خاموش نیکی، بڑی کامیابی

عبدالعزیز بلوچ
گاؤں کی مسجد میں فجر کی اذان ہونے ہی والی تھی۔ ہر طرف خاموشی تھی، صرف پرندوں کی مدھم چہچہاہٹ سنائی دے رہی تھی۔ اسی خاموشی میں ستر سالہ حاجی عبدالرحمٰن اپنی لکڑی کی لاٹھی کے سہارے مسجد کی طرف جارہے تھے۔ چہرے پر نور، لباس سادہ اور آنکھوں میں عجیب سی طمانیت تھی۔ گاؤں والے اکثر کہتے تھے، "حاجی صاحب کے پاس نہ دولت ہے، نہ بڑی زمین، مگر سکون ایسا ہے جیسے دنیا کی ہر نعمت انہی کے پاس ہو۔”
اسی گاؤں میں ایک نوجوان بھی رہتا تھا، اس کا نام حارث تھا۔ شہر میں بڑی نوکری کرتا تھا، مہنگی گاڑی، قیمتی موبائل اور ہر آسائش اس کے پاس تھی، مگر دل بے چین تھا۔ راتوں کو نیند نہیں آتی تھی۔ ہر کامیابی کے بعد بھی ایک عجیب سی خالی جگہ محسوس ہوتی تھی۔ ایک دن اس نے حاجی عبدالرحمٰن سے پوچھا، "حاجی صاحب! میرے پاس سب کچھ ہے، پھر بھی سکون کیوں نہیں؟”
حاجی صاحب مسکرائے اور بولے، "بیٹا، کل فجر کے بعد میرے ساتھ چلنا، تمہیں جواب مل جائے گا۔”
اگلی صبح دونوں گاؤں سے باہر ایک ویران راستے پر نکل گئے۔ کچھ دور چلنے کے بعد انہوں نے ایک بوڑھی خاتون کو دیکھا جو لکڑیاں اٹھانے کی کوشش کررہی تھی۔حاجی صاحب نے فوراً اس کی لکڑیاں اپنے کندھے پر رکھ لیں اور کافی فاصلہ طے کرکے اس کے گھر پہنچادیں۔
حارث حیران تھا۔ اس نے پوچھا، "آپ نے اپنی عمر دیکھی؟ اتنی محنت کیوں کی؟” حاجی صاحب نے صرف اتنا کہا، "کبھی کبھی کسی کا بوجھ اٹھانے سے اپنا دل ہلکا ہوجاتا ہے۔” واپسی پر ایک زخمی کتا راستے میں پڑا تھا۔ لوگ ناک پر رومال رکھ کر گزر رہے تھے۔ حاجی صاحب رک گئے۔ اپنے رومال سے اس کا زخم صاف کیا، پانی پلایا اور ایک جانوروں کے ڈاکٹر کو بلالیا۔ حارث نے حیرت سے کہا، "یہ تو صرف ایک کتا ہے۔”
حاجی صاحب نے اس کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولے، "اللہ کے نزدیک یہ ‘صرف’ نہیں، اس کی بھی ایک جان ہے۔ رحم صرف انسانوں پر نہیں ہوتا۔” یہ الفاظ سیدھے حارث کے دل میں اتر گئے۔ چند دن بعد شہر جاتے ہوئے حارث نے دیکھا کہ ایک مزدور کی موٹر سائیکل خراب ہوگئی ہے۔ پہلے تو وہ آگے بڑھ گیا، پھر اچانک حاجی صاحب کی بات یاد آئی۔ اس نے بائیک واپس موڑی، مزدور کی موٹر سائیکل کو ٹوہ کرکے مکینک تک پہنچایا اور اپنے راستے پر گامزن ہوگیا۔
اس رات کئی مہینوں بعد اسے سکون کی نیند آئی۔ رفتہ رفتہ اس کی زندگی بدلنے لگی۔ وہ ہر جمعہ کسی غریب کے گھر راشن رکھ آتا۔ راستے میں پرندوں کے لیے پانی رکھ دیتا۔ دفتر میں کسی کی غلطی پر ڈانٹنے کے بجائے معاف کرنا سیکھ گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اصل خوشی لینے میں نہیں، دینے میں ہے۔ کچھ مہینے گزر گئے۔ ایک دن خبر آئی کہ حاجی عبدالرحمٰن شدید بیمار ہیں۔ پورا گاؤں ان کے گھر جمع ہوگیا۔ حارث بھی بھاگا بھاگا پہنچا۔
حاجی صاحب نے کمزور آواز میں کہا، "بیٹا… ایک وعدہ کرو۔” "جی حاجی صاحب!” "لوگوں کے دل جوڑنا… کبھی کسی کا دل مت توڑنا… اللہ ٹوٹے ہوئے دل کے بہت قریب ہوتا ہے۔”
یہ کہہ کر انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا، کلمہ پڑھا اور خاموش ہوگئے۔
پورا گھر رونے لگا۔ جنازے کے دن ایک عجیب منظر تھا۔ وہ بوڑھی خاتون بھی آئی جس کی لکڑیاں حاجی صاحب نے اٹھائی تھیں۔ وہ مزدور بھی آیا جس کی بیٹی کی شادی میں حاجی صاحب نے خفیہ مدد کی تھی۔ وہ یتیم بچے بھی آئے جن کی فیس ہر سال خاموشی سے ادا ہوتی رہی۔ حارث کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
اسی رات اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی آمدن کا ایک حصہ ہمیشہ کے لیے مستحق لوگوں کے نام کردیا۔ گاؤں میں پانی کے برتن رکھوائے۔ درخت لگانے کی مہم شروع کی۔ یتیم بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھایا۔ اور ہر نیکی کے بعد صرف ایک دعا مانگتا: یااللہ! یہ میرے نامۂ اعمال میں اس دن کے لیے رکھ لینا، جب میرے پاس تیرے سامنے پیش کرنے کو کچھ نہ ہوگا۔
سال گزر گئے۔ اب لوگ حارث کو دیکھ کر کہتے تھے، "یہ شخص پہلے بہت امیر تھا، مگر اب واقعی خوش نصیب ہوگیا ہے۔” ایک دن اس کا بیٹا اس سے پوچھ بیٹھا: "ابو! آپ ہر نیکی چھپا کر کیوں کرتے ہیں؟” حارث کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ بولا: "بیٹا! آواز والی نیکی دنیا کو خوش کرتی ہے، مگر خاموش نیکی اللہ کو۔” پھر اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "حاجی صاحب! آپ کا سبق آج بھی زندہ ہے۔”
اس دن اسے احساس ہوا کہ انسان کی اصل میراث اس کا بینک بیلنس، جائیداد یا شہرت نہیں ہوتی، بلکہ وہ دعائیں ہوتی ہیں جو کسی یتیم کے ہونٹوں سے نکلتی ہیں، وہ مسکراہٹ ہوتی ہے جو کسی مجبور کے چہرے پر آتی ہے اور وہ پانی کا ایک پیالہ ہوتا ہے جو کسی پیاسے پرندے کی پیاس بُجھا دیتا ہے۔
سبق: زندگی بہت مختصر ہے۔ دولت، شہرت اور عہدے یہیں رہ جاتے ہیں، مگر ایک چھپی ہوئی نیکی، ایک ٹوٹے دل کو دیا گیا سہارا، ایک یتیم کے سر پر رکھا گیا ہاتھ اور اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ایک معمولی سا عمل، قیامت کے دن انسان کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ بن سکتا ہے۔ اس لیے آج ہی کسی کی مدد کیجیے، کسی کو معاف کیجیے، کسی بھوکے کو کھانا کھلائیے اور کسی بے زبان پر رحم کیجیے۔ ہوسکتا ہے یہی وہ عمل ہو جو جنت کے دروازے تک آپ کا ہاتھ تھام لے۔