حق۔۔۔

فہیم سلیم

ایک گاؤں میں دو بہن بھائی رہتے تھے۔ بڑا بھائی نعمان اور اُس کی چھوٹی بہن عائشہ۔ باپ کے انتقال کے بعد گھر، زمین اور تھوڑی بہت جائیداد نعمان کے حصے میں آگئی کیونکہ وہ گھر کا بڑا تھا۔ عائشہ سادہ مزاج اور شرمیلی لڑکی تھی۔ اُس نے کبھی اپنے حق کے بارے میں آواز نہ اٹھائی۔ وہ صرف اتنا جانتی تھی کہ بھائی ہی اب اُس کا سہارا ہے۔
شروع شروع میں نعمان نے بہن سے وعدے کیے۔ “فکر نہ کرنا، یہ سب تمہارا بھی ہے۔” لیکن وقت گزرتا گیا۔ نعمان کی شادی ہوگئی، بچے ہوگئے، کاروبار بڑھ گیا اور وعدے کمزور پڑتے گئے۔ اسی دوران عائشہ بھی بیاہ کر اپنے گھر کی ہوگئی۔ اُس کا شوہر مالی حیثیت میں خاصا کمزور تھا۔ بڑی مشکل سے گزارا ہورہا تھا۔ سال گزرتے گئے۔ بچے وغیرہ ہوگئے۔ جب کبھی عائشہ آتی اور اپنے حق کا ذکر کرتی تو نعمان بات بدل دیتا۔ “ابھی حالات ٹھیک نہیں…”، “بعد میں دیکھیں گے…” عائشہ خاموش ہوجاتی۔ وہ جانتی تھی کہ حق مانگنے سے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔
غریب ہونے کے باوجود وہ ہر عید پر بھائی کے بچوں کے لیے سستے تحفے ضرور لے جاتی، مگر واپس آکر رات بھر اپنے آنسو چھپاتی رہتی۔
وقت تیزی سے گزرا اور نعمان اور عائشہ کے بچے جوان ہوگئے۔ ایک دن نعمان کا جوان بیٹا شدید بیمار ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے کہا علاج بہت مہنگا ہے۔ نعمان کے کاروبار کو بھی نقصان ہوچکا تھا۔ دوست، رشتے دار، سب آہستہ آہستہ دور ہونے لگے۔
اُسی پریشانی میں ایک رات وہ اسپتال کے کوریڈور میں بیٹھا تھا کہ اچانک اُسے اپنا مرحوم باپ یاد آیا۔ باپ اکثر کہا کرتا تھا: “بیٹی کا حق کھانے والا کبھی سکون نہیں پاتا۔”
وہ جملہ اُس کے سینے میں تیر کی طرح لگا۔ پہلی بار اُسے احساس ہوا کہ اُس نے صرف جائیداد نہیں چھینی تھی… اُس نے اپنی بہن کی دعائیں کھودی تھیں۔
وہ پوری رات روتا رہا۔ زندگی میں پہلی بار اُسے اپنے گناہ کا وزن محسوس ہوا۔ اگلی صبح وہ سیدھا بہن کے گھر پہنچا۔ گھر کیا تھا… ٹوٹی دیواریں، پرانی چارپائی، چولہے پر خالی برتن۔ عائشہ اُسے دیکھ کر مسکرائی۔
“بھائی… خیریت ہے؟” نعمان اُس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ اتنا بڑا آدمی بچوں کی طرح رو رہا تھا۔ “مجھے معاف کردو عائشہ… میں نے تمہارا حق مارا… میں بہت ظالم تھا…”
عائشہ کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔ اُس نے بھائی کا سر اٹھایا اور صرف اتنا کہا: “بھائی… مجھے ہمیشہ تمہاری محبت چاہیے تھی، زمین نہیں…”
یہ جملہ نعمان کو اندر سے توڑ گیا۔ اُس نے فوراً جائیداد کا حصہ بہن کے نام کیا، اُس کے گھر کی مرمت کروائی، بچوں کی تعلیم کا بندوبست کیا۔ مگر سب سے زیادہ وہ ایک چیز واپس لانا چاہتا تھا… بہن کی وہ دعائیں جو برسوں پہلے اُس سے چھن گئی تھیں۔
کچھ مہینوں بعد اُس کے بیٹے کی طبیعت بہتر ہونے لگی۔ نعمان ہر نماز کے بعد روتا اور کہتا: “یااللہ، مجھے دیر سے سہی مگر احساس تو دے دیا…”
لوگ کہتے ہیں اُس دن کے بعد نعمان بدل گیا۔ وہ ہر اُس شخص کو سمجھاتا تھا جو بہنوں کا حق دباتا تھا:
“بہن کا حصہ صرف زمین نہیں ہوتا… وہ اُس کی عزت، اُس کی دعا اور تمہارے نصیب کا سکون ہوتا ہے۔ جو بھائی بہن کا حق کھا جاتا ہے، وہ زندگی میں کہیں نہ کہیں خالی رہ جاتا ہے…”

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔