کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ میر رضا نے اپنا موبائل فون راستے میں پھینک دیا تھا جو یونیورسٹی روڈ پر کام کرنے والے 3 مزدوروں کو ملا تھا، پولیس نے مزدوروں کو ٹریس کیا اور موبائل فون برآمد کرلیا، میر رضا علی کو قتل کیا گیا یا اس نے خودکشی کی، پولیس نے اپنی تحقیقات کا دائرہ مزید بڑھا دیا ہے۔
دوسری جانب نوجوان کے والدین کا کہنا ہے کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے سوچے سمجھے منصوبے کے بعد بدترین تشدد اور فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔