نئے صوبے: ریاست سے فاصلے کم کرنے کا سفر

وقاص بیگ
کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا اندازہ اس کے بلند و بالا ایوانوں، وسیع شاہراہوں یا بڑے شہروں کی چمک دمک سے نہیں لگایا جاسکتا۔ ریاست کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک عام شہری، جو اقتدار کے مراکز سے سیکڑوں میل دُور رہتا ہے، اپنے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے خود کو بے بس محسوس نہ کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان میں نئے صوبوں اور نئی انتظامی اکائیوں کی بحث محض سیاسی نعرہ نہیں رہتی بلکہ ایک سنجیدہ قومی سوال بن جاتی ہے۔
آخر ایسا کیوں ہے کہ ملک کے بعض حصوں میں وسائل، ادارے، روزگار اور ترقی کے مواقع نسبتاً زیادہ مرکوز ہیں جب کہ وسیع جغرافیائی علاقوں میں رہنے والے شہری بنیادی سہولتوں کے لیے بھی طویل انتظار کرتے ہیں؟ کیا ایک ہی انتظامی مرکز سے بہت بڑے اور متنوع علاقوں کے مسائل کو یکساں رفتار اور یکساں توجہ کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے؟ شاید اب ہمیں سوال ہی بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں کہ نیا صوبہ بنے گا یا نہیں؟ بلکہ یہ کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کی موجودہ ضروریات پوری کرنے کے قابل ہے یا نہیں؟
پاکستان کی آبادی، شہری پھیلاؤ، معاشی ضروریات اور علاقائی پیچیدگیاں کئی دہائیاں پہلے کے مقابلے میں بہت بدل چکی ہیں۔ مگر ہمارے انتظامی ڈھانچے کے کئی بنیادی حصے اب بھی اسی سوچ کے ساتھ کام کررہے ہیں جس میں فیصلہ سازی کا مرکز جتنا دُور ہو، عام شہری کی آواز اُتنی ہی کمزور ہوجاتی ہے۔ نئے صوبوں کی بحث کا ایک اہم پہلو اختیار کی قربت ہے۔ جب فیصلہ لینے والا ادارہ شہری کے قریب ہو تو مسئلے کی نوعیت بھی زیادہ واضح ہوتی ہے۔ مقامی حکومت کو معلوم ہوتا ہے کہ کہاں اسپتال چاہیے، کس علاقے میں اسکول کی عمارت ضروری ہے، کون سی سڑک معاشی سرگرمی کے لیے اہم ہے اور کس علاقے میں پانی یا نکاسی آب کا مسئلہ فوری توجہ چاہتا ہے۔ اس کے برعکس جب ہر اہم فیصلہ ایک دور دراز مرکز کی طرف دیکھتا رہے تو فائل کا سفر شہری کی ضرورت سے زیادہ طویل ہوجاتا ہے۔ لیکن نئے صوبوں کا معاملہ صرف انتظامی کارکردگی تک محدود نہیں۔ یہ مقامی قیادت پیدا کرنے کا بھی سوال ہے۔
ایسے علاقوں میں جہاں نوجوان اپنی صلاحیت کے باوجود یہ محسوس کرتے ہیں کہ بڑے فیصلے ہمیشہ کہیں اور ہوتے ہیں، وہاں اختیارات کی علاقائی تقسیم نئی قیادت کے دروازے کھول سکتی ہے۔ مقامی سطح پر انتظامی، سیاسی اور معاشی ذمے داریاں بڑھیں گی تو نئی نسل کے سامنے قیادت اور خدمت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑے انتظامی یونٹ میں دور دراز علاقوں کا مسئلہ اکثر اعداد و شمار میں ایک معمولی نقطہ بن جاتا ہے جب کہ چھوٹی اکائی میں وہی مسئلہ حکومت کی ترجیح بن سکتا ہے۔ یہی فرق ترقی اور محرومی کے درمیان فاصلے کو کم کرسکتا ہے۔
نئے صوبوں کا ایک اور اہم پہلو معاشی توازن ہے۔ اگر ہر نئی انتظامی اکائی اپنے علاقے کی معاشی صلاحیت، زرعی پیداوار، صنعت، معدنیات، سیاحت، بندرگاہوں، تجارت اور انسانی وسائل کو ایک مربوط منصوبے کے تحت استعمال کرے تو ترقی کا عمل چند بڑے شہروں تک محدود رہنے کے بجائے نئے معاشی مراکز پیدا کرسکتا ہے۔ ہمیں ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں نوجوان کو روزگار کے لیے صرف چند بڑے شہروں کا رُخ نہ کرنا پڑے، جہاں چھوٹے شہروں میں بھی صنعت لگے، جامعات مضبوط ہوں، اسپتال جدید ہوں اور کاروبار کے لیے بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔
اس بحث میں وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے علاقے سے حاصل ہونے والے وسائل، ان کے علاقے کی ضرورتوں پر کس حد تک خرچ ہوتے ہیں۔ شفاف نظام، واضح مالی اختیارات اور مضبوط مقامی احتساب کے بغیر کوئی بھی نیا انتظامی ڈھانچہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس لیے نئے صوبوں کا مطلب صرف نئے وزیراعلیٰ، نئی اسمبلی یا نئے دفاتر نہیں ہونا چاہیے۔ نئے صوبے کا مطلب نیا انتظامی معاہدہ ہونا چاہیے۔ ایسا معاہدہ جس میں اختیار کے ساتھ ذمے داری ہو، وسائل کے ساتھ حساب ہو، عہدے کے ساتھ کارکردگی ہو اور حکومت کے ساتھ عوام کی براہِ راست شمولیت ہو۔
یہاں ایک اور سوال بھی اہم ہے۔ کیا نئے صوبوں کی مخالفت صرف اس خوف سے ہونی چاہیے کہ اس سے موجودہ سیاسی طاقت کا توازن بدل جائے گا؟ اگر کوئی انتظامی تبدیلی عوامی سہولت، بہتر حکمرانی، معاشی مواقع اور منصفانہ نمائندگی پیدا کرسکتی ہے تو اسے صرف سیاسی مصلحت کی نظر سے دیکھنا دانش مندی نہیں۔ البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ نئے صوبوں کا قیام جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی مفادات کے بجائے قومی اتفاقِ رائے، آئینی طریقہ کار، معاشی حقیقتوں اور انتظامی صلاحیت کو سامنے رکھ کر ہو۔
ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ نئی اکائی بننے کے بعد عام آدمی کی زندگی میں کیا بدلے گا۔ کیا سرکاری اسپتال بہتر ہوگا؟، کیا اسکول تک رسائی آسان ہوگی؟، کیا نوجوان کو اپنے علاقے میں روزگار ملے گا؟، کیا پولیس اور انتظامیہ زیادہ جواب دہ ہوگی؟، کیا کاروبار کے لیے اجازت نامے اور سرکاری کارروائیاں آسان ہوں گی؟، اگر ان سوالات کا جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو پھر نئے صوبوں کی بحث کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیے۔ کیونکہ قومیں صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کا عام شہری یہ محسوس کرے کہ ریاست اسے دیکھ، سن رہی ہے اور اس کے مسائل کو اہم سمجھتی ہے۔ نئے صوبوں کا مقصد کسی علاقے کو دوسرے سے لڑانا نہیں، کسی شناخت کو مٹانا نہیں اور ملک کو کمزور کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کے ہر حصے کو ترقی کا یکساں موقع ملے، ہر شہری کو اپنی آواز کا وزن محسوس ہو اور حکومت کا ہاتھ عوام سے اتنا دور نہ ہو کہ اسے اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے احتجاج کرنا پڑے۔ آج پاکستان کو صرف نئی سڑکوں، نئی عمارتوں اور نئے منصوبوں کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کو نئے انتظامی وژن کی ضرورت ہے۔ ایسا وژن جس میں اقتدار مرکز سے نکل کر عوام کے قریب آئے، فیصلے تیز ہوں، وسائل شفاف ہوں، ادارے پیشہ ور ہوں اور جواب دہی کسی ایک شہر یا دفتر تک محدود نہ رہے۔ آخرکار سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو کتنے صوبے چاہئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے کتنے شہری آج بھی اپنے ہی ملک میں فیصلوں سے دور کھڑے ہیں؟
اگر نئے صوبے اس فاصلے کو کم کرسکتے ہیں تو پھر اس بحث سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے دلیل، آئین اور قومی مفاد کے ساتھ آگے بڑھانے کا وقت آچکا ہے۔ نقشہ بدلنا مقصد نہیں، مقصد یہ ہے کہ شہری کی قسمت بدلے۔ اور جس انتظامی تبدیلی سے ریاست اپنے عوام کے قریب آجائے، اسے تقسیم نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کی طرف ایک قدم سمجھنا چاہیے۔