علم کا معجزہ۔۔۔

اسد احمد
گاؤں کے کچے راستوں پر چلتے ہوئے اکثر لوگ ایک نوجوان کو دیکھتے تھے جو ہر روز صبح سویرے مزدوری کے لیے نکلتا اور رات گئے تھکا ہارا واپس آتا تھا۔ اس نوجوان کا نام یاسر تھا۔ اس کے چہرے پر محنت کی تھکن تو ہوتی تھی، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی بھی جھلکتی تھی۔ وہ اداسی غربت کی نہیں بلکہ اس احساس کی تھی کہ زندگی میں کچھ نہ کچھ ادھورا رہ گیا ہے۔
یاسر غریب گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ بچپن میں اس کا دل بھی اسکول جانے کو چاہتا تھا۔ جب وہ اپنے ہم عمر بچوں کو بستے اٹھائے اسکول جاتے دیکھتا تو اس کے دل میں بھی خواہش جاگتی کہ وہ کتاب کھولے، قلم پکڑے اور اپنے خوابوں کو لفظوں میں ڈھالے، لیکن قسمت نے اس کے لیے دوسرا راستہ چُن رکھا تھا۔ باپ بیمار رہتا تھا اور گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل تھے۔ چنانچہ کم عمری ہی میں اس نے مزدوری شروع کردی۔ وقت گزرتا گیا۔ یاسر جوان ہوگیا مگر زندگی کی سختیاں کم نہ ہوئیں۔ ایک دن وہ شہر کے ایک بڑے دفتر میں سامان پہنچانے گیا۔ وہاں اس نے اپنے ہی گاؤں کے ایک شخص کو دیکھا جو کبھی اس کا ہم جماعت ہوا کرتا تھا۔ وہ شخص اب ایک بڑی کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا۔ اس کی دفتر میں عزت تھی، لوگ اس کے فیصلوں کو اہمیت دیتے تھے اور اس کی زندگی میں وہ آسائشیں تھیں جن کا یاسر صرف تصور کرسکتا تھا۔
دفتر سے باہر نکلتے وقت یاسر کے قدم بوجھل تھے۔ اس کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کررہا تھا: ’’اگر میں نے بھی تعلیم حاصل کی ہوتی تو کیا میری زندگی مختلف ہوتی؟‘‘ اس رات وہ دیر تک سو نہ سکا۔ اس نے اپنی زندگی کے گزرے ہوئے برسوں پر نظر ڈالی۔ اسے احساس ہوا کہ غربت نے اس سے بہت کچھ چھینا، مگر سب سے بڑی محرومی علم سے دُوری تھی۔ وہ جان گیا کہ محنت ضروری ہے، مگر علم کے بغیر محنت اکثر صرف جسم کو تھکاتی ہے، تقدیر کو نہیں بدلتی۔
چند دن بعد یاسر نے ایک فیصلہ کیا۔ ایسا فیصلہ جس پر بہت سے لوگوں نے ہنسی اڑائی۔ اس نے رات کی شفٹ میں کام کرنے کے بجائے شام کے اوقات میں بالغوں کے تعلیمی مرکز میں داخلہ لے لیا۔ دن بھر مزدوری اور رات کو تعلیم حاصل کرنا آسان نہ تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ تھکاوٹ سے چُور ہوتا، آنکھیں بند ہونے لگتیں، مگر وہ پھر بھی کتاب کھول کر بیٹھ جاتا۔ لوگ کہتے، ’’اس عمر میں پڑھ کر کیا کرو گے؟‘‘ کوئی طنز کرتا، ’’اب ڈگری لے کر افسر بنوگے؟‘‘ لیکن یاسر خاموش رہتا۔ اسے معلوم تھا کہ دنیا کے طنز وقتی ہوتے ہیں مگر جہالت کے نقصانات پوری زندگی ساتھ رہتے ہیں۔
سال گزرتے گئے۔ اس نے میٹرک کیا، پھر انٹرمیڈیٹ مکمل کیا۔ اس دوران اس نے سیکڑوں مشکلات کا سامنا کیا۔ کبھی فیس کے پیسے نہیں ہوتے تھے، کبھی کتابیں خریدنے کے لیے اضافی مزدوری کرنا پڑتی تھی۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ بھوک اور تھکن نے اس کے حوصلے توڑنے کی کوشش کی، مگر اس نے ہار نہ مانی۔
ایک دن اس کی زندگی میں وہ لمحہ آیا جس کا اس نے برسوں انتظار کیا تھا۔ وہ ایک سرکاری ادارے کے امتحان میں کامیاب ہوگیا۔ جب اس کے ہاتھ میں تقرری کا خط آیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ آنسو خوشی کے تھے، شکر کے تھے اور ان تمام راتوں کی گواہی دے رہے تھے جو اس نے جاگ کر گزاری تھیں۔ لیکن اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
چند ماہ بعد یاسر اپنے گاؤں واپس آیا۔ وہی گاؤں جہاں کبھی لوگ اس پر ہنستے تھے۔ اس نے دیکھا کہ اب بھی بہت سے نوجوان تعلیم کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ بہت سے والدین بچوں کو جلد روزگار پر لگانے کو کامیابی سمجھتے تھے۔ یاسر نے گاؤں کے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے خطاب کیا۔
اس نے کہا، ’’میں غربت کے خلاف نہیں جیتا، میں جہالت کے خلاف جیتا ہوں۔ غربت مشکل ضرور ہے، مگر علم اس کا علاج ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایک حقیقت سیکھی ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کے ہاتھوں میں نہیں، اس کے دماغ میں ہوتی ہے۔ مزدور کا پسینہ قیمتی ہے مگر تعلیم اس پسینے کی قدر بڑھا دیتی ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرّا گئی۔
اس نے مزید کہا، ’’مجھے افسوس ان برسوں کا نہیں جو میں نے مزدوری میں گزارے۔ افسوس ان سال کا ہے جو میں نے کتاب سے دوری میں گزارے۔ اگر میں پہلے پڑھ لیتا تو شاید میری ماں اپنی بیماری کا بہتر علاج کراسکتی، شاید میرے والد قرضوں کے بوجھ تلے نہ دبے ہوتے، شاید میری زندگی کا سفر اتنا کٹھن نہ ہوتا۔‘‘ مجمع خاموش تھا۔
یاسر کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ’’یاد رکھو،‘‘ اس نے کہا، ’’علم صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، یہ انسان کو سوچنے کا شعور دیتا ہے، صحیح اور غلط میں فرق سکھاتا ہے، عزت دیتا ہے، اعتماد دیتا ہے اور زندگی کو مقصد دیتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی ترقی یافتہ قومیں ہیں، انہوں نے اپنی بنیاد تعلیم پر رکھی ہے۔ جو قوم کتاب سے رشتہ جوڑ لیتی ہے، دنیا اس کے قدموں میں آجاتی ہے۔‘‘ اس دن گاؤں کے بہت سے نوجوانوں نے حصول تعلیم کا فیصلہ کیا۔
برسوں بعد وہی گاؤں بدل چکا تھا۔ وہاں سے ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، افسران اور کاروباری افراد نکل رہے تھے۔ لوگ جب اس تبدیلی کی وجہ پوچھتے تو ایک ہی نام زبان پر آتا: یاسر۔ مگر یاسر ہمیشہ ایک ہی بات کہتا: ’’میں نے کوئی معجزہ نہیں کیا۔ معجزہ تو علم نے کیا ہے۔‘‘
جب وہ بوڑھا اور ریٹائر ہونے کے بعد اپنے گھر کے صحن میں بیٹھا تھا تو اس کے سامنے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ان میں سے کئی کامیاب لوگ بن چکے تھے۔ کسی نے اس سے پوچھا: ’’بابا! آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟‘‘
یاسر نے آسمان کی طرف دیکھا، مسکرایا اور دھیمی آواز میں کہا: ’’جس دن انسان یہ سمجھ لے کہ علم کے بغیر زندگی اندھی ہے، اسی دن اس کی کامیابی کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔ دولت چھن سکتی ہے، طاقت ختم ہوسکتی ہے، حسن ماند پڑسکتا ہے، مگر علم ایک ایسا خزانہ ہے جو جتنا بانٹا جائے اتنا بڑھتا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا۔ وہ آنسو ایک ایسے انسان کی داستان تھا جس نے زندگی کے اندھیروں میں علم کا چراغ جلایا تھا اور پھر اسی چراغ کی روشنی سے نہ صرف اپنی تقدیر بدلی بلکہ پورے معاشرے کا راستہ بھی روشن کردیا۔
واقعی، دنیا میں سرخرو وہی ہوتے ہیں جو علم کو اپنا ساتھی بناتے ہیں، کیونکہ ترقی کا ہر راستہ، عزت کی ہر منزل اور کامیابی کا ہر دروازہ تعلیم کی چابی سے ہی کھلتا ہے۔