آج ایران پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کیا گیا، صدر ٹرمپ

واشنگٹن: امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے اسٹرٹیجک خارگ جزیرے پر آج شدت کے ساتھ فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکی فوج کے سینٹکام نے ایران کے خارگ جزیرے پر بڑے پیمانے پر بمباری کی۔ ٹرمپ کے مطابق حملوں میں جزیرے پر موجود تمام فوجی اہداف کو تباہ کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین بمباری حملوں میں سے ایک تھا۔
خارگ جزیرہ ایران کے خلیج فارس میں واقع سب سے اہم تیل برآمدی مرکز ہے۔ ایران کے قریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ابھی تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو روکنے کی کوشش کی تو تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید 5 ہزار فوجی اور ان کے ساتھ کئی جنگی بحری جہاز تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا نے جنگی صورتحال کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے لیے 5 ہزار میرینز اور فوجی اہلکاروں کے ساتھ کئی جنگی بحری جہاز بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ہزاروں امریکی میرینز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اقدام امریکی سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹکام کی درخواست پر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے اقدامات کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے حملوں کے لیے مشن شروع کر دیا ہے اور ان حملوں کا ہدف ایران کی مستقبل میں دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی صلاحیت ختم کرنا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔