توانائی بحران میں امید کی کرن

بلال ظفر سولنگی
پاکستان کو درپیش توانائی کے بحران کے تناظر میں بلوچستان کے ضلع بارکھان میں گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا خبر ہے۔ ماڑی انرجیز کمپنی نے کلچاس ساؤتھ بلاک کے تحت تِبری ون کنویں سے گیس کی موجودگی کا اعلان کیا ہے، جو نہ صرف ملکی توانائی کے وسائل میں اضافہ کرنے کا باعث بنے گی بلکہ یہ پاکستان کی معاشی بحالی اور توانائی کے شعبے میں خودانحصاری کے حصول کی سمت ایک اہم قدم بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ ابتدائی ٹیسٹ کے مطابق، کنویں سے 11 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس فلو رپورٹ ہوا ہے جب کہ ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر 561 پی ایس آئی ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ ذخیرہ تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل ہوسکتا ہے۔ اگر آئندہ ٹیسٹنگ میں بھی یہی نتائج برقرار رہیں تو یہ دریافت قومی گرڈ میں شامل ہوکر گیس کی کمی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے صنعت، زراعت اور گھریلو صارفین سب متاثر ہورہے ہیں۔ گیس کی کمی کے باعث نہ صرف روزمرہ زندگی میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں بلکہ صنعتی پیداوار اور معاشی ترقی پر بھی منفی اثر پڑرہا ہے۔ اس بحران کے حل کے لیے مقامی سطح پر گیس کے ذخائر کی دریافت بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، جو نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کی بچت کا باعث بنے گا بلکہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
یہ دریافت بلوچستان کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس سے صوبے میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ توانائی کے نئے منصوبے روزگار کے مواقع فراہم کریں گے، انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے امکانات بڑھیں گے اور مقامی کمیونٹی کی معیشت مستحکم ہوگی۔ اس کے علاوہ، یہ دریافت بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہوگی، جس سے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کار توانائی کے شعبے میں دلچسپی دکھا سکتے ہیں۔
ماڑی انرجیز کا یہ اقدام کہ کمپنی نے اسٹاک مارکیٹ کو بروقت آگاہ کیا اور مزید ٹیسٹنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی بڑھانے کا سبب بنے گا۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنے قدرتی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہا ہے اور توانائی کے شعبے میں شفافیت اور منصوبہ بندی کے ذریعے بہتری لانے کا عزم رکھتا ہے۔
تاہم اس دریافت سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اسے قومی مفاد میں موثر منصوبہ بندی کے تحت عملی جامہ پہنائیں۔ مقامی آبادی کو اعتماد میں لینا، ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانا اس کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ اگر یہ تمام اقدامات تسلسل کے ساتھ کیے جائیں تو بلوچستان میں یہ دریافت پاکستان کے لیے ایک مثبت معاشی اور توانائی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ واقعہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل کی کمی نہیں، بلکہ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ درست حکمت عملی، شفاف عمل درآمد اور قومی ترجیحات کے تعین کے ذریعے ان وسائل سے بہترین فائدہ اٹھایا جائے۔ بلوچستان میں یہ گیس ذخیرہ پاکستان کی توانائی کی خودمختاری کی سمت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے ذریعے نہ صرف ملک کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ معیشت کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔
آخر میں کہا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کے ضلع بارکھان میں دریافت ہونے والا یہ گیس ذخیرہ نہ صرف توانائی بحران کے حل کی امید ہے بلکہ پاکستان کی ترقی، خودانحصاری اور مقامی کمیونٹی کے لیے خوشحالی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔