مولانا فضل الرحمٰن کا دفاع کرنے والوں کو جواب

دانیال جیلانی
بھائی، خون کی توہین نہیں، حقیقت کی توہین ہورہی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ “جائز اور دوٹوک سوال” دراصل ایک پرانا سیاسی حربہ ہے جو کئی دہائیوں سے جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے آزمایا جارہا ہے۔ یہ نہ تو نیا ہے اور نہ ہی معقول۔ یہ تو بس فوج، اداروں اور ریاست کے خلاف عوام کو بھڑکانے کا ایک اور طریقہ ہے۔
سب سے پہلے یہ بات واضح کردیں کہ فوج کے جوانوں کا خون اور عام شہریوں کا خون دونوں ہی قیمتی ہیں، لیکن مولانا صاحب اور ان کی جماعت نے کبھی بھی دہشت گردی کے خلاف واضح، غیر مشروط اور مستقل موقف اختیار نہیں کیا۔ جب طالبان، داعش یا دیگر فسادی گروہوں نے پاکستان میں لہو بہایا تو مولانا صاحب کی طرف سے “مذاکرات”، “ڈائیلاگ” اور “جذبات سمجھنے” والی آوازیں ہی بلند ہوئیں۔ سخت کارروائی اور ریاستی طاقت کے استعمال کی حمایت کم ہی نظر آئی۔ اب جب ریاست اپنی ذمے داری نبھانے کے لیے عوام کو آگاہ کررہی ہے کہ مقامی سطح پر مزاحمت کریں تو یہ “لوسی پلیٹ لیٹس” والا طعنہ کیوں؟
آپ چوکیدار والا استعارہ دیتے ہیں۔ بہت اچھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تنخواہ لینے والے ادارے نہ صرف لڑ رہے ہیں بلکہ شہادتیں بھی دے رہے ہیں۔ مولانا صاحب نے اپنے دیرینہ اثر والے علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے؟ کیا ان کے مدرسوں اور حلقوں سے نکلنے والے نوجوانوں کو ریاست کے ساتھ کھڑا ہونے کی تربیت دی گئی؟ الٹا، تاریخ گواہ ہے کہ جے یو آئی کے بعض عناصر نے ماضی میں ایسے حلقوں کو پناہ یا نرم گوشہ دیا، جو بعد میں ملک کے خلاف استعمال ہوئے۔ یہ سوال اٹھانے والے مولانا صاحب خود کبھی ریاست کے ساتھ مکمل تعاون کی مثال نہیں بنے۔
پہلے جو عوامی لشکر بنائے گئے، ان پر تنقید کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں کہ ہزاروں شہادتیں ہوئیں اور خاندانی دشمنیاں پیدا ہوئیں۔ یہ جزوی حقیقت ہے، مگر مکمل نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لشکر اور فساد تو خود مولانا صاحب کی طرح کی سیاست کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ جب مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کیا جائے، جب ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے، جب فوج کو ہمیشہ نشانہ بنایا جائے تو نسل در نسل دشمنیاں پیدا ہوتی ہی ہیں۔ مولانا صاحب کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ “اپوزیشن” کی کرسی پر بیٹھ کر تنقید کرتے ہیں، مگر جب حکومت میں آتے ہیں تو نہ تو دہشت گردی ختم ہوتی ہے اور نہ ہی عوام کو ریلیف ملتا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں ان کے دیرینہ سیاسی اثر کے باوجود کیوں ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں؟ کیوں تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل حل نہیں ہوئے؟
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا ریکارڈ یہ ہے کہ وہ ہر حکومت کے ساتھ لین دین کرچکے ہیں۔ کبھی کسی کے ساتھ، کبھی دوسرے کے ساتھ۔ ان کی یہ “مولانا” والی تصویر صرف سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہوتی ہے جب کہ قومی مسائل پر ان کا موقف موقع پرست رہا ہے۔ جب ملک کو متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف لڑنا چاہیے تو مولانا صاحب جیسے لوگ اداروں کو کمزور کرنے اور عوام میں شکوک پیدا کرنے والے بیانات دیتے ہیں۔
عوام کو لشکر بنانے کے بجائے اصل حل یہ ہے کہ تمام ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور عوام مل کر ایک واضح، غیر متزلزل اور قومی سطح کا مؤقف اختیار کریں۔ مولانا صاحب کا یہ بیان کوئی بہادری نہیں، بلکہ قوم کو تقسیم کرنے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کا ایک اور حربہ ہے۔ پاکستان کو درپیش سنگین چیلنجز کا حل الزام تراشی سے نہیں نکلے گا، بلکہ ایمان داری، اتحاد اور عملی اقدامات سے نکلے گا۔
خون سب کا قیمتی ہے، مگر اس خون کی قدر ان لوگوں کو کرنی چاہیے جو ملک کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے کی بات کریں۔ مولانا صاحب کا یہ “جائز سوال” دراصل ایک پرانی سیاست ہے جو اب ایکسپائر ہوچکی ہے۔