یورپ میں اچانک اموات کی شرح بے پناہ بڑھ گئی
برسلز: تازہ ترین تحقیق میں یورپ میں اچانک اموات میں ہوشربا اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔
دی لانسٹ ریجنل ہیلتھ- یورپ میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق 2010 سے 2020 کے دوران 26 یورپی ممالک میں 25 لاکھ سے زیادہ اچانک اموات ہوئیں۔ یہ ایسی قدرتی لیکن غیر متوقع اموات تھیں، جو علامات شروع ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر ہوئیں۔
اچانک موت کی سب سے عام وجہ دل سے متعلق بیماریاں ہوتی ہیں، جن میں کورونری آرٹری بیماری شامل ہے، جو دل کی ناکامی تک لے جاسکتی ہے۔ تاہم اس میں قلبی وجوہ کے علاوہ اسباب بھی شامل ہیں، جیسے دماغ میں شدید خون بہنا، منشیات کی زیادہ مقدار کا استعمال، یا پھیپھڑوں کی شریان میں اچانک رکاوٹ (پلمونری ایمبولزم)۔
اچانک موت کی تعریف اور رپورٹنگ میں کافی فرق پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے رجحانات سے متعلق درست اور تازہ ڈیٹا جمع کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
اس تحقیق میں مصنفین نے 2010 سے 2020 تک کے ڈبلیو ایچ او کے اموات کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس دہائی میں 26 یورپی ممالک میں 25 لاکھ 83 ہزار 559 اچانک اموات رپورٹ ہوئیں (جن میں 19 لاکھ 35 ہزار 741 مرد اور 6 لاکھ 47 ہزار 818 خواتین شامل تھیں)۔ اس عرصے میں اچانک اموات کل اموات کا قریباً 5 فیصد تھیں، یعنی ان ممالک میں ہر 2.2 منٹ میں ایک اچانک موت واقع ہوئی۔
اچانک اموات کی شرح بڑھنے پر عوام میں شدید تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔