شہدا کا احترام قومی وحدت کی بنیاد

غلام مصطفیٰ

پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ سے گزر رہا ہے۔ اس جنگ میں ہمارے ہزاروں فوجی جوان، پولیس اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ یہ وہ عظیم قربانیاں ہیں، جن کی بدولت آج ملک کا دفاع مضبوط ہے اور ریاستی ادارے دہشت گردی کے ناسور کے خلاف مسلسل برسرِ پیکار ہیں۔ ایسے حالات میں شہدا کے بارے میں کوئی بھی ایسا بیان، جس سے ان کے اہل خانہ یا پوری قوم کے جذبات مجروح ہوں، نہ صرف افسوس ناک بلکہ قومی یکجہتی کے تقاضوں کے بھی منافی ہے۔ گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے شہدا سے متعلق دیا گیا بیان مختلف حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنا۔ اس بیان پر عوامی سطح پر بھی ردِعمل سامنے آیا اور کئی لوگوں نے اسے شہدا کے اہل خانہ کے جذبات سے متصادم قرار دیا۔ اگرچہ ہر سیاسی رہنما کو اپنی رائے کے اظہار کا آئینی حق حاصل ہے، تاہم قومی سلامتی، شہدا کی قربانیوں اور ریاستی اداروں جیسے حساس معاملات پر گفتگو کرتے وقت الفاظ کا انتخاب غیر معمولی احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان ملک کے ایک سینئر سیاست دان، تجربہ کار پارلیمنٹیرین اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں۔ ان کے بیانات کو لاکھوں لوگ سنجیدگی سے سنتے ہیں اور ان کے الفاظ معاشرے میں دوررس اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ذمے داری بھی دیگر افراد سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے منصب اور تجربے کا تقاضا ہے کہ وہ ایسے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے ایسی زبان استعمال کریں جو اتحاد، برداشت اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دے، نہ کہ کسی نئی تقسیم یا تلخی کا سبب بنے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ شمالی وزیرستان سے لے کر خیبر، سوات، بلوچستان اور دیگر علاقوں تک دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز نے ملک کو بڑے خطرات سے محفوظ بنایا۔ آپریشن ضربِ عضب، ردُالفساد، عزمِ استحکام اور دیگر کارروائیوں میں ہزاروں اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں تاکہ پاکستان کے عوام امن کی زندگی گزار سکیں۔ ان شہدا کی قربانیاں کسی ایک ادارے یا طبقے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ شہید کے اہل خانہ ہمیشہ ایک ناقابلِ تلافی نقصان کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ ایک ماں اپنا بیٹا کھو دیتی ہے، ایک بیوی اپنے شوہر سے اور بچے اپنے والد کے سائے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کے لیے قوم کی عزت، احترام اور محبت ہی وہ سرمایہ ہے جو ان کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔ اگر کوئی بیان ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو اس کے اثرات صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قوم خود کو متاثر محسوس کرتی ہے۔
دنیا بھر میں شہدا کا احترام قومی روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، ہر جگہ وطن کے لیے جان دینے والوں کو انتہائی عزت دی جاتی ہے۔ اختلافات سیاست کا حُسن ضرور ہیں، مگر شہدا کی قربانیوں کو سیاسی بحث کا حصہ بنانا کسی بھی مہذب معاشرے میں مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ یہی روایت پاکستان میں بھی برقرار رہنی چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کو عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سراہا جاتا رہا ہے۔ متعدد بین الاقوامی اداروں اور مبصرین نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو اہم قرار دیا ہے۔ ملک میں امن و استحکام کے لیے ان قربانیوں کا اعتراف ہر سطح پر کیا جاتا ہے۔ اس لیے قومی قیادت کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بیانات کے ذریعے ان قربانیوں کا احترام مزید مضبوط کرے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ حکومتوں، پالیسیوں اور ریاستی فیصلوں پر تنقید ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن جب بات وطن کے لیے جان قربان کرنے والوں کی ہو تو الفاظ کا انتخاب زیادہ محتاط ہونا چاہیے تاکہ کوئی ایسا تاثر پیدا نہ ہو جو شہدا کے مقام کو متنازع بنائے یا ان کے اہل خانہ کی دل آزاری کا سبب بنے۔
موجودہ حالات میں پاکستان کو داخلی استحکام، قومی اتحاد اور باہمی اعتماد کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ دہشت گرد عناصر آج بھی ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے وقت میں قومی قیادت کی ذمے داری ہے کہ وہ ایسے بیانات دے جو قوم کو متحد کریں، ریاستی اداروں کا مورال بلند کریں اور دشمن کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان کے عوام اپنے شہدا کی قربانیوں پر متحد ہیں۔
اگر مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان سے واقعی شہدا کے اہل خانہ یا عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو بہتر یہی ہوگا کہ وہ اس کی وضاحت کریں یا اپنے الفاظ واپس لے لیں۔ ایک بڑے رہنما کی عظمت اسی میں ہوتی ہے کہ اگر کسی بات سے غلط فہمی پیدا ہوجائے تو وہ اس کا ازالہ کرے۔ اس سے نہ صرف ان کے وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ قومی ہم آہنگی کو بھی تقویت ملے گی۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ پاکستان کے شہدا پوری قوم کا فخر ہیں۔ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر وطن کے لیے جان قربان کرنے والوں کے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ قومی رہنماؤں، مذہبی شخصیات اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانات میں ایسے الفاظ کا انتخاب کریں جو اتحاد، اخوت اور حب الوطنی کے جذبات کو فروغ دیں۔ کیونکہ مضبوط قومیں اپنے شہدا کا احترام کرتی ہیں، ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہیں اور ان کے اہل خانہ کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتی ہیں۔ یہی رویہ پاکستان کے روشن، مضبوط اور متحد مستقبل کی ضمانت ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔