بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں پر بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سختی کی، چمن بارڈر پر ایک بہت بڑا احتجاج بھی ہوا، لوگ کہتے ہیں نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی سیاسی نہ قوم پرست شناخت ہے، بنیادی طور پر کاروباری نقصانات کے ازالے کے لیے تحریک چلائی جارہی ہے، یہ لوگ یومیہ تیل کی اسمگلنگ سے 4 ارب روپے کمارہے تھے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ لوگ ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کررہے ہیں، بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں کا گٹھ جوڑ بن چکا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں تین روز کے دوران 177 دہشت گرد مارے گئے، 16 جوان اور 33 عام شہری شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں پر بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔