پراکسی جنگ کا نیا کھیل

دانیال جیلانی

وزیر دفاع خواجہ آصف کے گزشتہ روز کے بیان نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا کی پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی صورت حال کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ افغانستان بھارت کی پراکسی کے طور پر استعمال ہورہا ہے اور بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑرہا ہے، ایک طویل عرصے سے جاری خدشات کی عکاسی ہے۔ تاہم اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ پہلے ہی بے یقینی صورت حال اور سیکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر بدقسمتی سے بھارت کی جانب سے مسلسل جارحانہ پالیسیوں اور پراکسی جنگی حکمت عملی نے اس امن کو نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان، جو خود کئی دہائیوں سے جنگ اور عدم استحکام کا شکار رہا ہے، اسے ایک بار پھر دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمے دارانہ عمل ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بھی ہے۔ خواجہ آصف کا یہ دعویٰ کہ بھارتی سرپرستی میں پاکستانی اور افغان طالبان کو استعمال کیا جارہا ہے، ایک سنگین الزام ہے، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔ اگر واقعی ایسا ہورہا ہے تو یہ بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی ملک کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے لیے پراکسی عناصر کا استعمال ایک خطرناک رجحان ہے جو عالمی امن کے لیے بھی چیلنج بن سکتا ہے۔ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ واضح رہی ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ “اچھے ہمسائے” کی بات محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حکمت عملی ہے، جس کے تحت پاکستان نے افغانستان میں امن عمل کی حمایت کی، مہاجرین کی میزبانی کی اور بارہا مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے تو یہ نہ صرف افسوس ناک بلکہ تشویش ناک بھی ہے۔
بھارت کا کردار اس تمام صورت حال میں مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بھارت کی جانب سے خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی خواہش کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ مگر یہ خواہش اگر پراکسی جنگوں کے ذریعے پوری کی جائے تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارتی مداخلت کے شواہد ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، جنہیں عالمی سطح پر سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ وزیر دفاع کا یہ بیان کہ پاک فوج نے بھارت کو شکست دے کر اس کا غرور خاک میں ملادیا، دراصل پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ پاکستان کی افواج نے ہمیشہ ملک کی سالمیت اور خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن کو کسی بھی مہم جوئی سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اصل کامیابی امن کے قیام میں ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ داخلی استحکام کے بغیر بیرونی خطرات کا مقابلہ ممکن نہیں۔ خواجہ آصف نے درست کہا کہ ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور مضبوط معیشت کی ہے۔ اگر ہم اندر سے مضبوط ہوں گے تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہوجائیں گی۔
افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کو ایک متوازن پالیسی اپنانا ہوگی۔ ایک طرف جہاں سیکیورٹی خدشات کا ازالہ ضروری ہے، وہیں دوسری جانب افغان عوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں جنہیں کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ افغان حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور پاکستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دے۔ عالمی برادری کا کردار بھی اس صورت حال میں نہایت اہم ہے۔ اگر واقعی خطے میں پراکسی جنگیں جاری ہیں تو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ جنوبی ایشیا ایک ایٹمی خطہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سطح پر اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان ایک ذمے دار ریاست کے طور پر ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کرے گا۔ اگر پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا سازش کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ تاہم اصل ترجیح یہی ہونی چاہیے کہ خطے کو پراکسی جنگوں سے نکال کر ترقی، تعاون اور امن کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ سنجیدگی اور دانش مندی سے فیصلے کرنے کا ہے۔ اگر بھارت اور افغانستان واقعی خطے میں امن چاہتے ہیں تو انہیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ورنہ پراکسی جنگوں کا یہ کھیل نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔