دبئی میں کم اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کو شدید مشکلات
دبئی: جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے باعث دبئی میں ہزاروں کم اجرتی کارکنان کی زندگی سخت مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو تعمیراتی منصوبوں، صفائی، ہوٹل اور سیاحت کے شعبے میں کام کرتے ہیں، شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق، جمیرا بیچ ریزیڈنس، وزیٹر مراکز اور دیگر مشہور سیاحتی مقامات اس وقت سنسان دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ سیاحوں کی آمدورفت متاثر ہوچکی ہے اور ٹورازم کی سرگرمیاں قریباً رُک گئی ہیں۔
کم اجرتی کارکنان کو اپنے روزمرہ کے اخراجات کے لیے اپنے محدود وسائل پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔ کئی مزدور اپنی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر یا کمی کی شکایات کررہے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں قرضوں پر گزارا کرنا پڑرہا ہے۔ ایک مزدور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں کئی ماہ سے مکمل تنخواہ نہیں ملی اور روزانہ کی بنیاد پر کھانے اور رہائش کے لیے قرض لینا پڑرہا ہے۔ یہ صورت حال ان کے لیے مالی دباؤ کے ساتھ ذہنی دباؤ کا بھی سبب بن گئی ہے۔
سیاحت کا شعبہ شدت سے متاثر ہونے کی وجہ سے دبئی کی معیشت کے مختلف سیکٹر بھی بحران کا شکار ہیں۔ ہوٹلوں میں کم رہائشی، ریزورٹس کی خالی جگہیں اور سیاحتی مراکز میں کم لوگ آنے کی وجہ سے مقامی کاروبار کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ایئر لائنز کی محدود پروازیں اور فضائی پابندیوں کی وجہ سے مزدوروں کے لیے اپنے وطن واپس جانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ کئی کارکن اپنے خاندان سے دُور ہیں اور وطن واپسی کے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشانی میں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج میں جاری جنگ کی وجہ سے دبئی میں مزدوروں کی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے اور حکومت اور کاروباری اداروں کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کم اجرتی کارکنان کے بنیادی حقوق اور سہولتیں یقینی بنائی جاسکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری مالی امداد، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور رہائش و خوراک کے انتظامات کے ذریعے مزدوروں کی مشکلات کو کم کیا جائے۔
دبئی میں ہزاروں کم اجرتی کارکنان کی یہ صورت حال نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کررہی ہے بلکہ معاشرتی اور اقتصادی سطح پر بھی دباؤ پیدا کررہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو دبئی کے سیاحتی اور تجارتی شعبے بھی طویل مدت کے لیے متاثر ہوسکتے ہیں۔