قرضوں سے نجات کا راستہ

بلال ظفر سولنگی

پاکستان کی معیشت کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کی حالیہ گفتگو ایک اہم پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جولائی 2026 کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کیے، جن میں 1.4 ارب ڈالر چین کے کمرشل قرضے اور 80 کروڑ ڈالر دیگر بیرونی قرضوں کی ادائیگی شامل ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا حجم 26.5 ارب ڈالر سے کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گیا ہے جب کہ چین کے 1.4 ارب ڈالر کے قرض کی چند ہفتوں میں دوبارہ فنانسنگ متوقع ہے۔ یہ اعداد و شمار بلاشبہ معیشت میں ایک مثبت پیش رفت کی نشان دہی کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ایک بنیادی سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا پاکستان ہمیشہ قرض لے کر قرض اتارتا رہے گا یا اب وقت آگیا ہے کہ ملک مستقل معاشی خودانحصاری کی طرف قدم بڑھائے؟ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی معیشت بیرونی قرضوں، رول اوور سہولتوں اور مالیاتی اداروں کے تعاون پر انحصار کرتی رہی ہے۔ اگرچہ بعض اوقات یہ قرض ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں، لیکن ایک مضبوط اور خودمختار ریاست کی پہچان یہ نہیں کہ وہ مسلسل قرض لیتی رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے وسائل، اپنی صنعت، اپنی پیداوار اور اپنی افرادی قوت کی بدولت اپنے اخراجات پورے کرے اور بیرونی قرضوں کی ضرورت بتدریج کم ہوتی جائے۔ پاکستان کو قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ دنیا کے نقشے پر بہت کم ایسے ممالک ہیں جنہیں زرخیز زرعی زمین، چار موسم، معدنی ذخائر، طویل ساحلی پٹی، قدرتی گیس، کوئلہ، تانبہ، سونا، قیمتی پتھر، دریا، پہاڑ اور ایک اسٹرٹیجک جغرافیائی محل وقوع ایک ساتھ ملا ہو۔ اس کے باوجود اگر ہم قرضوں کے محتاج ہیں تو اس کا مطلب وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال میں کمزوری ہے۔
سب سے اہم بات یہ کہ پاکستان کی قریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان پاکستان کی اصل طاقت ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی نوجوان آبادی کو ہنر، تعلیم، ٹیکنالوجی اور صنعت سے جوڑ کر ترقی کی نئی تاریخ رقم کی۔ چین، جنوبی کوریا، ملائیشیا، سنگاپور اور ترکیہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان ممالک نے اپنے نوجوانوں کو بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ سمجھا۔ پاکستان بھی اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، زرعی تحقیق اور جدید کاروباری مواقع فراہم کرے تو یہی نوجوان آنے والے برسوں میں اربوں ڈالر کی معیشت کھڑی کر سکتے ہیں۔ آج دنیا کی معیشت تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے ہزاروں نوجوان آئی ٹی، فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے ہیں۔ اگر حکومت اس شعبے کو مزید سہولتیں، سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرے تو آئی ٹی برآمدات میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے، جس سے زرمبادلہ بھی بڑھے گا اور قرضوں پر انحصار بھی کم ہوگا۔ اسی طرح زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن بدقسمتی سے آج بھی ہم کئی ایسی زرعی اجناس درآمد کرتے ہیں جو خود پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جدید آب پاشی، معیاری بیج، زرعی تحقیق، ویلیو ایڈیشن اور زرعی صنعتوں کے فروغ سے نہ صرف درآمدات میں کمی آسکتی ہے بلکہ برآمدات میں نمایاں اضافہ بھی ممکن ہے۔ ایک مضبوط زرعی معیشت کسی بھی ملک کو غذائی تحفظ کے ساتھ معاشی استحکام بھی فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل بھی قومی خوشحالی کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں موجود معدنی ذخائر عالمی معیار کے ہیں۔ اگر ان وسائل کو شفافیت، جدید ٹیکنالوجی اور قومی مفاد کے مطابق ترقی دی جائے تو ملک کو اربوں ڈالر کی آمدن حاصل ہوسکتی ہے۔ ضروری ہے کہ خام معدنیات برآمد کرنے کے بجائے ان کی مقامی سطح پر پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دی جائے تاکہ روزگار بھی پیدا ہو اور برآمدی آمدن بھی بڑھے۔ توانائی کے شعبے میں بھی پاکستان بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ شمسی، ہوائی اور پن بجلی جیسے سستے ذرائع سے توانائی پیدا کرکے صنعتی لاگت کم کی جاسکتی ہے۔ سستی بجلی صنعت کو ترقی دیتی ہے، صنعت برآمدات بڑھاتی ہے اور برآمدات زرمبادلہ میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہی وہ معاشی زنجیر ہے جو کسی بھی ملک کو قرضوں سے نکال کر خود کفالت کی طرف لے جاتی ہے۔ معاشی ترقی کے لیے ٹیکس اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ ایماندار ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا۔ غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دینا، ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس وصولی کو شفاف بنانا اور ٹیکس چوری کی روک تھام ایسے اقدامات ہیں جو حکومت کی آمدن میں خاطرخواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی ایک عظیم معاشی اثاثہ ہے۔ چین، وسطی ایشیا، خلیجی ممالک اور جنوبی ایشیا کے درمیان واقع پاکستان علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ کا مرکز بن سکتا ہے۔ گوادر بندرگاہ، سی پیک اور جدید شاہراہوں کے منصوبے اسی وژن کا حصہ ہیں۔ اگر ان منصوبوں سے مکمل اقتصادی فوائد حاصل کیے جائیں تو ملکی آمدن میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ سیاحت کا شعبہ بھی پاکستان کے لیے سونے کی کان ثابت ہوسکتا ہے۔ شمالی علاقہ جات، تاریخی مقامات، مذہبی سیاحت، صحرائی سیاحت اور ساحلی پٹی دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بہتر انفرا اسٹرکچر، عالمی معیار کی سہولتیں اور مؤثر تشہیر کے ذریعے اربوں ڈالر زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ حقیقت بھی حوصلہ افزا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں مرکزی بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے 28 ارب ڈالر خریدے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب قرضوں کی ادائیگی صرف نئے قرضوں یا رول اوور سہولتوں پر منحصر نہ رہے بلکہ قومی آمدن، برآمدات اور پیداوار میں اضافے کے ذریعے ممکن ہو۔ پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل، شفاف حکمرانی، سرمایہ کار دوست ماحول اور ادارہ جاتی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ معاشی ترقی صرف حکومت کی ذمے داری نہیں بلکہ صنعت کار، تاجر، کسان، سرمایہ کار، تعلیمی ادارے اور نوجوان سب اس قومی سفر کے اہم کردار ہیں۔ جب پوری قوم ایک سمت میں آگے بڑھتی ہے تو معاشی معجزے جنم لیتے ہیں۔ پاکستان کو قرضوں سے مکمل نجات ایک دن میں حاصل نہیں ہوگی، لیکن اگر ہر سال قرض لینے کے بجائے قرض واپس کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا رہے، برآمدات بڑھیں، درآمدات میں کمی آئے، قومی وسائل سے آمدنی میں اضافہ ہو اور نوجوانوں کو ترقی کے مواقع ملیں تو وہ دن ضرور آئے گا جب پاکستان بیرونی سہاروں کے بجائے اپنے وسائل پر کھڑا ہوگا۔ جولائی میں 2.2 ارب ڈالر کی بیرونی قرضوں کی ادائیگی ایک مثبت قدم ضرور ہے، مگر یہ منزل نہیں بلکہ ایک آغاز ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب پاکستان قرضوں کی معیشت سے نکل کر پیداوار، برآمدات، سرمایہ کاری اور خودانحصاری کی معیشت بن جائے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔