خاموش نیکی کا سفر

بلال ظفر سولنگی
گاؤں کے کنارے ایک پرانا کنواں تھا جسے برسوں سے کوئی استعمال نہیں کرتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کا پانی خشک ہوچکا ہے، مگر گاؤں کا بوڑھا مؤذن حامد ہر فجر کے بعد کچھ دیر اس کنویں کے پاس ضرور بیٹھتا تھا۔ ایک صبح ایک نوجوان نے پوچھا، "بابا! یہاں کیا ڈھونڈتے ہیں؟”
حامد مسکرایا، "اپنا جواب۔”
نوجوان ہنس پڑا۔ "کنویں میں؟”
"کبھی کبھی جواب وہاں ملتا ہے جہاں انسان دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔”
نوجوان کا نام ساجد تھا۔ وہ کئی مہینوں سے بے روزگار تھا۔ شہر میں نوکریاں تلاش کرتارہا، قرض بڑھتا گیا، گھر میں حالات خراب ہوتے گئے۔ آخرکار اسے یقین ہوگیا کہ قسمت نے اس کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ اسی شام وہ گاؤں سے باہر ایک ویران مسجد کے صحن میں بیٹھا تھا۔ اس کی جیب میں آخری چند سو روپے تھے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ "یااللہ! میں نے بہت کوشش کرلی۔ اب میرے پاس کچھ نہیں بچا۔”
اسے حامد کی بات یاد آئی۔ وہ کنویں کے پاس پہنچا۔ کنواں واقعی خشک تھا۔ ساجد نے اندر جھانکا تو نیچے پتھروں کے درمیان ایک پرانا مٹی کا گھڑا نظر آیا۔ وہ چونکا۔ رسی کا بندوبست کرکے وہ کنویں میں اتر گیا۔ گھڑا نکالا تو اس میں پانی نہیں تھا۔ صرف ایک چھوٹا سا کپڑا تھا، جس میں چند پرانے سکے لپٹے ہوئے تھے۔ ساجد کے چہرے پر لمحے بھر کے لیے خوشی آئی، پھر بجھ گئی۔ "اتنے سکوں سے کیا ہوگا؟” وہ اوپر آنے لگا کہ اچانک اس کی نظر کنویں کی دیوار میں ایک دراڑ پر پڑی۔ دراڑ کے اندر ایک چھوٹا سا لکڑی کا صندوق پھنسا ہوا تھا۔
اس نے صندوق نکالا۔ اندر نہ سونا تھا، نہ زیور۔ ایک پرانی ڈائری تھی۔ ساجد نے اوپر آکر ڈائری کھولی۔ پہلے صفحے پر لکھا تھا: "جس شخص کو یہ ڈائری ملے، وہ اسے اپنے لیے نہ رکھے۔”
اگلے صفحات میں گاؤں کے لوگوں کے نام اور ان کے قرضوں کا حساب درج تھا۔ یہ ڈائری قریباً چالیس سال پرانی تھی۔ آخر میں ایک جملہ لکھا تھا: "میں نے لوگوں کے قرضے معاف کردیے ہیں، مگر کسی کو بتایا نہیں۔ اللہ جانتا ہے، یہی کافی ہے۔”
ساجد حیران رہ گیا۔ وہ ڈائری لے کر حامد کے پاس گیا۔ حامد نے اسے دیکھا تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ "یہ میرے والد کی ڈائری ہے۔”
"آپ کو معلوم تھا؟”
"نہیں۔”
پھر حامد نے ایک راز بتایا۔ ساجد کے والد بھی کبھی اس گاؤں میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ برسوں پہلے وہ شدید بیمار ہوئے تو حامد کے والد نے ان کے علاج کے اخراجات ادا کیے تھے مگر انہوں نے کبھی احسان نہیں جتایا۔ ساجد خاموش ہوگیا۔
اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ جس گھر میں وہ آج قرض اور تنگ دستی کی شکایت کررہا ہے، اس گھر کی بنیاد کبھی کسی کی خاموش نیکی پر رکھی گئی تھی۔
اگلے دن ساجد نے وہ چند سکے بیچنے کے بجائے ایک چھوٹی سی ریڑھی لگائی۔ وہ گھر گھر جاکر سبزیاں بیچنے لگا۔ آمدن بہت کم تھی، مگر اس نے ایک اصول بنالیا، ہر دن اپنی کمائی کا تھوڑا سا حصہ کسی ضرورت مند کے لیے رکھوں گا۔
کچھ ماہ بعد اس کی ریڑھی دکان بن گئی۔ ایک سال بعد دکان دو ہوگئیں۔ مگر ساجد نے اپنی دُکان کی دیوار پر وہی پرانی ڈائری رکھ دی۔ ایک دن اس کا بیٹا پوچھ بیٹھا: "ابا! یہ ڈائری اتنی اہم کیوں ہے؟”
ساجد نے جواب دیا: "کیونکہ اس نے مجھے بتایا کہ رزق صرف وہ نہیں جو ہمیں ملتا ہے، رزق وہ بھی ہے جو اللہ ہمارے ذریعے کسی اور تک پہنچاتا ہے۔”
بیٹا بولا: "لیکن آپ کو تو کنویں سے صرف پرانی ڈائری ملی تھی۔”
ساجد مسکرایا۔ "نہیں بیٹا۔۔۔ مجھے کنویں سے اپنی زندگی کا راستہ ملا تھا۔”
پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "میں سمجھتا رہا کہ اللہ میرے لیے راستہ کیوں نہیں کھول رہا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ راستہ بند نہیں تھا۔۔۔ میں غلط جگہ تلاش کررہا تھا۔”
زندگی میں کبھی کبھی ہم ایک ہی دروازے پر دستک دیتے رہتے ہیں اور جواب نہ ملنے پر سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہماری دعا قبول نہیں کی۔ مگر ممکن ہے جس دروازے کو ہم بند سمجھ رہے ہوں، وہ ہمیں کسی اور راستے کی طرف موڑ رہا ہو۔ مایوسی اکثر منزل کی خبر نہیں دیتی، صرف ہماری نظر کی کمزوری ظاہر کرتی ہے۔ اس لیے کوشش مت چھوڑیں۔ دعا مت چھوڑیں۔ اور سب سے بڑھ کر، نیکی مت چھوڑیں۔ کیونکہ ہوسکتا ہے آج آپ کسی کے لیے جو چھوٹی سی نیکی کررہے ہیں، کل وہی نیکی اللہ کے حکم سے آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا بن جائے۔ اللہ کے ہاں کوئی نیکی گم نہیں ہوتی۔