سمندری پانی بلڈپریشر کے خطرات میں اضافے کا باعث

فلوریڈا: نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پینے کے پانی میں رِسنے والا سمندر کا پانی لوگوں میں بلڈ پریشر کا سبب بن سکتا ہے اور ان میں قلبی مرض اور اسٹروک کے خطرات بھی بڑھا سکتا ہے۔
فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے دنیا بھر سے 74 ہزار سے زائد افراد پر کیے گئے متعدد مطالعوں کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ لوگ جن کے پینے کا پانی زیادہ نمکین ہوتا ہے، ان کا بلڈپریشر زیادہ ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔
تجزیے کے مطابق نمکین پانی پینا اتنا ہی خطرناک ہوتا ہے جتنا غیر فعال رہنا۔
سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ یہ تعلق ساحلی علاقوں میں زیادہ پایا گیا، جہاں سمندر کا پانی، پینے کے پانی کو متاثر کررہا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔