لاہور کے کئی دیہات زیرِ آب: دریائے چناب کا بڑا ریلا جھنگ میں داخل، 20 افراد جاں بحق

لاہور: پنجاب کے تین بپھرے دریاؤں راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچادی، دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں اور فصلیں زیر آب آگئیں جب کہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث دریائے چناب، ستلج اور راوی بدستور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہورہا ہے، لاہور کے متعدد علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے۔
پنجاب میں دریاؤں کے آس پاس آباد دیہات، شہر اور گلی محلے دریا کا منظر پیش کرنے لگے، لوگوں کے آشیانے اجڑ گئے اور راستے برباد ہوگئے۔
کہیں ڈوبے مکانوں کی چھتوں پر لوگ پناہ لینے پر مجبور ہیں تو کہیں سیلابی ریلوں میں پھنسے شہری بچی کُھچی جمع پونجی اٹھائے محفوظ مقامات پر منتقل ہورہے ہیں۔
وزیرآباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں میں دیہات سیلاب کے گھیرے میں آگئے اور زمینی رابطہ کٹ گیا جب کہ کئی مقامات پر عارضی بند ٹوٹ گئے۔
پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان کاٹھیا کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، موسمیاتی تغیر کی وجہ سے غیر متوقع بارشیں ہوئیں، سیلاب کی وجہ سے فصلوں کو کافی نقصان پہنچا، موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر نہ رکھ کر کوئی بھی کام کریں گے تو اس کا نقصان ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے پنجاب میں اب تک 20 اموات ہوچکی ہیں، سب سے زیادہ جانی نقصان گوجرانوالا میں ہوا۔
عرفان کاٹھیا کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے ہر فرد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت ہے کہ لوگوں کی لائیو اسٹاک کو بچایا جائے، اب تک 3 لاکھ سے زائد مویشیوں کو محفوظ کیا ہے۔
دریائے چناب کا پانی جھنگ چنیوٹ روڈ پر آگیا جس سے سڑک ڈوب گئی، چنیوٹ کے نواحی دیہات سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر کے مطابق ریوازبرج کے قریب دھماکا کرکے شگاف لگا دیا گیا ہے، شگاف کے لیے بارودی مواد بچھایا گیا، شگاف سے پانی قریبی دیہات میں پھیلے گا اور تریموں ہیڈ ورکس پر دباؤ کم ہوسکے گا، شگاف ڈالنے سے 5 کلومیٹر کا ریلوے ٹریک بھی متاثر ہوگا۔
فیصل آباد میں تاندلیانوالہ کے مقام پردریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پیش نظرضلعی انتظامیہ اورمتعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
دریائے چناب میں چنیوٹ برج پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے اور چنیوٹ برج پر پانی کی آمد 830100 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کی وجہ سے فرخ آباد، عزیز کالونی،امین پارک، افغان کالونی،شفیق آباد،مریدوالا کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر راجن پور شفقت اللہ مشتاق کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، نشیبی علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے، دریائے سندھ کے قریب فلڈ ریلیف کیمپس قائم کردیے گئے ہیں۔
شفقت اللہ نے کہا کہ محکمہ صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو ٹیمیں متحرک ہیں، حفاظتی بندوں کی مضبوطی کے لیے کام جاری ہے، پولیس کا کچے کے علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
دوسری جانب ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلا 24 سے 48 گھنٹوں میں شہر کی حدود میں داخل ہوسکتا ہے، شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کاروں، پاک فوج اور پاکستان رینجرز کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی گزشتہ روز سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی آپریشنز کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔