کراچی کو بھی پرائیوٹائز کردیں، عوام زیادہ اچھا چلالیں گے، تابش ہاشمی
کراچی: نامور میزبان و کامیڈین تابش ہاشمی نے سانحہ گل پلازہ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پی آئی اے کی طرح کراچی کو بھی پرائیوٹائز کردے، یہاں رہنے والے پٹھان، بلوچ، سندھی، مہاجر، پنجابی سب مل کر شہر خرید لیں گے اور زیادہ اچھا چلالیں گے۔
تابش ہاشمی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا بچپن کراچی میں اسکول سے جامعہ کراچی اور پھر مختلف نوکریاں کرتے ہوئے گزرا، یہاں تک کہ جب میں والد بنا تو میں بھی خریداری کے لیے گل پلازہ ہی گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں گل پلازہ سے لائی گئی کوئی چیز موجود نہ ہو، بچپن سے لے کر جوانی اور اب جب پکی عمر میں ہیں تو جو ایسوسی ایشنز کراچی میں تھیں وہ ایک ایک کرکے ختم ہورہی ہیں۔
تابش ہاشمی نے کہا کہ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر ویڈیوز بنائیں لیکن ان باتوں کا بھی اگر مجھے حکومت کو بتانا پڑے تو پھر شاید وہاں جو لوگ بیٹھے ہیں، ان کا کام نہیں، انہیں تو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے، آج یہ باتیں کی جارہی ہیں کہ بلڈنگ میں مسائل تھے تو یہ کام کس کا تھا؟ دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کا یہی کام ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے وزیراعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس سنی جس میں انہوں نے کہا میں جواب دہ ہوں لیکن یہ سب صرف باتوں سے نہیں ہوتا، ان پر عمل کرنا پڑتا ہے اور کروانا پڑتا ہے جب کہ یہ کراچی میں ہونے والا کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے پہلے بھی درجنوں سانحات ہوچکے اور مسلسل ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کہتے ہیں کہ وہ جواب دہ ہیں تو مجھے بتایا جائے کیا ان کا عہدہ چلا گیا یا ان کی تنخواہ کٹی؟ یہاں تک کہ وہ جو متاثر لوگوں کو ہرجانہ دیتے ہیں، وہ بھی اپنی جیب سے ادا نہیں کرتے۔
میئر کراچی کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر چیز میں قبول تو کرلیتے ہیں کہ ہماری غلطی ہیں لیکن ساتھ میں کسی چیز کی نشان دہی کردیتے ہیں کہ فلاں چیز ایسی تھی اس لیے ایسا ہوگیا، حالانکہ دنیا میں یہ دستور ہے کہ جب آپ کسی عہدے پر ہوتے ہیں اور مسلسل کوئی واقعات ہورہے ہوتے ہیں تو وہ مستعفی ہوجاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔
متحدہ قومی موومنٹ کی بات کرتے ہوئے تابش ہاشمی نے کہا کہ وہ کراچی سے قومی اسمبلی کی 15 سیٹیں اور صوبائی اسمبلی کی قریباً 75 نشستیں ان کے پاس ہیں، چلیں مان لیتے ہیں کہ عوام کو ان کے مینڈیٹ پر شک ہے لیکن کیا انہیں خود بھی اپنے مینڈیٹ پر شک ہے؟ وہ کیوں باہر نہیں نکل رہے، انہیں کیوں یقین نہیں آرہا کہ وہ کراچی میں اتنے سارے حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
تابش ہاشمی کا کہنا تھا کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں کہوں گا جیسے حکومت کو احساس ہوا کہ ان سے پی آئی اے نہیں چل پارہا تو انہوں نے وہ پرائیوٹائز کردیا، آپ اسی طرح کراچی کو بھی پرائیوٹائز کردیں، کراچی والے پٹھان، بلوچ، سندھی، مہاجر، پنجابی جتنے بھی لوگ ہیں ہم سب مل کر شہر خرید لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے ہم بہت اچھا شہر چلالیں گے، اگر اسی طرح چلنا ہے تو کیونکہ ہم اس شہر کو ان سے برا تو نہیں چلا پائیں گے۔