بھلائی کا صلہ

حسان احمد
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ارحام نامی نوجوان رہتا تھا۔ اس کی زندگی عام لوگوں جیسی نہیں تھی۔ غربت اس کے گھر کی دہلیز پر ایسے بیٹھی تھی جیسے وہی اس گھر کی اصل مالک ہو۔ اس کے والد بیمار رہتے تھے اور ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرکے گھر کا خرچ چلاتی تھی۔ ارحام نے بچپن ہی سے یہ سیکھ لیا تھا کہ زندگی آسان نہیں ہوتی، لیکن اس نے کبھی شکایت نہیں کی۔
ارحام کا ایک خواب تھا، وہ پڑھ لکھ کر کچھ بننا چاہتا تھا، تاکہ اپنے ماں باپ کو ایک بہتر زندگی دے سکے۔ مگر حالات اس کے خوابوں کے راستے میں دیوار بن کر کھڑے تھے۔ وہ دن میں مزدوری کرتا اور رات کو ٹوٹے ہوئے چراغ کی مدھم روشنی میں پڑھائی کرتا۔ کئی بار تھکن سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگتیں، مگر وہ خود کو جھنجھوڑ کر دوبارہ کتاب کھول لیتا۔ ایک دن گاؤں میں ایک حادثہ ہوا۔ ایک بوڑھا شخص سڑک پر گر گیا اور لوگ اسے دیکھ کر گزرنے لگے۔ کسی کے پاس وقت نہیں تھا، کسی کو پروا نہیں تھی۔ ارحام وہاں سے گزرا تو اس نے فوراً اس بوڑھے کو اٹھایا، پانی پلایا اور اسے اپنے کندھے پر ڈال کر قریبی اسپتال لے گیا۔ اس دن اس نے اپنی مزدوری بھی چھوڑ دی، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اس کے گھر میں اس دن کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔
بوڑھے شخص نے ارحام کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “بیٹا، تم نے آج میرے لیے جو کیا ہے، وہ شاید میرا اپنا بھی نہ کرتا۔” ارحام نے مسکرا کر جواب دیا، “انسانیت کا رشتہ سب سے بڑا ہوتا ہے، بابا جی۔”
دن گزرتے گئے اور ارحام کی مشکلات بڑھتی گئیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اسے اپنی پڑھائی چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا، کیونکہ گھر کا خرچ اٹھانا زیادہ ضروری ہو گیا تھا۔ اس دن وہ بہت رویا۔ اس نے اپنی کتابوں کو سینے سے لگا کر کہا، “میں تمہیں چھوڑ تو رہا ہوں، مگر تمہیں بھولوں گا نہیں۔” اسی دوران ایک حیران کن واقعہ ہوا۔ وہی بوڑھا شخص، جس کی ارحام نے مدد کی تھی، دراصل ایک بڑے تعلیمی ادارے کا ریٹائرڈ پروفیسر تھا۔ وہ ارحام کو ڈھونڈتے ہوئے اس کے گھر پہنچا۔ اس نے ارحام کے حالات دیکھے اور اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ “بیٹا، تم نے میرے ساتھ جو بھلائی کی تھی، آج وقت ہے کہ میں اس کا بدلا ادا کروں۔” ارحام حیران رہ گیا۔ “بدلہ؟ میں نے تو صرف اپنا فرض ادا کیا تھا،” ارحام نے آہستہ سے کہا۔
بوڑھے شخص نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، “دنیا میں بھلائی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ تم نے ایک انسان کو سہارا دیا تھا، آج اللہ نے مجھے تمہارا سہارا بننے کے لیے بھیجا ہے۔” اس دن کے بعد ارحام کی زندگی بدلنے لگی۔ اسے دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ محنت کرنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں ایک نیا عزم تھا، صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ ان سب لوگوں کے لیے جو اس کی طرح مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔
بالآخر برسوں کی محنت و ریاضت کے بعد، ارحام ایک کامیاب انسان بن گیا۔ اس کے پاس دولت بھی تھی اور عزت بھی، مگر اس کے دل میں وہی سادگی تھی۔ اس نے اپنے گاؤں میں ایک اسکول بنایا، جہاں غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔ اس نے ایک چھوٹا سا اسپتال بھی قائم کیا، تاکہ کوئی بھی شخص صرف پیسوں کی کمی کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہ سکے۔
ایک دن وہی بوڑھا پروفیسر، جو اب بہت ضعیف ہو چکا تھا، ارحام کے پاس آیا۔ ارحام نے اسے گلے لگالیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ “بیٹا، مجھے تم پر فخر ہے،” بوڑھے نے کمزور آواز میں کہا۔ ارحام نے اس کے ہاتھ پکڑ کر کہا، “اگر اس دن آپ مجھے نہ ملتے، تو شاید میں آج یہاں نہ ہوتا۔” بوڑھے نے مسکرا کر جواب دیا، “نہیں بیٹا، تم یہاں اپنی بھلائی اور نیت کی وجہ سے پہنچے ہو۔ میں تو صرف ایک ذریعہ تھا۔” چند دن بعد وہ بوڑھا دنیا سے رخصت ہوگیا۔ ارحام اس کی قبر کے پاس بیٹھ کر دیر تک روتا رہا۔ اس کے دل میں ایک ہی بات گونج رہی تھی، “اچھائی کبھی ضائع نہیں جاتی۔”
اس دن ارحام نے عہد کیا کہ وہ اپنی زندگی دوسروں کی مدد کے لیے وقف کردے گا۔ اس نے اپنے اسکول اور اسپتال کو مزید وسعت دی اور ہر اس شخص کا سہارا بنا جو زندگی سے ہار چکا تھا۔ کہانی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ نہیں تھا کہ ارحام کامیاب ہوگیا، بلکہ یہ تھا کہ وہ اپنی کامیابی کے باوجود انسانیت کو نہیں بھولا۔
یہ دنیا اکثر ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنے فائدے کے بارے میں سوچو، مگر ارحام نے یہ ثابت کیا کہ اصل کامیابی دوسروں کے لیے جینے میں ہے۔ اور شاید یہی وہ سبق ہے جو ہمیں رُلا دیتا ہے کہ ہم زندگی بھر بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر آخر میں یاد صرف وہ لمحے رہ جاتے ہیں جب ہم نے کسی کے آنسو پونچھے ہوتے ہیں۔