شہداء کی حرمت ناقابلِ سمجھوتہ ہے

ڈاکٹر عمیر ہارون

قوموں کی تاریخ صرف فتوحات، معاہدوں یا سیاسی تبدیلیوں سے نہیں لکھی جاتی بلکہ ان بے شمار قربانیوں سے عبارت ہوتی ہے جو وطن کے نام پر پیش کی جاتی ہیں۔ کوئی قوم اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے شہداء کی عزت و تکریم کو اپنی اجتماعی شناخت کا حصہ نہ بنالے۔ شہداء وہ روشن چراغ ہیں جن کی روشنی میں قومیں اپنا مستقبل تلاش کرتی ہیں، وہ خاموش داستانیں ہیں جن کے لہو سے آزادی، خودمختاری اور قومی وقار کی تاریخ رقم ہوتی ہے۔
پاکستان کی سرزمین بھی ایسے بے شمار جانبازوں کے خون سے سیراب ہے جنہوں نے سرحدوں کے دفاع، دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ کسی نے برف پوش چوٹیوں پر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، کسی نے دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر ہو کر اپنی زندگی قربان کردی، تو کسی نے امن دشمن عناصر کے سامنے ڈٹ کر اپنے لہو سے وفاداری کی نئی مثال قائم کی۔ یہی وہ قربانیاں ہیں جن کی بدولت پاکستان آج بھی سربلند اور محفوظ کھڑا ہے۔
اسلام نے بھی شہادت کو دنیا کے بلند ترین اعزازات میں شمار کیا ہے۔ قرآن کریم شہداء کو زندہ قرار دیتا ہے اور رسول اکرم ﷺ نے شہادت کی عظمت کو ایمان کی معراج قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان معاشروں میں شہداء کا احترام صرف قومی روایت نہیں بلکہ ایک دینی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ جو شخص اپنی جان اللہ اور وطن کی حفاظت کے لیے قربان کردے، اس کی عظمت کو کسی دنیاوی پیمانے سے ناپا نہیں جاسکتا۔
گزشتہ روز ایک سیاسی بیان نے قومی سطح پر بحث چھیڑ دی۔ مختلف حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ وطن کے محافظوں کی قربانیوں کو صرف ملازمت یا تنخواہ کے تناظر میں بیان کرنا ان کے عظیم مرتبے سے انصاف نہیں کرتا۔ اس پر مختلف سیاسی رہنماؤں نے ردعمل دیا اور اس امر پر زور دیا کہ تنخواہ کسی ملازمت کا معاوضہ ہو سکتی ہے، مگر جان کا نذرانہ کسی مالی قیمت میں نہیں تولا جاسکتا۔
حقیقت بھی یہی ہے۔ فوجی کی تنخواہ اس کی روزمرہ ذمے داریوں کا معاوضہ ہوسکتی ہے، لیکن جب وہ اپنی جان وطن کے نام کردیتا ہے تو اس لمحے وہ ایک ملازم نہیں رہتا بلکہ قوم کی تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اس کے لہو کی قیمت کسی خزانے، کسی بجٹ اور کسی سرکاری مراعات سے ادا نہیں ہوسکتی۔ شہادت ایک ایسا رتبہ ہے جو دنیاوی مفادات سے کہیں بلند اور دائمی عزت کا استعارہ بن جاتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی قیادت ہمیشہ سے قومی معاملات میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حُسن ہے اور ہر سیاسی جماعت کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، لیکن کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جو سیاست کی حدود سے بلند ہوتے ہیں۔ شہداء کا احترام انہی چند مقدس اقدار میں شامل ہے جن پر پوری قوم متفق دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس حوالے سے کوئی متنازع بیان سامنے آتا ہے تو عوام کے جذبات میں اضطراب پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔
مولانا فضل الرحمان ملک کے سینئر ترین سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مذہبی حلقوں میں ان کا اثر و رسوخ مسلمہ ہے اور ان کے بیانات کو ملک بھر میں توجہ سے سنا جاتا ہے۔ ایسی شخصیات کے الفاظ محض رائے نہیں ہوتے بلکہ لاکھوں افراد کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے قومی اور حساس موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کا انتخاب غیر معمولی احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے۔ ایک ایسا جملہ جو بولنے والے کے نزدیک معمولی ہو، سننے والوں کے لیے گہرے جذباتی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس بحث کا سب سے حساس پہلو شہداء کے وہ خاندان ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی متاع وطن پر قربان کردی۔ ایک ماں کے لیے اس کا شہید بیٹا کبھی واپس نہیں آتا، ایک بچے کے لیے باپ کا سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے اور ایک بیوی پوری زندگی اپنے شریکِ حیات کی یاد کے ساتھ گزارتی ہے۔ ایسے خاندانوں کے لیے قوم کا احترام ہی سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ اگر ان قربانیوں کو غیر محتاط الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ان کے زخموں کو تازہ کرنے کے مترادف محسوس ہوسکتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کو اس وقت اتحاد، استحکام اور قومی یکجہتی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ بیرونی چیلنجز ہوں یا اندرونی مسائل، ان کا مقابلہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب قوم اپنی بنیادی اقدار پر یکجا رہے۔ شہداء کا احترام انہی اقدار میں سرِفہرست ہے۔ یہی احترام ہمارے پرچم کی حرمت، ہماری سرحدوں کے وقار اور ہمارے مستقبل کے تحفظ کی علامت ہے۔
سیاسی قیادت، مذہبی رہنما، دانشور، صحافی اور اہلِ قلم سب پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی شعور کو تقسیم نہیں بلکہ جوڑنے کا ذریعہ بنیں۔ اختلاف ضرور کریں، دلیل ضرور دیں، حکومتوں پر تنقید بھی کریں، مگر ان شخصیات اور قربانیوں کو سیاست کی نذر نہ کریں جنہوں نے اپنے خون سے اس وطن کی بنیادوں کو مضبوط کیا ہے۔
آخرکار قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی شعور، اپنے اخلاق اور اپنے محسنوں کے احترام سے زندہ رہتی ہیں۔ پاکستان کے شہداء ہماری تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جس پر آنے والی نسلیں ہمیشہ فخر کریں گی۔ ان کی عظمت کسی تنخواہ، کسی عہدے یا کسی دنیاوی مفاد سے کہیں بلند ہے۔ ان کا ذکر احترام سے کرنا، ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرنا اور انہیں ہر سیاسی کشمکش سے بالاتر رکھنا ہی ایک مہذب، باشعور اور زندہ قوم کی پہچان ہے۔
شہداء نے اپنا فرض ادا کردیا، اب ہماری باری ہے کہ ہم اپنے الفاظ، اپنے رویوں اور اپنے قومی کردار سے ثابت کریں کہ ہم ان کے لہو کی حرمت کو پہچانتے ہیں۔ کیونکہ جن قوموں کے شہداء محترم رہتے ہیں، تاریخ بھی انہی قوموں کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔