قرضوں سے نجات کا سفر

عبدالعزیز بلوچ
پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف داخلی اور خارجی چیلنجز سے نبرد آزما رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے قرضے، مالیاتی خسارہ، درآمدات پر انحصار، توانائی کے مسائل اور عالمی معاشی اتار چڑھاؤ نے قومی معیشت کو کئی بار مشکل صورتِ حال سے دوچار کیا۔ ایسے حالات میں اگر ریاست قرضوں کے بہتر انتظام، مالی نظم و ضبط اور بروقت ادائیگی کی صلاحیت کا مظاہرہ کرے تو یہ نہ صرف معاشی استحکام کی علامت ہوتی ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 4,722 ارب روپے سے زائد قرضہ مقررہ مدت سے قبل واپس کرنا ایک ایسی پیش رفت ہے جسے محض اعداد و شمار تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اقدام اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ اگر درست معاشی منصوبہ بندی، شفاف مالی نظم و نسق اور قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے تو مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ قبل از وقت قرضوں کی ادائیگی نہ صرف سودی اخراجات میں کمی کا باعث بنتی ہے بلکہ ملک کی مالی ساکھ کو بھی مضبوط کرتی ہے، جس کے مثبت اثرات مستقبل میں سرمایہ کاری، تجارتی سرگرمیوں اور اقتصادی ترقی کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔ معاشی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت صرف اس کے قدرتی وسائل میں نہیں بلکہ اس کے مالی نظم و ضبط، پالیسیوں کے تسلسل اور اداروں کی مضبوطی میں ہوتی ہے۔ جب حکومت اپنے قرضوں کا بوجھ کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، انفرا اسٹرکچر اور روزگار کے شعبوں کے لیے زیادہ وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط اور خوش حال ریاست کی بنیاد رکھتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان نے ماضی میں قرضوں پر غیر معمولی انحصار کیا، جس کی وجہ سے قومی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں خرچ ہوتا رہا۔ اس صورت حال نے ترقیاتی اخراجات کو محدود کیا اور معیشت کو بیرونی مالیاتی دباؤ کے سامنے کمزور رکھا۔ اب اگر قرضوں کے بہتر انتظام کی پالیسی اپنائی جارہی ہے تو اسے وقتی کامیابی کے بجائے ایک مستقل قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان کے لیے آئندہ منزل صرف قرضوں کی ادائیگی نہیں بلکہ خودانحصاری کا حصول ہونا چاہیے۔ خودانحصاری کا مطلب دنیا سے الگ تھلگ ہونا نہیں بلکہ اپنی معاشی بنیادوں کو اس قدر مضبوط بنانا ہے کہ بیرونی امداد یا قرضوں پر انحصار کم سے کم رہ جائے۔ اس مقصد کے لیے برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی، زراعت کی جدید خطوط پر بحالی، معدنی وسائل کا مؤثر استعمال، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور نوجوانوں کو ہنرمند بنانا ناگزیر ہے۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ معاشی استحکام ایک قومی ذمے داری ہے جس میں حکومت، نجی شعبہ، صنعت کار، تاجر، کسان، سرمایہ کار اور عام شہری سب برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، غیر ضروری درآمدات میں کمی، مقامی صنعت کی سرپرستی، توانائی کے ضیاع کی روک تھام اور قومی وسائل کا محتاط استعمال ایسے اقدامات ہیں جو پاکستان کو حقیقی معنوں میں خود کفیل بناسکتے ہیں۔ کفایت شعاری کی پالیسی بھی اس ضمن میں خاصی ضروری ہے۔
موجودہ عالمی حالات میں وہی ممالک تیزی سے ترقی کررہے ہیں جو اپنی مقامی پیداوار، برآمدات اور جدید ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، زرخیز زمین، معدنی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور وسیع انسانی سرمایہ موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے قومی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔ اگر ہم اپنی صنعتی استعداد میں اضافہ کریں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کریں اور جدید معیشت کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات جاری رکھیں تو پاکستان معاشی خود انحصاری کی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔ معاشی استحکام کا ایک اور اہم ستون پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ جب حکومتیں تبدیل ہونے کے ساتھ معاشی پالیسیاں بھی یکسر بدل جاتی ہیں تو سرمایہ کار بے یقینی صورت حال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قومی معیشت سے متعلق بنیادی پالیسیوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔ ایک مضبوط، مستقل اور طویل المدتی معاشی وژن ہی پاکستان کو ترقی یافتہ معیشتوں کی صف میں کھڑا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ احتساب، شفافیت اور میرٹ کو بھی قومی معاشی حکمت عملی کا لازمی جزو بنایا جانا چاہیے۔ بدعنوانی، وسائل کے ضیاع اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پا کر ہی قومی خزانے کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ عوام کا اعتماد بھی اسی وقت بحال ہوگا جب انہیں محسوس ہوگا کہ قومی وسائل دیانت داری اور دانشمندی سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوم نے ہر مشکل وقت میں متحد ہو کر بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے۔ آج بھی اگر حکومت، نجی شعبہ اور عوام مل کر خود انحصاری، بچت، محنت، پیداوار اور قومی مفاد کو اپنی ترجیح بنائیں تو معاشی مشکلات پر قابو پانا ناممکن نہیں۔ ہمیں قرض لینے والی معیشت سے قرض کم کرنے والی اور بالآخر خودکفیل معیشت کی جانب سفر جاری رکھنا ہوگا۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی ایک مثبت آغاز ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب پاکستان ایسی مضبوط معاشی بنیادیں استوار کر لے جہاں قومی ترقی کا انحصار بیرونی قرضوں کے بجائے اپنی پیداوار، اپنی صنعت، اپنی برآمدات اور اپنے وسائل پر ہو۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم قومی اتحاد، مالی نظم و ضبط اور خود انحصاری کی پالیسی کو اپنا شعار بنائیں۔ یہی راستہ پاکستان کو پائیدار معاشی استحکام، عالمی وقار اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔