ملک کی آن بان شان۔۔۔ افواج پاکستان

احسن لاکھانی

کورونا وائرس کی وبا سے پوری دُنیا کی تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ چار سال ہوچکے ہیں، دُنیا میں اس نے بڑی تباہ کاریاں مچائیں، لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے۔ وطن عزیز میں بھی لاکھوں لوگ اس کی زد میں آئے اور ہزاروں اس کے باعث جاں بحق ہوئے۔ اس وبا کے دوران بھی پاک افواج کی خدمات ناقابل فراموش تھیں۔ کورونا وائرس کی وبا جیسے ہی پاکستان میں پھیلی ویسے ہی ڈر اور خوف کے سائے بھی ملک کے کونے کونے تک پھیل گئے۔ لوگ اپنے اور اپنے پیاروں کی جان کی حفاظت کے لیے گھر میں بیٹھ گئے اور خود کو محفوظ  رکھنے کے لیے ہر حفاظتی تدبیر کو اپنایا۔ جہاں عوام گھروں پر محدود ہوکر حکومت کی مدد کررہے تھے، وہیں سرحدوں پر، ملک کے اندرونی حصوں میں افواجِ پاکستان اور ان کے جوان ملک کو کورونا سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہے تھے۔

ساری چھٹیاں منسوخ کردی گئی تھیں، ڈیوٹی ٹائمنگ بڑھا دی گئی تھی اور کورونا پھیلنے کا خطرہ الگ سے۔ لیکن ان تمام تر خطرات کے باوجود بھی پاکستان آرمی فرنٹ پر آکر ملک کو اس وبا سے نجات دلانے میں سرگرم عمل تھی۔ انہیں اس بات کا ذرا بھی ڈر نہیں تھا کہ یہ کورونا ہمیں بھی متاثر کرسکتا ہے، ہمارا بھی گھر ہے، ہماری بھی فیملی ہے، ہمیں بھی دوسروں کی طرح اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیا جائے۔ ان کے لیے سب سے پہلے اپنا وطن پھر باقی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔

ایسی ہی ذمے داریوں کو ادا کرتے ہوئے بعض فوجی جوان کورونا کی وجہ سے شہید ہوئے۔ میں نے لفظ شہید استعمال کیا حالانکہ کورونا سے لڑتے ہوئے موت ہونے میں لفظ انتقال استعمال ہونا چاہیے۔ شہید کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کہ یہ جوان فرنٹ فٹ پر آکر ہم سب کے لیے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ ہم محفوظ رہیں اس لیے یہ کتنے ایسے لوگوں سے ملتے ہوں گے، اُن کو چیک کرتے ہوں گے جنہیں کورونا کا مرض لاحق ہوا ہو۔

ہمارے لیے خدمات انجام دیتے ہوئے اگر کوئی بھی ادارے کا فرد انتقال کر جائے تو اُسے شہید ہی قرار دیا جائے گا، یہی اسلام بھی بتاتا ہے کہ ملک و قوم کے لیے وبا کے دنوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے کوئی جاں بحق ہوگیا تو وہ شہید ہوگا۔ صرف کورونا وبا پر کی کیا موقوف، ملک و قوم پر جب بھی کوئی مشکل وقت آتا ہے، قدرتی آفات نازل ہوتی ہیں، زلزلہ یا سیلاب آتے ہیں تو افواج پاکستان ہی سب سے پہلے پہنچتی اور بحالی کی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہوجاتی ہیں۔

دشمن وطن عزیز کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ افواج پاکستان ہی اُن کے ابتدا سے ہی دانت کھٹے کرتی چلی آئی ہیں اور آئندہ بھی کرتی رہیں گی۔ ہماری افواج وطن کی حفاظت کی ذمے داری احسن انداز میں نبھارہی ہیں۔ وطن کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے ہر افسر اور جوان اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ وطن کی خوش قسمتی کہ اسے بہادر سپوت بہت بڑی تعداد میں میسر ہیں، جو وطن کی حفاظت کے لیے ہر قدم چوکس و تیار رہتے ہیں۔ وطن پر قربان ہونے والا ہر بہادر شہید اور اس کے لواحقین قابل عزت و احترام ہیں۔ پاک افواج قوم کا فخر ہیں۔

 

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔