امن معاہدہ: تیل قیمتوں میں بڑی کمی، خام تیل فی بیرل 80 ڈالر کا ہوگیا
واشنگٹن/ تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی سے متعلق مثبت پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق رائے کی خبروں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تین ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل قریب کے معاہدوں میں اس کی قیمت میں 2.02 ڈالر یا 2.4 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 81.15 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ ایک موقع پر برینٹ خام تیل 80.89 ڈالر فی بیرل تک گرگیا جو 4 مارچ کے بعد کم ترین سطح ہے۔
اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 2.22 ڈالر یا 2.8 فیصد کمی دیکھی گئی جس کے بعد یہ 78.53 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ ایک موقع پر یہ بھی 78.27 ڈالر فی بیرل تک گرگیا تھا جو 10 مارچ کے بعد سب سے کم سطح سمجھی جارہی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہوتی یہ کمی اس تاثر کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول پر آنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
دھیان رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے اس خطے میں کشیدگی یا امن براہِ راست تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان امن جاری رہتا ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال رہتی ہے تو عالمی توانائی منڈیوں میں سپلائی کے خدشات مزید کم ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔