امارات سے قرض رول اوور میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں، وزیر خزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ حکومت کے متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں توسیع (رول اوور) کے معاملے پر رابطے جاری ہیں، اس سلسلے میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بیرونی مالیاتی خلا مکمل پُر کیا جا چکا ہے اور اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں، بیرونی مالی ضروریات پر آئی ایم ایف سے پروگرام کے آغاز میں بات چیت ہو چکی ہے اور آئندہ مذاکرات میں بھی اس کا جائزہ لیا جائے گا۔
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین نے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اسٹیٹ بینک میں مجموعی طور پر 12.5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس پروگرام کی مدت ستمبر تک برقرار رکھنے کا عزم کر رکھا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اس بار یو اے ای نے قرض کی مدت میں صرف ایک ماہ کی توسیع کی تھی جبکہ مزید توسیع کے بارے میں باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
گزشتہ دسمبر میں گورنر اسٹیٹ بینک نے یو اے ای سے 2.5 ارب ڈالر قرض 2 سال کے لیے رول اوور کرنے اور شرح سود 6.5 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کرنے کی درخواست کی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوری میں گزشتہ توسیع کے وقت اماراتی حکام نے عندیہ دیا تھا کہ یہ آخری توسیع ہوگی۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار پہلے بتا چکے ہیں کہ عرب امارات فوجی فاؤنڈیشن کے ایک ارب ڈالر مالیت کے حصص کے حصول پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں آئی ایم ایف بورڈ سے 1.2 ارب ڈالرکی دو قسطوں کی منظوری کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
آئی ایم ایف مشن کراچی پہنچ چکا ہے جہاں وہ اسٹیٹ بینک کی کارکردگی کاجائزہ لے گا، جس میں نیٹ انٹرنیشنل ریزروز، نیٹ ڈومیسٹک اثاثے اور سواپ پوزیشن شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف مذاکرات کیلیے اچھی پوزیشن میں ہے، آئندہ دنوں میں کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی پر بات چیت ہوگی۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔