مسیحا۔۔۔

وقاص بیگ
ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں پہاڑوں کے دامن میں بسے ہوئے گھروں کی چھتیں مٹی سے بنی ہوئی تھیں اور سڑکیں کچی تھیں۔ اسی گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام احمد تھا۔ احمد بہت غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد ایک مزدور تھے اور ماں دوسروں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔
احمد پڑھنے میں بہت ذہین تھا، لیکن غربت اس کے خوابوں کے درمیان ایک دیوار بن گئی تھی۔ اس کے پاس کتابیں نہیں تھیں، اسکول کی فیس ادا کرنے کے پیسے نہیں تھے اور کئی دن ایسے بھی آتے تھے جب گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہوتا۔ لیکن احمد کے اندر ایک چیز بہت مضبوط تھی، امید۔ وہ روزانہ اسکول جاتا، چاہے پیٹ میں بھوک کی آگ کیوں نہ ہو۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہوتے، مگر اس کی آنکھوں میں خواب چمکتے تھے۔ ایک دن اسکول کے استاد نے کلاس میں سب بچوں سے پوچھا،
"تم بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے ہو؟” کسی نے ڈاکٹر کہا، کسی نے انجینئر، کسی نے پائلٹ۔ جب احمد کی باری آئی تو اس نے آہستہ سے کہا: "میں چاہتا ہوں کہ میں ایسا انسان بنوں جو کسی بھوکے کو کھانا دے سکے، کسی بے سہارا کو سہارا دے سکے اور کسی کے آنسوؤں کو مسکراہٹ میں بدل سکے۔”
پورا کلاس روم خاموش ہوگیا۔ استاد نے احمد کو غور سے دیکھا۔ انہیں اس بچے میں کچھ خاص نظر آیا۔ لیکن زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ کچھ مہینوں بعد احمد کے والد کا ایک حادثہ ہوگیا۔ وہ کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ گھر کی ساری ذمے داری احمد کے کاندھوں پر آگئی۔ اب اسکول جانا اس کے لیے ایک خواب بن گیا۔ وہ دن میں مزدوری کرتا اور رات کو تھکے ہوئے جسم کے ساتھ سونے کی کوشش کرتا، مگر اس کے اندر کا خواب اب بھی زندہ تھا۔ ایک رات وہ چھت پر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ ستارے چمک رہے تھے۔ اس کی ماں نے اس کے پاس بیٹھ کر کہا: "بیٹا، شاید اب تمہیں پڑھائی چھوڑنی پڑے۔ ہم زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔” احمد کی آنکھوں میں آنسو آگئے، لیکن اس نے جواب دیا: "امی، اگر میں نے خواب چھوڑ دیا تو میں خود کو بھی کھو دوں گا۔ میں کچھ ایسا بنوں گا کہ آپ کو مجھ پر فخر ہوگا۔”
اگلے دن سے احمد نے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں کام شروع کردیا۔ برتن دھوتا، صفائی کرتا اور دن بھر تھک کر چُور ہو جاتا۔
مگر وہ ہر روز کچھ نہ کچھ پڑھنے کی کوشش کرتا۔ وہ پرانی کتابیں مانگ کر لاتا اور رات کو چراغ کی روشنی میں پڑھتا۔ لوگ اس پر ہنستے تھے۔ "یہ غریب لڑکا کبھی کچھ نہیں بن سکتا۔” لیکن احمد نے کبھی جواب نہیں دیا۔
وقت گزرتا گیا۔ ایک دن گاؤں میں ایک حادثہ ہوا۔ بارش بہت تیز تھی اور ایک چھوٹا بچہ ندی میں بہہ گیا۔ لوگ ڈرے ہوئے تھے، کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ احمد نے بغیر سوچے سمجھے ندی میں چھلانگ لگادی۔ تیز پانی، بہاؤ اور خطرہ، سب اس کے سامنے تھے، لیکن اس کے دل میں صرف ایک چیز تھی: انسانی جان۔ کافی جدوجہد کے بعد اس نے بچے کو بچالیا۔ پورا گاؤں اس کی بہادری دیکھ کر حیران رہ گیا۔ یہ خبر ایک اخبار میں چھپی اور پھر وہاں سے ایک فلاحی ادارے تک پہنچی۔ اس ادارے نے احمد کی تعلیم کی ذمے داری اٹھا لی۔
برسوں گزر گئے، کڑی محنت اور ریاضت کے بعد وہی احمد ایک ڈاکٹر بن گیا، مگر صرف ڈاکٹر نہیں، ایک ایسا انسان جو غریبوں کا مفت علاج کرتا تھا۔ وہ جب بھی کسی مریض کو دیکھتا، اسے اپنا بچپن یاد آتا۔ ایک دن ایک بوڑھی عورت اس کے کلینک میں آئی۔ اس کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔ احمد نے مسکرا کر کہا: "امی، آپ کے پیسے میں بعد میں لے لوں گا، پہلے آپ ٹھیک ہوجائیں۔”
بوڑھی عورت کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے دعا دی: "اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے، تم نے میرے بیٹے جیسا سلوک کیا ہے۔”
احمد باہر نکلا تو آسمان کی طرف دیکھا۔ وہی ستارے آج بھی چمک رہے تھے، مگر آج اس کے دل میں بھی روشنی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں کہا: "اصل کامیابی امیر ہونا نہیں، بلکہ کسی کی زندگی میں امید بن جانا ہے۔”
احمد تمام ہی مستحق مریضوں کا ناصرف مفت علاج کرتا، بلکہ اُنہیں غیر ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیتا تھا۔ وہ ان غریبوں کا حقیقی مسیحا بن چکا تھا۔
زندگی میں مشکلات آئیں تو راستہ چھوڑنا نہیں چاہیے۔ سچا انسان وہی ہے جو اپنی تکلیف کے باوجود دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ نیکی اور اچھائی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ وہ وقت کے ساتھ واپس ضرور آتی ہے، کبھی دعا بن کر، کبھی کامیابی بن کر اور کبھی عزت بن کر۔