یو اے ای، مواقع اور ترقی

دانیال جیلانی

متحدہ عرب امارات گزشتہ چند دہائیوں میں عالمی سطح پر ایک ایسی ریاست کے طور پر ابھرا ہے جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں سرمایہ کاری، تجارت اور سیاحت کے نئے معیار قائم کیے ہیں۔ اپنی سرمایہ کار دوست پالیسیوں، جدید انفرا اسٹرکچر، محفوظ ماحول اور کم سے کم حکومتی مداخلت کے باعث یو اے ای آج بھی دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے لیے ایک پُرکشش مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر انجینئر عاصم منیر کے مطابق، متحدہ عرب امارات اب بھی “مواقع کی سرزمین” ہے جہاں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مختلف جنگی صورت حال کے باوجود یو اے ای کی معیشت نے حیران کن لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔
یو اے ای کی معیشت کی سب سے بڑی طاقت اس کا متنوع اور مضبوط اقتصادی ڈھانچہ ہے۔ تیل کی آمدن کے ساتھ اب یہ ملک رئیل اسٹیٹ، سیاحت، مالیاتی خدمات، لاجسٹکس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرچکا ہے۔ انجینئر عاصم منیر کے مطابق، موجودہ عالمی حالات اور جنگوں کے باعث اگرچہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں پر کچھ نہ کچھ اثرات ضرور مرتب ہوئے ہیں، لیکن یو اے ای کی معیشت خصوصاً اس کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور سیاحتی صنعت اس سے زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یو اے ای نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اسے مزید مضبوط بھی کیا ہے۔
یہ ملک اپنی جدید اور منفرد تعمیراتی پہچان کے لیے بھی دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی جیسے شہر جدید فلک بوس عمارتوں، لگژری رہائشی منصوبوں اور عالمی معیار کے تجارتی مراکز کی وجہ سے ایک عالمی بزنس حب کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔
یو اے ای کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سرمایہ کار دوست پالیسیاں ہیں۔ یہاں کاروبار شروع کرنا نسبتاً آسان ہے، ٹیکس کا نظام سادہ ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بڑی حد تک سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے کاروباری ادارے اور سرمایہ کار یو اے ای میں اپنے دفاتر اور منصوبے قائم کررہے ہیں۔ یو اے ای میں حکومتی مداخلت نسبتاً کم ہونے کے باعث کاروباری ماحول زیادہ آزاد اور مؤثر ہے۔ یہی آزادی سرمایہ کاروں کو بڑے فیصلے کرنے اور طویل المدتی منصوبے بنانے میں مدد دیتی ہے۔ مزید برآں، یو اے ای کی قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک بھی خاصی مضبوط ہے، جو سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور کاروباری اعتماد کو بڑھاتا ہے۔
یو اے ای کی معیشت میں سیاحت ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ دبئی اور ابوظہبی جیسے شہر دنیا کے سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ جدید ہوٹلز، تفریحی مقامات، شاپنگ مالز اور ایونٹس نے یو اے ای کو ایک عالمی سیاحتی مرکز بنا دیا ہے۔ عالمی فضائی رابطوں کی مضبوطی بھی یو اے ای کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹس میں شمار ہوتا ہے، جو اسے عالمی تجارت اور سفر کے لیے ایک مرکزی مقام بناتا ہے۔ یو اے ای میں پاکستانی محنت کشوں اور پیشہ ور افراد کا کردار انتہائی اہم ہے۔ لاکھوں پاکستانی مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں تعمیرات، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبے شامل ہیں۔
پاکستانی ورکرز یو اے ای کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی محنت، مہارت اور لگن نہ صرف یو اے ای کی ترقی میں معاون ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی زرِمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یہ محنت کش نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کررہے ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تعلقات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ یہ تعلقات معاشی، تجارتی اور انسانی بنیادوں پر بھی بہت مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے تبادلے کے دیرینہ تعلقات موجود ہیں۔
یو اے ای ہمیشہ پاکستان کے لیے ایک قابل اعتماد اقتصادی شراکت دار رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہورہا ہے۔ کراچی میں یو اے ای کے قونصل جنرل ڈاکٹر بخیت عتیق الرمیثی کی کوششوں کو بھی اس تناظر میں اہم قرار دیا جاتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان کاروباری اور پیشہ ورانہ روابط کو فروغ دینے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یو اے ای کا مستقبل مزید روشن نظر آتا ہے۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، گرین انرجی اور ڈیجیٹل اکانومی جیسے شعبوں میں یو اے ای کی سرمایہ کاری اسے آنے والے وقت میں بھی ایک عالمی لیڈر کے طور پر برقرار رکھے گی۔
اسی طرح پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تعلقات بھی مزید وسعت اختیار کرنے کی توقع ہے، خصوصاً تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع دونوں ممالک کو مزید قریب لا سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات آج بھی ایک ایسی ریاست ہے جو استحکام، ترقی اور مواقع کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس کی مضبوط معیشت، جدید انفرا اسٹرکچر، سرمایہ کار دوست پالیسیاں اور عالمی سطح پر جڑے ہوئے تعلقات اسے ایک منفرد مقام دیتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یو اے ای نہ صرف ایک معاشی شراکت دار ہے بلکہ ایک ایسا ملک بھی ہے، جہاں لاکھوں پاکستانی اپنی محنت کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یو اے ای اور پاکستان کے تعلقات ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو باہمی اعتماد، ترقی اور مشترکہ خوش حالی پر مبنی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔